Wednesday, 22 January, 2020
سعودی عرب اور ایران تحمل سے کام لیں، ترکی

سعودی عرب اور ایران تحمل سے کام لیں، ترکی

انقرہ - ترکی نے سعودی عرب اور ایران سے کہا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیتے ہوئے سفارتی کیشدگی میں کمی لے کرآئیں، کیونکہ اس تنازعے سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ نے دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے مطالبہ کیا ہے۔ ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان کرتلمس نے ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کی مذمت کی اور سعودی عرب کی جانب سے معروف شعیہ عالم کو دی جانے والے سزائے موت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں اور تجارتی تعلقات اور فضائی روابط بھی ختم کر رہا ہے۔ پیر کو سعودی عرب کے چند اتحادی ممالک نے بھی ایران کے خلاف سفارتی تعلقات کو ختم یا محدود کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر سمیت دیگر 46 افراد کو موت کی سزا دینے کے بعد علاقے میں فرقہ ورانہ کشیدگی میں اضافے کے خدشات پائے جا رہے ہیں۔ خبررساں ادارے انتولیہ کے مطابق ترک نائب وزیر اعظم نعمان کرتلمس نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک فوری طور پر اس کشیدگی کو دور کریں جس سے مشرق وسطیٰ کے پہلے سے ہی کشیدہ حالات میں اضافہ ہوگا۔‘ انھوں نے ایران سے مطابق سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام سفارتی عملے کی حفاظت کریں اور کہا کہ ترکی ’سزائے موت کے تمام واقعات کے خلاف ہے خاص طور پر اگر یہ سیاسی محرکات کی حامل ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی بھی ملک میں سزائے موت کی حمایت کریں۔‘ ’سعودی عرب اور ایران دونوں ہمارے دوست ہیں اور ہم ان کے درمیان لڑائی نہیں چاہتے کیونکہ یہ وہ آخری عمل ہوگا جو اس خطے کو درکار ہوگا۔‘ اس سے قبل سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تمام فضائی سفری روابط اور تجارتی تعلقات ختم کر سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سعودی شہریوں کے ایران جانے پر بھی پابندی عائد کر دی جائے گی۔ تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ مکہ اور مدینہ آنے والے ایرانی زائرین کو آنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب ایران کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ریاض تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملے کو جواز بنا کر کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ سب سے پہلے سعودی عرب نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد اس کے قریبی اتحادی ملک بحرین نے بھی ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرتے ہوئے ایرانی سفارت کاروں کو 48 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  92801
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب میں صحافی جمال خشوگی قتل کیس میں 5 افراد کو موت کی سزا سنا دی گئی، جمال خشوگی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ایسے نہیں، جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہو، سعودی سفارت خانے نے ملائیشیا سمٹ سے متعلق ترک صدر کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا۔
سعودی عرب میں پولیس کی چھاپہ مار ٹیم اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے شہر القطیف میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے چھاپہ مارا جس پر ملزمان
یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ کے سربراہ نے یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ کے 1000 دن مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ سعودی عرب، یمنی عوام کا ایسا دشمن ہے جوکسی بھی انسانی، اسلامی اور اخلاقی قانون کا پابند نہیں ہے

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
گندم کے بحران پر وزیراعظم عمران خان نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے جس کے سربراہ ڈی جی ایف آئی اے ہوں گے۔ کمیٹی حالیہ گندم بحران کی تحقیقات کرے گی اور بحران کے اصل ذمہ داروں کا تعین بھی کرے گی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ڈیوس سے متعلق بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ سے ایک گھنٹے
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے باعث معاشرے میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر آیا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا، ہم نے فیصلہ کیا ہے اب
ماں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ میرے اس عارضی دنیا میں واپس آنے کے لیے کتنی پرجوش تھیں۔۔۔۔۔یہ لیں، آج آپ کی دیرینہ خواہش پوری کیے دے رہی ہوں۔۔۔۔ارے دیرینہ یوں بولا ہے کہ جب سے میرا آپ کا ساتھ چھوٹا، وہ بندھن ٹوٹا جس نے مجھے آپ کی سانسوں کی ڈور سے باندھ رکھا تھا،تب سے محسوس ہونے لگا کہ اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں