Thursday, 14 December, 2017
بھارت جنگ سے کشمیر نہیں لے سکتا، فاروق عبداللہ

بھارت جنگ سے کشمیر نہیں لے سکتا، فاروق عبداللہ

نئی دہلی ۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ  کشمیر کے معاملے پر بھارتی پالیسی پر پھٹ پڑے اور کہا ہے کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر تو سنبھالا نہیں جارہا اور اگر اس نے آزاد کشمیر پر ہاتھ ڈالا تو نئی مصیبت آجائیگی، بھارت جنگ سے کشمیر نہیں لے سکتا، ا مریکا سے ثالثی کرالے، واجپائی نے لاہور میں آزاد کشمیر پاکستان کو دینے کی پیشکش کی تھی، بھارت کے پاس طاقتور آرمی، نیوی اور ایئرفورس ہے، 4 جنگیں کرکے جو علاقہ ہمارے پاس تھا وہ بھی پاکستان کو دیدیا، کب تک ہمیں مروایا جائیگا۔

 نئی دہلی میں 'انڈیا ٹوڈے' کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے انکشاف کیا کہ بھارت کے سابق وزیراعظم واجپائی نے پاکستان کو پیش کش کی تھی کہ ایل او سی ٹھیک کرکے پاکستان آزاد کشمیر رکھ لے اور ہم یہ ( مقبوضہ کشمیر) رکھ لیں گے۔

فاروق عبداللہ کے مطابق واجپائی نے بس میں پاکستان جانے سے قبل مجھے نئی دہلی بلایا تھا اور کہا کہ وہ لاہور جارہے ہیں، میں نے کہا مبارک ہو، جب واپس آگئے تو میں نے پوچھا کہ آپ نے پاکستان میں کیا کیا جس پر انہوں نے بتایا کہ میں نے وہاں حکمرانوں کو بتایا کہ تم وہ حصہ پاکستانی کشمیر رکھ لو اور ہم یہ رکھ لیں گے اور ایل او سی کو ٹھیک کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر واجپائی اگلا الیکشن جیت گئے ہوتے تو یہ معاملہ ضرور بہتری کی طرف چلا گیا ہوتا، انہوں نے مزید کہا شاید یہ ہماری بدقسمتی ہے، پتہ نہیں ہمیں کب تک یہ مخمصہ دیکھنا ہوگا۔ 

فاروق عبداللہ نے کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کا پہلا فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب جنرل پرویز مشرف یہاں آئے اور اشوکا ہوٹل میں کھانے پر ہماری ملاقات ہوئی، جب مجھے مشرف سے ملایا گیا تو کہا گیا کہ یہ تھرڈ پارٹی ہے، اس پرمیں نے کہا کہ جناب میں تھرڈ پارٹی نہیں بلکہ فرسٹ پارٹی ہوں۔

فاروق عبداللہ نے پاکستانی کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت وہ کشمیر لے سکتا ہے تو لے لے، میں کب روکتا ہوں ، آپ کے پاس طاقتور آرمی، ایئر فورس اور نیوی ہے، 4 جنگیں آپ نے کرلیں، جو علاقہ آپ کے پاس تھا، وہ بھی آپ نے پاکستان کو دے دیا، کب تک ہمیں مروایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں 82 سال کا ہوں، میں کوئی سیاسی بات نہیں کرتا، میں حقیقت کی بات کرتا ہوں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی کشمیر ان کے پاس 70سال سے ہے، دم ہے تو پاکستانی کشمیر حاصل کرلو، فاروق عبداللہ کے پاس وہ دم نہیں ہے۔ 

فاروق عبداللہ نے کہا اس بھارتی کشمیر کو تو آپ سنبھال نہیں پاتے ، مقبوضہ کشمیر پر ہاتھ ڈالو گے تو ایک نئی مصیبت مول لے لو گے۔ خدا کے واسطے پہلے اس کو تو سنبھال لو تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت ایک اور جنگ نہیں کرے گا۔ 

انہوں نے کہا میں نہیں سمجھتا بھارت جنگ کرے گا، بات چیت سے ہی معاملہ حل ہوگا، جنگ سے کوئی معاملہ حل نہیں ہوگا، بھارتی حکومت کو ایک دن بات کرنی پڑے گی، حکومت پاکستان کو بھی بات کرنی پڑے گی، اس کے بغیر یہ دونوں ممالک آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔

فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ 'میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں جب یہاں سے لوگ گاڑی میں بیٹھ کر لاہور، کراچی اور پشاور جائیں گے اور وہاں سے وہ آئیں گے، میں یورپ میں 11ممالک گھوما اور کسی نے یہ تک نہیں پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہو'۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت و پاکستان کی دشمنی سے سارک کا مقصد فوت ہو رہا ہے، سارک جب بنا تو میں نے محترمہ گاندھی سے پوچھا کہ اس کا کیا فائدہ ہے، تو ان کا جواب تھا کہ ہم یورپی یونین کی طرح ایک جٹ ہو کر ترقی کریں گے، رکاوٹ کہاں ہے؟ ہندوستان اور پاکستان، دونوں کے درمیان دوستی ہوئی تو سارک بہت ہی طاقتور اور مستحکم ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کےصدر نے بھارت پاکستان تعلقات میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی کی وکالت کرتے ہوئے کہا یاد ہے جب کارگل کی جنگ ہوئی؟ کیا تب امریکا نہیں آیا؟ کیا یہ لوگ امریکا کے پاس نہیں گئے؟ کیا پاکستان کا وزیراعظم امریکا کے پاس نہیں گیا کہ ہندوستان سے کہے کہ ہم نکل جائیں گے، 2 ہفتوں کے اندر انہوں نے اپنے تمام ہتھیار واپس لے لئے اور لائن آف کنٹرول واپس آگئی، آج ہم دوستوں کا استعمال کیوں نہیں کرسکتے؟ کب تک لڑتے اور جھگڑتے رہو گے؟ تم تو یہاں آباد ہو، جا کر ہمارا حال دیکھو، سرکار اور سرکار کو بات کرنا پڑے گی، آپ اور میں نہیں بات کرسکتے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ بات چیت کے لئے آپ کو ماحول بنانا پڑے گا، ان لوگوں کا استعمال کرنا پڑے گا جن کے ان کے ساتھ رشتے اچھے ہیں، انہوں نے کہا وہ پاکستان بھی 70 سال سے کہہ رہا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے، ہماری شہ رگ ہے، ہم بھی کہتے ہیں کہ سارا کشمیر ہمارا ہے، کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا پڑے گا ، اس دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔ 

فاروق عبداللہ نے کہا کہ آپ کو شرم الشیخ مصری شہر میں ہوئے معاہدے کے بارے میں معلوم ہی ہوگا؟ اس پر یہاں زبردست شور اٹھا تھا، ہمیں اس پر عمل کرتے ہوئے پرانے زخموں کو بھول کر آگے بڑھنا ہوگا۔

حریت پسندوں کے ساتھ بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کیا وہ کشمیری نہیں ہیں؟ اگر وہ کشمیری ہیں تو ہندوستانی ہیں یا نہیں؟ تو پھر بات کیوں نہیں کرو گے؟ انہوں نے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو الحاق کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دفعات کو کوئی بھی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔ 

ان کا کہنا تھا آپ کبھی بھی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ہٹا نہیں سکتے، یہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی بنیاد ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  32293
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مقبوضہ کشمیر میں تاجر تنظیموں نے آئندہ چند روز تک مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے والے کل جماعتی بھارتی وفد کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کے نیم دلانہ اور غیر سنجیدہ اقدامات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
بزرگ حریت راہنماء اور آل پارٹی حریت کانفرنس کے چئیر مین سید علی گیلانی کی صحت میں بہتری آئی ہے ، جس کے بعد انہیں آئی سی یو سے جنرل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔ چھیاسی سالہ حریت رہنما سید علی گیلانی کو دل میں تکلیف کے باعث میکس ہسپتال منتقل کیا گیا تھا
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے شہید کشمیری محمد افضل گورو کی قربانی کو جموں وکشمیر کی جدوجہد آزادی میں سنگ میل قرار دیا ہے۔ سری نگر سے جاری ایک بیان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا ہے
مقبوضہ کشمیرمیں ممتازکشمیری رہنماء محمدافضل گورو شہید کی آج تیسری برسی کےسلسلےمیں مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے۔ مقبوضہ وادی میں (آج) منگل کو تمام دوکانیں اور کاروباری مراکزبند ہیں اورسڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔ دوسری طرف قابض حکام نے سرینگر کے مختلف علاقوں میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ

مزید خبریں
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری عبدالمجید نے کہاہے کہ وکلاء براردی کے جملہ مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وکلاء اپنی سفارشات تحریری طور پر بھجوائیں۔ وہ پیر کے

مقبول ترین
راولپنڈی۔ پاک فوج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے حق میں ہے جب کہ قیام امن کے لئے قبائلی عوام کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے قبائلی عمائدین اور یوتھ جرگہ کے
بغداد۔ عراق میں داعش کو شکست دینے کے بعد امریکی فوج سمیت دیگرممالک کی افواج کی موجودگی کے سخت مخالف ہیں، ان خیالات کا اظہار تحریک عصائب اہل الحق کے سربراہ نے شیخ قیس خزعلی نے ذرائع ابلاغ
پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکومت ناموس رسالت سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے باز رہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ حکومت نے الیکشن قوانین کی آڑ میں ختم نبوت کے معاملہ میں چھیڑ چھاڑ کی
اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں اویس منظور تارڑنے کہا ہے کہ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جس اچھے ، منفرد اور منظم انداز میں خواتین کی پسماندگی اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئےجو کام کررہی ہےوہ قابل تحسین ہے۔ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جیسے ادارے ہمارے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں