Friday, 16 November, 2018
نبی ﷺ کا پیار، خاکوں کا منصوبہ دھول ہوگیا

نبی ﷺ کا پیار، خاکوں کا منصوبہ دھول ہوگیا
تحریر: ثاقب اکبر

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور پیار رنگ لے آیا۔ آخرکار ہالینڈ میں توہین آمیز خاکوں کا منصوبہ دھول بن کر اڑ گیا۔ اگرچہ اس مسئلے کو مغرب نے پھر منفی انداز سے پیش کیا ہے اور اس منصوبے کو خطرات اور دھمکیوں کے سبب منسوخ کئے جانے کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کیا ہے، لیکن اس سے اس کے علاوہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی تھی، کیونکہ یہ منصوبہ اولاً کسی انسانی قدر کی نمائش پر مشتمل نہ تھا بلکہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے دلوں میں بسنے والے اور ان کی محبوب ترین ہستی کی توہین پر مشتمل تھا۔ اس میں ”آزادی رائے“ کے حق کو بنیاد بنانا سرے سے انسانوں کو بے وقوف بنانے کے ارادے کا غماز تھا۔ یہ کون سی آزادی رائے ہے کہ جس کے ذریعے دنیا کی انتہائی محبوب اور بلند مرتبہ دینی ہستیوں کی توہین کی جائے۔
 
دوسری طرف مغرب جن منافقانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، انھیں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معاملہ اظہار رائے کی آزادی کا نہیں بلکہ مسلمانوں کو اذیت دینے کا ہے۔ یا پھر ان کا خیال ہے کہ ہم مسلمانوں کو اس امر کا عادی بنا دیں کہ ان کے سامنے ان کے پیغمبر کی یا مقدس ترین کتاب قرآن کی توہین ہوتی رہے اور وہ اس پر کوئی ردعمل نہ کریں، یوں آہستہ آہستہ وہ اس کے عادی ہو جائیں۔ ایسی تمام کوششیں ماضی میں بھی ناکام ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گی۔ البتہ اس امر کا امکان موجود ہے کہ مغرب میں بعض سادہ اندیش لوگ اس امر کو آزادی رائے کے اظہار پر ہی محمول کرتے ہوں، کیونکہ ان کے دل اُس تپش عشق سے آشنا نہیں، جس نے مسلمانوں کے سینوں کو روشن کر رکھا ہے۔ اسی کا نام کا عشق مصطفیٰ کی حرارت ہے۔
 
اسی امر کی طرف پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم نے سینٹ میں اپنے خطاب کے دوران اشارہ کیا تھا اور بعدازاں ایک ویڈیو پیغام میں بھی اس کی نشاندہی کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے گذشتہ شب اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مغرب کے لوگوں کو ہمارے جذبات کا احساس اور ادراک نہیں ہے اور مسلمانوں کو یک زبان ہو کر اپنا موقف مغرب کو سمجھانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی ایک مسلمان یا چند مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، ہر مسلمان دنیا میں جہاں بھی وہ بستا ہے، یہ اس کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی جائے، سارے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے مغرب کو اپنے دین کے بارے میں نہیں سمجھایا، جس طرح وہ اپنے دین کو دیکھتے ہیں، وہ بالکل مختلف ہے اس سے جس طرح ہم اپنے دین کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان شاء اللہ احتجاج کریں گے، دنیا کو اس مسئلے کے بارے میں سمجھائیں گے اور ان شاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مسئلہ ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی نبی کریم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
 
قبل ازیں ایوان بالا میں اپنے خطاب کے دوران میں وزیراعظم نے کہا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیںگے اور اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کو بھی اس معاملے پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کے لئے کوشش کریں گے۔ اس موقع پر بھی انہوں نے کہا تھا کہ مغرب میں لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں ہے کہ ہمارے دلوں میں پیغمبر اسلام کے لئے کس قدر پیار ہے۔ 27 اگست کو ان کے خطاب کے بعد سینیٹ میں گستاخانہ خاکوں کے منصوبے کے خلاف متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔ اپنے مذکورہ ویڈیو پیغام میں بھی وزیراعظم نے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھانے پر زور دیا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ گستاخانہ خاکوں جیسے ناپاک منصوبوں کے بارے میں اس آواز کو اب بھی عالمی سطح پر ضرور اٹھایا جائے گا، کیونکہ وقتاً فوقتاً مغرب کے بعض عاقبت نااندیش افراد ایسی اوچھی اور گھٹیا حرکتیں کرتے رہتے ہیں اور اس طرح کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ سینیٹ میں اپنے مذکورہ خطاب کے دوران میں وزیراعظم عمران خان نے ایک اور مسئلے کی طرف بھی اشارہ کیا، جس سے مغرب کی منافقانہ ذہنیت اور دوغلی پالیسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام یا ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے سے یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
 
یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیدرلینڈ کے انتہائی دائیں بازو کے قانون ساز گیرٹ وائلڈر کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے بعد اس کے خلاف سب سے زیادہ ردعمل پاکستان میں دیکھنے میں آیا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑھ کر پاکستان کے وزیراعظم نے آواز اٹھائی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس بارے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ سے بات کی اور کہا کہ اس طرح کے کاموں سے نفرت اور عدم برداشت پھیلے گی، گستاخانہ خاکوں کی نمائش سے دنیا بھر میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچے گی۔ وزیر خارجہ نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے جنرل سیکرٹری کو بھی ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر غور کرنے کے لئے تنظیم کے مستقل رکن ملکوں کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیدرلینڈ کے سفیر کو بھی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا اور مذکورہ منصوبے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
 
دوسری طرف پاکستان کے عوام میں بھی اس منصوبے کے بارے میں سخت غم و غصہ پیدا ہوگیا۔ تمام مذہبی جماعتوں نے اس کے خلاف اجتماعات اور ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں ملی یکجہتی کونسل جو مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے، کے علاوہ جماعت اسلامی، عالمی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور تحریک لبیک بھی شامل ہیں۔ تحریک لبیک کی طرف سے تین روز پہلے لاہور سے ایک ریلی کا آغاز کیا گیا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس ریلی کے اسلام آباد میں داخلے سے پہلے ہی نیدرلینڈ کی حکومت نے پاکستان کی حکومت کو اس ناپاک منصوبے کے منسوخ کئے جانے کی اطلاع دے دی۔ اس کے بعد ریلی کا سلسلہ پرامن طور پر ختم ہوگیا۔ اس سارے واقعے پر گہرے غوروخوض کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں حکومت، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو آئندہ کی مستقل حکمت عملی کو طے کرنا چاہیے۔ اس کے لئے ایک کمیٹی قائم کی جانا چاہیے، تاکہ ایسے مواقع پر ایک مشترکہ اور متفقہ قومی حکمت عملی طے کی جائے۔ جب حکومت اور تمام جماعتیں اور گروہ الگ الگ ردعمل کا منصوبہ بناتے ہیں تو اس سے معاشرے میں گاہے افراتفری کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے روکنے کے لئے ایک مستقل میکانیزم کی ضرورت کا احساس کیا جانا چاہیے۔
 
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بعض جماعتوں کی طرف سے سامنے آنے والے مطالبات اگرچہ ان کے مذہبی جذبات کے عکاس ہوتے ہیں لیکن عالمی اور خارجہ تعلقات کے حساس معاملات کو کس طرح سے ڈیل کیا جانا چاہیے، اس کے تمام پہلو ان کی نظروں میں نہیں ہوتے۔ چنانچہ پاکستان کی حکومت نے اس موقع پر جس انداز سے نیدرلینڈ کی حکومت پر اپنا دباﺅ بڑھایا ہے، اس سے نہ صرف یہ کہ سفارتی تعلقات محفوظ رہے ہیں بلکہ شیطانی منصوبہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ اسے کہتے ہیں سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نبی کا پیار جیت گیا ہے، کامیابی عشق مصطفیٰ کو حاصل ہوئی ہے اور محبوب خدا کی توہین کا ناپاک اور شیطانی منصوبہ دھول بن کر اڑ گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  47638
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
فلسطین کی ستر سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو فلسطینیوں پر گزرنے والا ہر دن ہی یوم نکبہ سے کم نہیں ہے، یوم نکبہ فلسطینیوں کے لئے ایک ایسا دن ہے جسے فلسطین کی گزشتہ اور موجودہ نسل کسی طور فراموش کر ہی نہیں سکتی
نرسنگ ایک نہایت معزز پیشہ ہے ۔ نرسنگ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانیت کی۔ ہر سال 12 مئی کو نرسز کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد مریضوں کی بے لوث خدمت کرنے والے نرسز کوخراج تحسین پیش کرنا ہے۔
تخلیق کائنات کے وقت اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا مگر ان میں سب سے اشرف انسان کو ٹھہرایا گیا جس کی بنیادی وجہ انسان میں دوسری مخلوقات کی نسبت زیادہ عقل و شعور، فہم و فراست، حکمت و دانائی ،صبر و شکر، تہذیب و تمدن
بلوچستان بیک وقت قدرتی، ساحلی، صحرائی اور پہاڑی معدنیات کے تحفظ کی دعویدار ہے۔ جہاں پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک بھی موجود ہے اورنایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کی متعدد اقسام پائے جاتے ہیں۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
لاپتہ ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان خان پورڈیم پر تعینات تھے، سی ڈی اے کے افسر ایازخان کی بیٹی کی کل شادی ہے۔ اہلیہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا جمعرات کی شام ساڑھے 4 بجے میرے خاوند دفتر سے نکلے، خاوند نے جی 13 میں واقع اپنے گھر آنا تھا
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن
سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے ردِ عمل میں پہلی مرتبہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے ان 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو صحافی کے قتل کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں