Wednesday, 19 February, 2020
ایرانی پارلیمنٹ اورامام خمینی کے مزار پر حملے، 12 ہلاک

ایرانی پارلیمنٹ اورامام خمینی کے مزار پر حملے، 12 ہلاک

تہران ۔ ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر مسلح افراد کے حملے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 42 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں حملہ آور بھی شامل ہیں یا نہیں۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔ دونوں واقعات کے بعد ایران کے صدارتی محل کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

ایرانی میڈیاکے مطابق تین حملہ آوروں نے پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس کر فائرنگ کی۔ حملہ آوروں نے پارلیمنٹ میں موجود افراد کو یرغمال بنالیا ہے، سیکورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ مسلح افراد نے تہران میں واقع پارلیمان کی عمارت کے علاوہ انقلابِ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی کے مزار کو نشانہ بنایا ہے اور ان حملوں میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 42 زخمی ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے کچھ افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق پارلیمان پر حملہ اب بظاہر ختم ہو گیا ہے اور تمام حملہ آور ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ آیت اللہ خمینی کے مزار پر ہونے والا خود کش حملہ تھا۔

اس واقعے کے ساتھ ہی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع آیت اللہ خمینی کے مزار پر کم از کم تین حملہ آوروں نے دھاوا بولا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو نے زائرین پر فائرنگ کی جبکہ تیسرے نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ آیت اللہ خمینی کے مزار کے افسرِ تعلقاتِ عامہ علی خلیلی نے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا ہے کہ ایک مسلح شخص نے خود کو مزار کے باہر واقع بینک کے سامنے دھماکے سے اڑایا تاہم فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ کرنے والی ایک عورت تھی۔

مزار پر حملہ آور خاتون دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس نے زہریلا کیپسول کھا کر خودکشی کر لی ہے۔ ان حملوں کے فوری بعد تہران سب وے سٹیشن بند کر دئیے گئے ہیں جبکہ ایران کے وزیر داخلہ نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ایران کی ایرب نیوز ایجنسی نے پارلیمان کے ایک رکن الیاس حضراتی کے حوالے سے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر متعدد افراد نے حملہ کیا جنھوں نے کلاشنکوفیں اٹھا رکھی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ دو حملہ آور کلاشنکوفوں سے مسلح ہیں جبکہ ایک کے پاس پستول تھا۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حملے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد نے پارلیمنٹ کو گھیرے میں لے لیا ہے. حملے کے بعد پارلیمنٹ کے خارجی اور داخلی راستوں کو فوری طور پر بند کردیا گیا جبکہ قانون سازوں اور میڈیا نمائندگان کو چیمبر میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔

مختصر وقفے سے ہونے والے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔ پروپیگنڈا ایجنسی 'اعماق' کے ذریعے داعش نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجو ان دونوں واقعات میں ملوث تھے۔ شدت پسند تنظیم نے ایک ایسی ویڈیو نشر کی ہے جو ان کے مطابق پارلیمان کی عمارت پر حملے کے دوران عمارت کے اندر سے بنائی گئی ہے۔ 24 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں ایک حملہ آور کو ساکن پڑے ایک شخص پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو گروپ کی ویب سائٹ اعماق پر جاری کی گئی ہے۔ اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

 پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ یہ معمولی واقعات ہیں اور دہشت گردوں کو سزا دی جائے گی۔ 
حملے کے باوجود جاری رہنے والے پارلیمان (مجلس) کے اجلاس کے بعد انھوں نے کہا جیسا کے آپ جانتے ہیں کہ بزدل دہشت گردوں نے عمارت میں گھسنے کی کوشش کی اور ان سے سختی سے نمٹا گیا۔ گو کہ یہ معمولی واقعات ہیں تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشت گرد مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا سکیورٹی فورسز ان کے خلاف اقدامات کریں گی اور اللہ نے چاہا تو یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  15272
کوڈ
 
   
مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرے گی، جتنے مرضی مارچ کرلیں، عمران خان کہیں نہیں جا رہے، مہنگائی کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیریس کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کے بیان کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا غیر جانبدارانہ تبصرہ دیرپا پاکستانی موقف کا حامی ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ تمام انٹرنیشنل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کمپنیاں پاکستان میں کام جاری رکھیں گی اور حکومت ان کے تحفظات دور کرے گی۔سوشل میڈیا کے حوالے سے متعارف کروائی گئی حالیہ ’پابندیوں‘ پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ان قواعد کے نفاذ سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی ہدایت کردی۔
ایرانی عدالت کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے میڈیا کو بتایا کہ 10 شہریوں کو ریاست مخالف سرگرمیوں اور امریکا کی جاسوسی کے الزام میں دس سال تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان افراد کو 2018 میں حراست میں لیا گیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں