Tuesday, 19 November, 2019
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں، امریکا

ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں، امریکا

واشنگٹن۔ امریکا نے باور کرایا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرے گا لیکن ان (سرگرمیوں) کے سدباب کے لیے کسی عسکری کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

گذشتہ دنوں اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نیکی ہیلے نے مشرق وسطیٰ میں ایران کی مشکوک سرگرمیوں کے حوالے سے کہا تھا کہ تہران خطے میں مبینہ طور پر تخریبی سرگرمیوں سمیت غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی و ترسیل کررہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایرانی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے ممکنہ امریکی فوج کے آپریشن سے معتلق سوال پر امریکا کے وزیر دفاغ جیمز میٹس نے کہا کہ ‘تاحال فوجی کارروائی کا کوئی امکان نہیں’۔

پینٹا گون میں صحافیوں سے بات چیت میں جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ہیلے نے ذرائع ابلاغ کو ٹھوس ثبوت پیش کیے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران، یمن کے حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائل فراہم کررہاہے۔

جیمز میٹس نے واضح کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہو کر پس پردہ ایرانی سرگرمیوں کو بے نقاب کررہا ہے اور خطے میں ایرانی اثر ورسوخ ختم کرنے کے لیے خطے میں استحکام کی کوشش میں مصروف ہے۔

جیمز میٹس نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن میں حوثیوں کی مدد کے علاوہ خطے میں دیگرغیر ریاستی عناصروں کی معاونت میں ملوث ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘شامی صدر بشارالاسد نے اپنے ہی ملک کے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا اور بڑے پیمانے پر قتل وغارت کی تاہم ایران نے شامی صدر کو برسراقتدار رہنے کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا’۔

امریکی وزیر دفاع نے لبنان میں حزب اللہ کی حمایت کرنے کے سبب ایران کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ‘مشرق وسطیٰ میں جہاں کہیں تخریب کاریاں جاری ہیں ان کے پس پردہ ایران شامل ہوتا ہے’۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے متعلق کہہ چکے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف وزری کررہاہے۔

دوسری جانب جمعے کو جاپان اور روس نے امریکا کے موقف کی حمایت نہیں کی۔

خیال رہے کہ جاپان اور روس بھی جوہری معاہدے کا حصہ تھے۔

جاپانی وزیر خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر میں صحافیوں سے بات چیت میں واضح کیا تھا کہ ‘ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور ہم (جاپان) معاہدے کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے’۔

ادھر روس کے وزیرخارجہ نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا تھا کہ (ایران کا جوہری معاہدے کی خلاف ورزی پر مبنیہ امریکی بیان کے تناظر میں) معاہدے کی حمایت نہ کرنے سے معاملات مزید پچیدہ ہو جائیں اور شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کے تجربے سے روکنے میں ناکام رہیں گے ۔

چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے جولائی 2015 میں ایران سے جوہری معاہدہ کیا تھا جس کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے تہران پر عائد اقتصادی اور سفارتی پابندی اٹھانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اس ضمن میں جنوری 2016 میں ایران کی جانب سے معاہدہ کی پاسداری کے بعد سفارتی اور اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا آغاز کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26536
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی داعش کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی افواج کی معاونت کے لیے زمینی فوج شام بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق نئی امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں کیونکہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ اور یہ اسلحہ فلسطینی، لبنانی اور حالیہ مہینوں میں یمنی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ترکی نے سعودی عرب اور ایران سے کہا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیتے ہوئے سفارتی کیشدگی میں کمی لے کرآئیں، کیونکہ اس تنازعے سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ نے دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے مطالبہ کیا ہے۔
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دہشت گردی واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے دہشت گردی کا کوئی دین اور مذہب نہیں۔ اس لعنت کی سب سے زیادہ مذمت اسلام کرتا ہے۔ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر دین حنیف کو بدنام کرنے کی کوشش نہ

مزید خبریں
مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر وتشدد سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات کریں

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں