Monday, 17 December, 2018
دو افراد کی دوستی سے دو ممالک کی دوستی تک

دو افراد کی دوستی سے دو ممالک کی دوستی تک
تحریر: ارباب جہانگیر ایدھی

 

قدرت کی طرف سے اشرف المخلوق انسان کیلئے زمین و آسمان و دیگر قدرتی وسائل و ذخائر پیدا کیے گئے تاکہ انسان اپنی نسل کی افزائش ممکن بنا سکے اور دوسرے انسانوں کے ساتھ مل جل کر ایک خوشحال و پرامن زندگی کا قیام عمل میں لائے۔ زمین پر سات براعظم ہیں اور ان سات براعظموں میں مختلف مذاہب اور رنگ و نسل پر مشتمل سینکڑوں ممالک موجود ہیں ۔ان ممالک میں کئی ثقافتوں، زبانوں، قوموں، فرقوں اور گروہوں پر مشتمل لوگ اپنے اپنے رسم ورواج کے ساتھ اپنی زندگی میں مگن قیام پذیر ہیں۔

انسانی تخلیق سے اب تک انسانوں کاایک دوسرے سے اختلاف چلا آرہا ہے جن کی بنیادی وجوہات میں سیاست، مذہب، زن، زر، زمین، زبان، رنگ و نسل ، امیر ی و غریبی، ظلم، استحصال اور لالچ وغیرہ شامل ہیں لیکن جہاں اختلافات سے انسانوں کو مختلف ادوار میں کئی جنگوں کے دوران قتل و غارت کا سامنا کرنا پڑا جن سے دنیا بھر کی لائبریریاں بھری پڑی ہیں وہاں انسانوں کی بے مثال دوستی، اخوت، بھائی چارے، اخلاق و مساوات سے جنگ کے میدانوں کو گلستان میں بدلتے ہوئے بھی شاندار تاریخ رقم کی گئی۔

قدرت کی طرف سے دنیا بھر کے تمام انسانوں کی بنیادی اساس ایک ہی ہے مگر اس کے جنم سے موت تک کے سفر کے دوران اس کے مذہب، زبان، ثقافت، رہن و سہن اور رسم و رواج کا فیصلہ اس کے خاندان پر منحصر ہوتا ہے اور اسی طرح دنیا بھر میں روزانہ کئی ہزار بچے ایک اساس ہونے کے باوجود مختلف ممالک میں مختلف مذاہب، زبان، ثقافت کے ساتھ پیدا ہوکر مختلف مذاہب، فرقوں، ملکوں کی بڑھوتری میں اضافہ کررہے ہیں۔

دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ہر مذہب کی بنیادی اساس انسانیت، امن اورخوشحالی پر مبنی ہے مگر ہر مذہب کے پیروکاروں کی عبادت کا طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہے اور ہر مذہب بالخصوص دین اسلام دنیا بھر کے انسانوں کیلئے محبت، اخلاق، احترام اور احساس کا درس دیتا ہے اور انسانوں کو دوسرے انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور بھلائی کا درس دیتاہے۔

اگر سابقہ صدی کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو دنیا کے کئی ممالک کے درمیان سیاسی ودیگر اختلافات کی وجہ سے جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد کا قتل عام ہوا لیکن پھر وقت کے دھارے کو بدلتے ہوئے دیکھا کہ سالوں کے جانی دشمن ممالک سب اختلافات بھلا کر عوام کی بھلائی و امن و خوشحالی اور معاشی ترقی کیلئے سب نفرتوں، کدورتوں، مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک ہوگئے اور عوام کو اس آگ کی مزید بھینٹ چڑھنے سے بچا لیا جن میں جرمنی و فرانس اور شمالی و جنوبی کوریا شاندار مثالیں دنیا کے سامنے ہیں۔

1947ء میں قومیت کی بنیاد پرتقسیم کے نتیجے میں پاکستان و ہندوستان الگ تو ہوگئے مگر جغرافیائی حد بندیوں میں امتیازی تقسیم کے نتیجے میں جواختلافات پیدا ہوئے وہ آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی دو تین جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فوجی نوجوانوں و بے قصور معصوم عوام کی جانوں کو قربان کرنے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان نفرت کی دیوار جو ں کی توں قائم ہے اور یہی نفرت کی دیواراب تک ہزاروں لاکھوں معصوم بے گناہ کشمیری عوام کو اپنے تلے روندتی چلی آرہی ہے۔

پاکستان کی سات دہائیوں پر مشتمل تاریخ میں کئی سیاسی وآمروں کی حکومتیں رہیں اور ہر بارعہد وپیمان کے باوجود کبھی کوئی آج تک پاک و بھارت کے درمیان نفرت کی فضاء کو مٹا نہیں سکا اور جہاں مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ میں رکاوٹ کا بنیادی سبب رہا وہیں اختلافات کی اور بھی وجوہات رہیں جن میں دہشت گردی، قومی سلامتی میں دخل اندازی وغیرہ شامل ہیں ۔ 
موجودہ سال دونوں ممالک بالخصوص پاکستا ن کیلئے ایک خاص تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا کہ پہلی بار ایک ایسی سیاسی جماعت کی حکومت بنی جو کہ روایت سے ہٹ کر خالصتا عوا م کی فلاح و بہبود اورعدل انصاف و پرامن و خوشحال ملک کا خواب لے کر آئی اور اس نے آتے ہی اپنے پہلے سو دن میں جہاں پاکستان کے نظام میں شفافیت، عدل وانصاف اور قانون کی پاسداری پر اپنی راہیں ہموار کیں وہیں پچھلی سات دہائیوں سے ترسے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کی سکھ برادری کیلئے ایک فرشتہ ثابت ہوئے اور ان کے قدیم خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی ٹھان لی اور دونوں ملکوں کے درمیان نفرت کی دیوار کو پس پشت ڈال کر عوام کی خوشی اور امن کی امید لیے سکھ قوم کیلئے بابا گورونانک دربار سے کرتارپور دربار تک ایک ویزہ فری راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور یقین دلا یا کہ یہ محبت اور امن کی جانب پاکستان کا پہلا قدم ہے ۔

اگر چھوٹی سی مثبت سوچ پیدا کرنے سے دنیا بھر کے دس کروڑ سکھ برادری بالخصوص بھارت میں مقیم اڑھائی کروڑ سکھ قوم کی خوشی قابل دید ہے جو اسے ایک معجزے سے کم نہیں سمجھ رہے۔

دنیا میں ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے اورآج وہی ممالک ترقی یافتہ ہیں جنہوں نے اپنے اختلافات مٹا کر معاشی ترقی وا من کو اپنا مقصد بنا کر نفرت کی دیوار کو گرادیا اور آج ایسی ہی ایک چھوٹی سی کاوش سے کروڑوں سکھوں کو کامیابی، خوشحالی اور امن ملا ہے تو کیا سات دہائیوں سے روز قربانی کی بھینٹ چڑھنے والی بے قصور کشمیری عوام کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا؟ پاکستان میں تو تبدیلی کی فضاء قائم ہوچکی ہے اور اس کا حالیہ نمونہ دنیا کے سامنے ہے مگر اب بھارت کو بھی خواہ مخواہ کی ہٹ دھرمی ختم کر کے مذاکرات کرنے چاہیے اور اپنے تمام تحفظات دور کرنے چاہیے مگر نیک نیتی سے!! کیونکہ یہ پانچ سال بعد ہونے والے الیکشن کے مذاکرات نہیں بلکہ یہ معصوم، بے گناہ ، نہتے انسانوں کی جانوں کے مذاکرات ہیں ۔

میری دونوں ممالک کے ارباب اختیار و اقتدار سے درخواست ہے کہ اگر دو افراد کی دوستی سے دو دشمن ممالک کے درمیان ایک امن راہداری قائم کی جاسکتی ہے تو باقی مسائل کا حل بھی خوش اسلوبی سے حل کیا جاسکتا ہے۔تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے تو دونوں نیت کریں کہ ہمیں نفرت کی دیوار کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گرا کر گلستان کے جوہر آباد کرنے ہیں تب ہمارے ممالک ترقی بھی کریں گے اور بے جا جانوں کا نقصان بھی نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  67574
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آج کل پاک چین دوستی کے 65 سال مکمل ہونے کی تقریبات پورے ملک میں منائی جا رہی ہیں اور ہماری حکومت اس سلسلے میں بڑی مستعد ہے۔ کہیں پاکستان اور چین کے جھنڈے باہم آویزاں ہیں

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے والے خاندانوں کے دل کی کیفیت اور کرب تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں
امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے کہ امریکہ یمن سعودی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے دستبردار ہو جائے.امریکہ کی وزارت خارجہ کے وزیر پومپیو نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کی منظور کی گئی قرارداد کا احترام کریں گے.
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ گرفتار ہوا تو کیا ہوگا، جیل دوسرا گھر ہے، ان کو غلط فہمی ہے کہ ہم خوف میں مبتلا ہیں، اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ سیاست سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، ان کو کھیلنا آتا ہی نہیں، یہ انڈر 16 کھلاڑی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا اور والدین کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کو نہیں بھولے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں