Friday, 18 January, 2019
اختلاف ختم کریں یا برداشت

اختلاف ختم کریں یا برداشت
تحریر: ثاقب اکبر

 

’’اختلاف‘‘ کا لفظ اتنا منفی مفہوم اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہر قسم کا اختلاف ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں حالانکہ اختلاف کے بعض خوبصورت اور اچھے پہلو بھی ہیں۔ تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں ختم کرنا چاہیے یا پھر جنھیں برداشت کرنا چاہیے۔جس امر کے خلاف جدوجہد کرنا چاہیے اور آواز اٹھانا چاہیے وہ ’’افتراق‘‘ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے مابین اتحاد ووحدت کی تائید کے لیے قرآن حکیم کی جوآیت سب سے زیادہ پیش کی جاتی ہے اس میں افتراق سے منع کیا گیا ہے:

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا(آل عمران:۱۰۳)

دنیا بڑی رنگا رنگ ہے۔ اس کی یہی رنگا رنگی اور تنوع اس کا حسن ہے اور یہی اس کی بقا کا ضامن بھی ہے۔ مادی کائنات پر نظر ڈالیں تو ہماری اس بات کی تائید کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ پرندوں کی دنیا ہو یا چرندوں کی، نباتات کا جہان ہو یا آبی حیات، ہر جگہ تنوع آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پھولوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کی مہک مختلف ہے اور ان کا سائز بھی مختلف۔ موسموں کے تغیر سے پھل متغیر ہو جاتے ہیں۔ ہر موسم کی اپنی فصلیں ہیں۔ موسم اور جغرافیے بدلتے ہیں تو زمین پراگنے والی چیزوں کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں۔ زمین بھی کہیں سنگلاخ ہے تو کہیں ہموار، کہیں پہاڑ ہیں اور کہیں چٹیل میدان، ایک طرف دشت و صحرا ہیں تو دوسری طرف شاداب اور لہلہاتے کھیت۔

انسان بھی مختلف طرح کے ہیں، کسی علاقے کے لوگ پست قد ہیں تو کسی کے دراز قد۔ کہیں کے لوگ گھونگریالے بالوں والے ہیں اور کہیں کے سیدھے بالوں والے۔ کسی کی ناک اونچی ہے اور کسی کی ستواں، کسی کی رنگت بھوری ہے، کسی کی کالی، کسی کی سرخ، کسی کی گندمی، کسی کی گلابی اور کسی کی کچھ اور، زبانیں بھی مختلف ہیں۔ دنیا میں سینکڑوں طرح کی زبانیں ہیں، لوگ قسم قسم کی بولیاں بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں رنگوں اور زبانوں کے اختلاف کو اپنی آیات اور نشانیاں قرار دیا ہے۔

لوگوں کے مزاج بھی مختلف ہیں، کہیں ملائمت زیادہ ہے اور کہیں درشتی، کسی کا لہجہ نرم ہے اور کسی کا سخت، کوئی بلند آہنگ ہے اور کوئی دھیرے اور دھیمے لہجے میں بولتا ہے۔ کہیں کے لوگ غصیلے ہیں اور کہیں کے آداب و تکلفات میں زیادہ پڑے دکھائی دیتے ہیں۔

بیماریاں بھی مختلف علاقوں میں لوگوں کو مختلف طرح کی ہوتی ہیں۔ جغرافیے اور موسموں کے بدلنے سے بیماریاں بھی بدل جاتی ہیں۔ عمروں پر بھی ان کے اثرات ہوتے ہیں۔ میووں اوراناج کے بھی مختلف جسموں پر مختلف طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ایسے میں افکار کا مختلف ہونا اور سوچنے کے انداز مختلف ہونا بالکل فطری ہے۔ انسانوں کے تجربات، معلومات اور مشاہدات کے فرق سے افکار مختلف ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کم لوگ ہیں جو سوچ سمجھ کر کوئی نظریہ اختیار کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے گھر والوں سے، اپنے بزرگوں سے اور اپنے ماحول سے نظریات اخذ کرتے ہیں۔ یہی نظریات پھر ثقافت اور روایات میں ڈھلنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں ثقافت کے مظاہر بھی بدل جاتے ہیں۔ رسم و رواج مختلف ہو جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مختلف کھیل پسند کیے جاتے ہیں۔ کھیلوں کے رواج میں بھی موسموں اور جغرافیے کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہم چاہیں تو ان اختلافات پر کڑھتے رہیں اور چاہیں تو انھیں فطرت کی رنگا رنگی قرار دے کر دل کو خوش کرلیں۔

افکار و نظریات کی دنیا میں مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب ہم اپنے افکار و نظریات کو مقدس اور اپنے مقابلے میں دوسرے کے افکار و نظریات کوغیر مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ یہیں سے اختلاف افتراق کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ فیصلہ اسی موقع پرکرنا ہے کہ اگر ہم اپنے افکار و نظریات کو درست جانتے ہیں اور ان پر قائم رہنے کا حق رکھتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری طرح سوچتے ہیں، وہ بھی اپنے افکار ونظریات کو درست جانتے ہیں اور ان پر قائم رہنے کا اپنے لیے حق سمجھتے ہیں۔ جب کوئی یہ حق اپنے لیے تو قرار دیتا ہے لیکن یہی حق دوسرے کے لیے تسلیم نہیں کرتا تو بزم آرائی سے بات نکل کر معرکہ آرائی تک جا پہنچتی ہے۔ مسئلہ اس وقت اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے جب خاص طرح کے افکار، اعتقادات اور نظریات بعض لوگوں کی شناخت سے بڑھ کر ان کے روزگار کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح جب کچھ اعتقادات و نظریات کسی سیاستدان کی سیاست چمکانے کے لیے ضروری ہو جاتے ہیں تو وہ نہایت خطرناک بن جاتے ہیں۔ اس موقع پر معاشی مفادات یا سیاسی منافع کا تقاضا ہوتا ہے کہ دوسروں کے اعتقادات و نظریات پر حملہ کیا جائے۔ دوسرے نظریات رکھنے والوں کے خلاف اپنے ماننے والوں کو ابھارا جائے، یہاں تک کہ مخالف یا مختلف نظریات کے حامل لوگوں کو معاشرے میں نفرت کا عنوان بنا دیا جائے۔ اگر ہم دنیائے اعتقادات میں برپا جنگ آزمائی کا مشاہدہ کریں تو اس کے پیچھے ہمیں زیادہ تر یہی مقاصد کارفرما دکھائی دیں گے۔ افسوس کہ تاریخ ایسی جنگوں اور معرکوں سے خون آلود ہے۔ مذہبی اعتقادات اور دینی اختلافات کے عنوان سے ہر دور میں لاکھوں انسانوں کا خون بہایا گیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

ایسے میں وسیع النظر لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اپنے آپ کو حقائق کی دنیا میں رکھتے ہیں اور دوسروں کو حقائق کی دنیا میں لانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ جس دور میں اختلاف و افتراق وجہ شہرت و عزت بن جائے اور جس دور میں مذہبی تفرقہ حصول معاش کا ذریعہ ہو جائے اس دور میں جو لوگ انسانیت کا درد لیے ہوئے معاشرے میں نکلتے ہیں اور انسانوں کو مل جل کر رہنے کی دعوت دیتے ہیں، اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا سبق دیتے ہیں اور مختلف افکار کو انسانی فطرت کے ایک اظہار پر محمول کرتے ہیں، واقعاً وہ بڑے لوگ ہوتے ہیں، ایسے لوگ آپ کو ہر دور میں مل جائیں گے۔ ہمارے دور میں بھی اور ہماری سرزمین پر بھی بشریت کے یہ لائق فرزند اس عظیم جہاد میں مصروف ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں میں جب مذہبی آویزش اور معرکہ آرائی زوروں پر تھی تو کئی ایک اداروں اور بہت سے افراد نے یہ خدمت انجام دی ہے، ہم اپنی محبتیں ان پر نچھاور کرتے ہیں۔ بشکریہ تجزیات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  77598
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
سوشل میڈیا پر 27 جولائی سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یقینا وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہی ہیں۔ ہر دوسرا تبدیلی کا دعوے دار، مخالف مسلک کا پیروکار، مولانا کا سیاسی مخالف، بس مولانا پر ہی لعن طعن کر کے ملک کے تمام مسائل حل اور نئی
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
بلوچستان بیک وقت قدرتی، ساحلی، صحرائی اور پہاڑی معدنیات کے تحفظ کی دعویدار ہے۔ جہاں پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک بھی موجود ہے اورنایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کی متعدد اقسام پائے جاتے ہیں۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں