Wednesday, 12 August, 2020
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نا ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا۔

ہندو انتہا پسند بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت کی جانب سے وادی کی خصوصی حیثیت سے متلعق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ مودی سرکار کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصاد م ہے، بھارتی حکومت کا یک طرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

وادی کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے مودی سرکار کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج بی جے پی نے آئین کا قتل کر دیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم بھارتی آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی جانوں سے بھارتی آئین کا تحفظ کریں گے۔

سابق وزیر اعلی مقبوضہ کشمیر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارتی حکومت کا یک طرفہ اور چونکا دینے والا فیصلہ کشمیریوں کے بھروسے کے ساتھ دھوکا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے متعلق ہمارے خدشات بدقسمتی سے درست ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف جارحیت ہے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کے خطرناک نتائج ہوں گے، آگے ایک طویل اور سخت جنگ ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں۔

واضح رہےکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے بھارت نے مسترد کر دیا اور امریکی صدر کی پیشکش کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔

لائن آف کنٹرول پر بھی بھارتی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہو گیا ہے اور بھارت نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بموں سے حملے کر رہا ہے جو جینیوا کنونشن کے ساتھ عالمی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

بھارت نے آئین سے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے قبل مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ سمیت حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر کے اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22855
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مقبوضہ کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے 8 جولائی کو ممتاز کشمیری نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی یوم شہادت اور 13 جولائی کو یوم شہدا پر عوام سے مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کشمیر میں ماہ رمضان کے دوران بھی قابض بھارتی فوج کی جنونیت میں کمی واقع نہیں ہوئی، بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی جاری ہے اور مذہبی آزادی پر قدغن لگائی گئی ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں پلوامہ ضلع میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک آپریشن کے دوران کھریو پانپور کے شارشالی علاقے میں فوج اور حریت پسندوں کے درمیان فائرنگ میں 2 نوجوانوں کو شہید کردیا گیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم جاری ہے، ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

مقبول ترین
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی غیر قانونی اراضی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی منسوخ ہوگئی۔ نون لیگی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے نیب آفس بلایا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں