Sunday, 18 February, 2018
بھارت جنگ سے کشمیر نہیں لے سکتا، فاروق عبداللہ

بھارت جنگ سے کشمیر نہیں لے سکتا، فاروق عبداللہ

نئی دہلی ۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ  کشمیر کے معاملے پر بھارتی پالیسی پر پھٹ پڑے اور کہا ہے کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر تو سنبھالا نہیں جارہا اور اگر اس نے آزاد کشمیر پر ہاتھ ڈالا تو نئی مصیبت آجائیگی، بھارت جنگ سے کشمیر نہیں لے سکتا، ا مریکا سے ثالثی کرالے، واجپائی نے لاہور میں آزاد کشمیر پاکستان کو دینے کی پیشکش کی تھی، بھارت کے پاس طاقتور آرمی، نیوی اور ایئرفورس ہے، 4 جنگیں کرکے جو علاقہ ہمارے پاس تھا وہ بھی پاکستان کو دیدیا، کب تک ہمیں مروایا جائیگا۔

 نئی دہلی میں 'انڈیا ٹوڈے' کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے انکشاف کیا کہ بھارت کے سابق وزیراعظم واجپائی نے پاکستان کو پیش کش کی تھی کہ ایل او سی ٹھیک کرکے پاکستان آزاد کشمیر رکھ لے اور ہم یہ ( مقبوضہ کشمیر) رکھ لیں گے۔

فاروق عبداللہ کے مطابق واجپائی نے بس میں پاکستان جانے سے قبل مجھے نئی دہلی بلایا تھا اور کہا کہ وہ لاہور جارہے ہیں، میں نے کہا مبارک ہو، جب واپس آگئے تو میں نے پوچھا کہ آپ نے پاکستان میں کیا کیا جس پر انہوں نے بتایا کہ میں نے وہاں حکمرانوں کو بتایا کہ تم وہ حصہ پاکستانی کشمیر رکھ لو اور ہم یہ رکھ لیں گے اور ایل او سی کو ٹھیک کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر واجپائی اگلا الیکشن جیت گئے ہوتے تو یہ معاملہ ضرور بہتری کی طرف چلا گیا ہوتا، انہوں نے مزید کہا شاید یہ ہماری بدقسمتی ہے، پتہ نہیں ہمیں کب تک یہ مخمصہ دیکھنا ہوگا۔ 

فاروق عبداللہ نے کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کا پہلا فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب جنرل پرویز مشرف یہاں آئے اور اشوکا ہوٹل میں کھانے پر ہماری ملاقات ہوئی، جب مجھے مشرف سے ملایا گیا تو کہا گیا کہ یہ تھرڈ پارٹی ہے، اس پرمیں نے کہا کہ جناب میں تھرڈ پارٹی نہیں بلکہ فرسٹ پارٹی ہوں۔

فاروق عبداللہ نے پاکستانی کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت وہ کشمیر لے سکتا ہے تو لے لے، میں کب روکتا ہوں ، آپ کے پاس طاقتور آرمی، ایئر فورس اور نیوی ہے، 4 جنگیں آپ نے کرلیں، جو علاقہ آپ کے پاس تھا، وہ بھی آپ نے پاکستان کو دے دیا، کب تک ہمیں مروایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں 82 سال کا ہوں، میں کوئی سیاسی بات نہیں کرتا، میں حقیقت کی بات کرتا ہوں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی کشمیر ان کے پاس 70سال سے ہے، دم ہے تو پاکستانی کشمیر حاصل کرلو، فاروق عبداللہ کے پاس وہ دم نہیں ہے۔ 

فاروق عبداللہ نے کہا اس بھارتی کشمیر کو تو آپ سنبھال نہیں پاتے ، مقبوضہ کشمیر پر ہاتھ ڈالو گے تو ایک نئی مصیبت مول لے لو گے۔ خدا کے واسطے پہلے اس کو تو سنبھال لو تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت ایک اور جنگ نہیں کرے گا۔ 

انہوں نے کہا میں نہیں سمجھتا بھارت جنگ کرے گا، بات چیت سے ہی معاملہ حل ہوگا، جنگ سے کوئی معاملہ حل نہیں ہوگا، بھارتی حکومت کو ایک دن بات کرنی پڑے گی، حکومت پاکستان کو بھی بات کرنی پڑے گی، اس کے بغیر یہ دونوں ممالک آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔

فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ 'میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں جب یہاں سے لوگ گاڑی میں بیٹھ کر لاہور، کراچی اور پشاور جائیں گے اور وہاں سے وہ آئیں گے، میں یورپ میں 11ممالک گھوما اور کسی نے یہ تک نہیں پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہو'۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت و پاکستان کی دشمنی سے سارک کا مقصد فوت ہو رہا ہے، سارک جب بنا تو میں نے محترمہ گاندھی سے پوچھا کہ اس کا کیا فائدہ ہے، تو ان کا جواب تھا کہ ہم یورپی یونین کی طرح ایک جٹ ہو کر ترقی کریں گے، رکاوٹ کہاں ہے؟ ہندوستان اور پاکستان، دونوں کے درمیان دوستی ہوئی تو سارک بہت ہی طاقتور اور مستحکم ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کےصدر نے بھارت پاکستان تعلقات میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی کی وکالت کرتے ہوئے کہا یاد ہے جب کارگل کی جنگ ہوئی؟ کیا تب امریکا نہیں آیا؟ کیا یہ لوگ امریکا کے پاس نہیں گئے؟ کیا پاکستان کا وزیراعظم امریکا کے پاس نہیں گیا کہ ہندوستان سے کہے کہ ہم نکل جائیں گے، 2 ہفتوں کے اندر انہوں نے اپنے تمام ہتھیار واپس لے لئے اور لائن آف کنٹرول واپس آگئی، آج ہم دوستوں کا استعمال کیوں نہیں کرسکتے؟ کب تک لڑتے اور جھگڑتے رہو گے؟ تم تو یہاں آباد ہو، جا کر ہمارا حال دیکھو، سرکار اور سرکار کو بات کرنا پڑے گی، آپ اور میں نہیں بات کرسکتے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ بات چیت کے لئے آپ کو ماحول بنانا پڑے گا، ان لوگوں کا استعمال کرنا پڑے گا جن کے ان کے ساتھ رشتے اچھے ہیں، انہوں نے کہا وہ پاکستان بھی 70 سال سے کہہ رہا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے، ہماری شہ رگ ہے، ہم بھی کہتے ہیں کہ سارا کشمیر ہمارا ہے، کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا پڑے گا ، اس دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔ 

فاروق عبداللہ نے کہا کہ آپ کو شرم الشیخ مصری شہر میں ہوئے معاہدے کے بارے میں معلوم ہی ہوگا؟ اس پر یہاں زبردست شور اٹھا تھا، ہمیں اس پر عمل کرتے ہوئے پرانے زخموں کو بھول کر آگے بڑھنا ہوگا۔

حریت پسندوں کے ساتھ بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کیا وہ کشمیری نہیں ہیں؟ اگر وہ کشمیری ہیں تو ہندوستانی ہیں یا نہیں؟ تو پھر بات کیوں نہیں کرو گے؟ انہوں نے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو الحاق کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دفعات کو کوئی بھی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔ 

ان کا کہنا تھا آپ کبھی بھی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ہٹا نہیں سکتے، یہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی بنیاد ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  61675
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا بازار گرم رکھا ہے جبکہ مقبوضہ علاقے کی بھارت نواز جماعتوں کے رہنما گزشتہ ستر برس سے قوم کو دھوکہ دیکر اقتدار کے مزلے لوٹ رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے سال 2017 میں 6 خواتین اور18 بچوں سمیت291 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کردیا۔ ان میں سے22 افراد کو دوران حراست شہید کیاگیا۔ان شہادتوں کی وجہ سے 31 خواتین بیوہ اور73 بچے یتیم ہوئے
بھارتی جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، تدفین میں ہزاروں افراد کی شرکت کی، شرکا کے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے ، شرکاء پرآنسو گیس کی شیلنگ
مقبوضہ کشمیر میں تاجر تنظیموں نے آئندہ چند روز تک مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے والے کل جماعتی بھارتی وفد کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کے نیم دلانہ اور غیر سنجیدہ اقدامات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

مزید خبریں
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری عبدالمجید نے کہاہے کہ وکلاء براردی کے جملہ مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وکلاء اپنی سفارشات تحریری طور پر بھجوائیں۔ وہ پیر کے

مقبول ترین
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے منظم کیمپ پاکستان میں نہیں،افغانستان میں ان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ نجرمنی کے شہر میونخ میں میں عالمی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان فخر
سابق صدر اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سابق ایس ایس پی راؤ انوار سے متعلق ریمارکس گفتگو کی روانی کے دوران ان کی زبان سے سہواً ادا ہوئے۔
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ لودھراں کے عوام نے ثابت کردیا کہ فیصلے امپائر کی انگلی نہیں عوام کے انگوٹھے کرتے ہیں۔ مخالفین نے جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی کے سواء کچھ نہیں کیا، الیکشن کے بعد آپ لوگوں کو کچھ بڑے فیصلے کرنے ہیں،
انسداد دہشتگردی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمران کوزینب کو اغوا کرنے، زیادتی کرنے اور قتل کرنے پر سزائے موت کا حکم سنا دیااور دفعہ 780 کے تحت بدفعلی پر سزائے موت اور 10 روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے،جبکہ لاش کو گندگی میں چھپانے پر 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزاسنا ئی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں