Friday, 13 December, 2019
عرب لیگ نے امریکہ سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا

عرب لیگ نے امریکہ سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا

قاہرہ  ۔ عرب لیگ نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو منسوخ کر دے کیونکہ اس سے خطے میں تشدد میں اضافہ ہو گا۔

قاہرہ میں عرب ممالک کے 22 وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو کیا گیا اعلان عالمی قوانین کی خطرناک خلاف ورزی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ عرب لیگ کی جانب سے یہ اعلامیہ مصر کے مقامی وقت صبح تین بجے جاری کیا گیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا اسرائیل کے پورے یروشلم پر دعوے کو تسلیم کیے جانے سے امریکہ کی اس پالیسی کے منافی ہے جس کے تحت یروشلم کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے ہونے چاہیے۔

عرب لیگ کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔۔۔ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا، غصہ اور بھڑکے گا اور خطرہ ہے کہ خطے میں مزید تشدد اور افراتفری پھیلے گی۔

22 عرب ممالک کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں قرارداد منظور کرائی جائے گی۔ تاہم عرب لیگ کے اعلامیے میں امریکہ کے خلاف معاشی پابندیوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل اجلاس کے دوران لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسل کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے سے روکنے کے لیے عرب ممالک کو امریکہ پر معاشی پابندیاں عائد کرنی چاہیئں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کے اس فیصلے کے خلاف اقدامات لینے ضروری ہیں۔ شروع میں سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی، پھر سیاسی اور پھر معاشی اور مالی پابندیاں عائد کرنی ہوں گی۔

اس سے قبل عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس کے آغاز پر عرب لیگ کے سربراہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو خطرناک اور ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے سیاسی حل پر حملہ ہے۔ 

قاہرہ میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں عرب ممالک کے 22 وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔

احمد ابو الغیط نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے لیے امریکی کوششوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ امریکی پالیسی میں تبدیلی سے ٹرمپ انتظامیہ پر عرب ممالک کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  65832
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری 3 ہفتے بعد اپنے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ سعدحریری نے 4 نومبر کو سعودی عرب میں وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم لبنان کے صدر نے سعدحریری کا استعفیٰ قبول نہیں کیا تھا ۔ سعد حریری آج لبنان کے صدر سے ملاقات کریں گے۔
سعودی عرب کے ذمہ دار عہدیدار نے سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کو بتایا ہے کہ مملکت، لبنانی فوج اور داخلی سلامتی کے اداروں کو اسلحہ فراہمی بند کر دے گی کیونکہ 'بیروت کا حالیہ موقف دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کا عکاس نہیں ہے

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
وفاقی دارالحکومت کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں دو طلبا تنظیموں کے درمیان تصادم ہوا، تصادم کے دوران ایک طالبعلم جاں بحق ہو گیا جبکہ 21 شدید زخمی ہو گئے، پولیس حالات کنٹرول میں ناکام ہوئی تو رینجرز نے
افریقی ملک ملک نائیجر میں دہشت گردوں نے فوجی اڈے پر حملے کیے جس کے باعث 78 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دہشتگردوں نے بھاری ہتھیاروں سے مغربی حصے میں مالی کی سرحد کے قریب واقعے فوج
معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ دل کے اسپتال پر حملہ کرنے والے وکلا میں وزیراعظم کا بھانجا بھی شامل ہے اور وزیراعظم نے اس حوالے سے مذمت کی ہے۔
لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں وکلاء کو ایڈمن جج عبدالقیوم کے روبرو پیش کیا گیا جہاں سرکاری وکیل نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے وکلاء کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں