Wednesday, 21 February, 2018
سعودی لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق

سعودی لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق

ریاض ۔ سعودی عرب میں محنت اور سماجی ترقی کے وزیر علی الغفیص نے مملکت میں لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق کر دی ہے ۔ ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی کے دْہرائے جانے کی صورت میں دی جانے والی سزا ہر مرتبہ گزشتہ خلاف ورزی سے دْگنی ہو جائے گی۔

عرب ٹی وی کے مطابق اگر آجر نے غیر سعودی ورکر کو ورک پرمٹ میں دیئے گئے پیشے کے سوا کسی دوسرے پیشے میں کام کروایا یا پھر لیبر آفس میں ادارے کا کھاتہ نہ کھلوایا یا ادارے کی معلومات کی تجدید نہ کرائی تو ایسی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ آجر کی جانب سے ورکر کی مرضی کے بغیر اس کا پاسپورٹ یا اقامہ یا میڈیکل انشورنس کارڈ اپنے پاس رکھنے کی صورت میں2 ہزار ریال جرمانہ لاگو ہو گا۔ اسی طرح ادارے کے قواعد و ضوابط نہ ہونے یا ان پر کاربند نہ ہونے کی صورت میں جرمانے کی مالیت 10 ہزار ریال ہو گی۔

 آجر کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پرفائل اپلوڈ نہ کرنے کی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح ادارے کی جانب سے ورکروں کے لیے مقررہ چھٹیوں کے نظام پر عمل درامد نہ کرنے پر جرمانے کی رقم 10 ہزار ریال ہو گی۔ 

علاوہ ازیں سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق پیشہ ورانہ انتظامی امور کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں 15 ہزار ریال جرمانہ ہو گا۔وزیر محنت کے فیصلے کے مطابق ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی کے دْہرائے جانے کی صورت میں دی جانے والی سزا ہر مرتبہ گزشتہ خلاف ورزی سے دْگنی ہو جائے گی۔

 خلاف ورزی کرنے والے پر لازم ہو گا کہ وہ جرمانہ یا سزا لاگو ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر اس کو پورا کرے۔ مذکورہ مدت کے اندر ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے خلاف ورزی کا دْہرانا شمار کیا جائے گا جس کے نتیجے میں سزا بھی دْگنی ہو جائے گی۔ 

وزارت محنت نے واضح کیا ہے کہ ورک مارکیٹ کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق وہ خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے چارٹ کی تجدید کرتی رہتی ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  57048
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب میں نجی شعبے کو ترقی دینے کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کردیا ہے، جس کے تحت اب سعودی عرب میں خواتین کو شوہر، محرم یا ولی کی اجازت کے بغیر اپنا کاروبارشروع کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے سینیئر فقہا کی کونسل کے ايک رکن شیخ عبداللہ المطلق نے کہا ہے کہ مملکت میں خواتین کو عوامی مقامات پر عبایہ پہنے کی ضرورت نہیں ہے، ان کے لیے ایسا لباس زیب تن کرلینا کافی ہے جو مناسب اور اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں باہمی امور اور دو طرفہ فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے موقع پر کونسل آف منسٹرز کے نائب صدر اور وزیر دفاع بھی موجود تھے۔
چھ ارب ڈالر جرمانہ دے کر بھی سعودی شہزادہ ولید بن طلال کی جان نہ چھوٹی، برطانوی اخبارنے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سعودی شہزاد ے کو گھر میں نظر بند رکھا گیا ہےجبکہ انہیں تاحال بیرون ملک اثاثوں تک بھی رسائی نہیں ملی ہے۔

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان کو ان کی علالت کے پیش نظر عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ ان کے نائب یوسف الادریسی کو محکمہ سراغرسانی کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا ہے۔
سعودی مفتی صالح الفیضان نے بوفے کیخلاف فتویٰ جاری کردیا۔جمعے کوسعودی مفتی نے سرکاری ٹی وی پرفتویٰ جاری کرتے ہوئے بوفے کوغیرشرعی قراردے دیا۔
سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ دیرینہ فلسطینی تنازعے اور شام میں جاری بحران کو حل کرانے میں کردار ادا کرے۔

مقبول ترین
پاک فوج کے اضافی دستے سعودی عرب بھیجنے پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کا معاملہ پھر زیر بحث آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اظہار
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے درست کہا ہے کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں اور جب سیاست دانوں پربھینس چوری کے پرچی کٹے تو غلطی تب بھی ہوئی۔
ایرانی دار الحکومت تہران میں سکیورٹی فورسز اور صوفی عقیدت مندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تہران پولیس کے ترجمان بریگیڈیئر سعید منتظرالمہدی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران کے
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں