Wednesday, 20 February, 2019
سعودی لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق

سعودی لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق

ریاض ۔ سعودی عرب میں محنت اور سماجی ترقی کے وزیر علی الغفیص نے مملکت میں لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق کر دی ہے ۔ ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی کے دْہرائے جانے کی صورت میں دی جانے والی سزا ہر مرتبہ گزشتہ خلاف ورزی سے دْگنی ہو جائے گی۔

عرب ٹی وی کے مطابق اگر آجر نے غیر سعودی ورکر کو ورک پرمٹ میں دیئے گئے پیشے کے سوا کسی دوسرے پیشے میں کام کروایا یا پھر لیبر آفس میں ادارے کا کھاتہ نہ کھلوایا یا ادارے کی معلومات کی تجدید نہ کرائی تو ایسی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ آجر کی جانب سے ورکر کی مرضی کے بغیر اس کا پاسپورٹ یا اقامہ یا میڈیکل انشورنس کارڈ اپنے پاس رکھنے کی صورت میں2 ہزار ریال جرمانہ لاگو ہو گا۔ اسی طرح ادارے کے قواعد و ضوابط نہ ہونے یا ان پر کاربند نہ ہونے کی صورت میں جرمانے کی مالیت 10 ہزار ریال ہو گی۔

 آجر کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پرفائل اپلوڈ نہ کرنے کی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح ادارے کی جانب سے ورکروں کے لیے مقررہ چھٹیوں کے نظام پر عمل درامد نہ کرنے پر جرمانے کی رقم 10 ہزار ریال ہو گی۔ 

علاوہ ازیں سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق پیشہ ورانہ انتظامی امور کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں 15 ہزار ریال جرمانہ ہو گا۔وزیر محنت کے فیصلے کے مطابق ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی کے دْہرائے جانے کی صورت میں دی جانے والی سزا ہر مرتبہ گزشتہ خلاف ورزی سے دْگنی ہو جائے گی۔

 خلاف ورزی کرنے والے پر لازم ہو گا کہ وہ جرمانہ یا سزا لاگو ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر اس کو پورا کرے۔ مذکورہ مدت کے اندر ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے خلاف ورزی کا دْہرانا شمار کیا جائے گا جس کے نتیجے میں سزا بھی دْگنی ہو جائے گی۔ 

وزارت محنت نے واضح کیا ہے کہ ورک مارکیٹ کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق وہ خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے چارٹ کی تجدید کرتی رہتی ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  59078
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ اور اہم عہدوں میں وسیع پیمانے پر رد و بدل کا شاہی فرمان جاری کر دیا۔ سعودی شاہی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ عادل الجبیر کو عہدے سے ہٹا کر ابراہیم
سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ طلال سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے 18ویں فرزند تھے اور مرحوم، شاہ سلمان کے بھائی اور ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال کے والد تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے۔ میڈیا کے مطابق دورہ سعودی عرب کے دوسرے روز وزیراعظم عمران خان شاہی محل پہنچے تو ان کا پرتباک استقبال کیا گیا،وزیراعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
سعودی عرب نے امامِ کعبہ شیخ ڈاکٹر صالح الطالب کو مبینہ طور پر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر گرفتار کرلیا۔ قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امام کعبہ شیخ صالح طالب کو سعودی عرب میں گرفتار کرلیا گیا ہے

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان کو ان کی علالت کے پیش نظر عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ ان کے نائب یوسف الادریسی کو محکمہ سراغرسانی کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا ہے۔
سعودی مفتی صالح الفیضان نے بوفے کیخلاف فتویٰ جاری کردیا۔جمعے کوسعودی مفتی نے سرکاری ٹی وی پرفتویٰ جاری کرتے ہوئے بوفے کوغیرشرعی قراردے دیا۔
سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ دیرینہ فلسطینی تنازعے اور شام میں جاری بحران کو حل کرانے میں کردار ادا کرے۔

مقبول ترین
عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت دوسرے روز بھی جاری رہی، ایڈہاک جج جسٹس (ر) تصدق جیلانی ناسازی طبع کے باعث عدالت نہیں آئے۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے تصدق حسین جیلانی کی علالت
پلوامہ حملے پر قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ چند دن پہلے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں واقعہ ہوا،بھارت نے بغیرسوچے سمجھے پاکستان پر الزام لگادیا، ہم سعودی ولی عہد کے دورے کی تیاری کررہے تھے، اس لئے اب بھارتی
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دو روزہ دورہ مکمل کر کے پاکستان سے روانہ ہو گئے۔ روانگی سے قبل نور خان ایئربیس پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ پاکستان جیو اسٹریٹجک اعتبار
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے پاکستان کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کی تجدید کرتے ہوئے تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کی بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں