Friday, 13 March, 2026
سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،بڑی شرط رکھ دی

سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،بڑی شرط رکھ دی

ریاض - سعودی عرب نے بڑی شرط رکھتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد فلسطین کو تسلیم کرنے پر تمام 57 مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی سفیر برائے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل 1967 والی سرحدوں پر واپس جائے تو سعودی عرب اسے تسلیم کرے گا، اسرائیل یہ اقدام کرے گا تو تمام مسلم ممالک اسے تسلیم کریں گے۔

سعودی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ پہلے بھی غلط تھا آج بھی غلط ہے،مغربی کنارے میں تعمیرات اور غزہ کا محاصرہ غلط ہے، وقت بدلنے سے غلط صحیح نہیں ہوتا، سعودی عرب پرانی پالیسی پر ہی کاربند ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تقریباً 20 امریکی یہودی رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سینئر عہدیداروں سے ملاقات کی۔

وفد نے جن عہدیداروں سے ملاقات کی ان میں 6 حکومتی وزرا اور سعودی شاہی گھرانے کے سینئر نمائندے بھی شامل تھے، ملاقات کا مقصد ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے امکانات پر نظرِ ثانی کرنا تھا۔

سعودی عرب نے بارہا اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے عرب پیرامیٹرز کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے جس کا اظہار 2002 کے سعودیہ کے تجویز کردہ عرب اقدام میں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور 1980 میں پورے شہر کا الحاق کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ مصر اور اردن کے بعد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا ملک متحدہ عرب امارات تھا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تعلقات کو معمول پر لائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کریں گے۔

بعدازاں قریبی ملک بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جس کے بعد سوڈان 2 ماہ کے عرصے میں تیسرا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا لیکن مکمل روابط اب تک عملی شکل میں نہیں آئے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین وہ تیسرے اور چوتھے عرب ممالک تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جبکہ مصر اور اردن بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کر چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  71642
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کا ورچوئل اجلاس ہوا۔جس میں سعودی کابینہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، خود مختاری کے لیے تمام اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
ریاض میں خلیجی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ خطے امن کیلئے امریکی صدر کی کوششیں قابل تعریف ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کا خیرمقدم کرتے ہیں
سفارتی تعلقات بحال ہونے پر سعودی عرب نے ایران میں اپنا نیا سفیر مقرر کردیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے کہ ایران بھی جلد سعودی عرب میں اپنا نیا سفیر تعینات کرے گا۔
سعودی عرب میں آج ماہِ شوال کا چاند نظر نہیں آیا جس کے باعث کل بروز اتوار کو 30واں روزہ ہوگا۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں 2 مئی بروز پیر کو عیدالفطر ہوگی، آج شوال کا چاند نظر نہیں آیا

مقبول ترین
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی تعاون کے امور پر گفتگو کی گئی۔
صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت منظوری دی۔ صدر مملکت نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات ہونے پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا آڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اڈے بند نہ کیے گئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ قرارداد کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں