Tuesday, 10 December, 2019
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نا ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا۔

ہندو انتہا پسند بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت کی جانب سے وادی کی خصوصی حیثیت سے متلعق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ مودی سرکار کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصاد م ہے، بھارتی حکومت کا یک طرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

وادی کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے مودی سرکار کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج بی جے پی نے آئین کا قتل کر دیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم بھارتی آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی جانوں سے بھارتی آئین کا تحفظ کریں گے۔

سابق وزیر اعلی مقبوضہ کشمیر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارتی حکومت کا یک طرفہ اور چونکا دینے والا فیصلہ کشمیریوں کے بھروسے کے ساتھ دھوکا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے متعلق ہمارے خدشات بدقسمتی سے درست ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف جارحیت ہے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کے خطرناک نتائج ہوں گے، آگے ایک طویل اور سخت جنگ ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں۔

واضح رہےکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے بھارت نے مسترد کر دیا اور امریکی صدر کی پیشکش کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔

لائن آف کنٹرول پر بھی بھارتی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہو گیا ہے اور بھارت نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بموں سے حملے کر رہا ہے جو جینیوا کنونشن کے ساتھ عالمی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

بھارت نے آئین سے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے قبل مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ سمیت حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر کے اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  92136
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
بھارتی جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، تدفین میں ہزاروں افراد کی شرکت کی، شرکا کے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے ، شرکاء پرآنسو گیس کی شیلنگ
تحریک اتحاد امت پاکستان کے سربراہ علامہ پیر سید چراغ الدین شاہ نے کہا ہے کہ بیت المقدس کو یہودیت سے آزاد کروانے کے لیے ملت اسلامیہ ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف متحد ہو جائے
مقبوضہ کشمیر کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنماؤں سے نارواسلوک اور قابض فوج کے مظالم کے خلاف پوری مقبوضہ وادی میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ بھارتی فوج نے ہزاروں مظاہرین کے مجمع پر فائرنگ، شیلنگ اور لاٹھی چارج کرکےسیکڑوں کشمیریوں کو زخمی کردیا
حریت رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق گزشتہ روز سے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ قابض انتظامیہ نے یاسین ملک کو بھی گرفتار کرکے سینٹرل جیل منتقل کردیا ہے۔

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ لندن احتجاج کا پلان بنانے والوں کے نام وقت آنے پر بتاؤں گا۔ نواز شریف حکومت نہیں عدالتی فیصلے سے لندن گئے، قائد کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو آخری حد تک جائیں گے
انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے منصوبے کک بیکس کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے، ایسی باتیں بیوقوف ہی کر سکتے ہیں۔ ملک میں کرپٹ لوگوں
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی بارڈرز پر کہیں بھی کوئی مشترکہ پیٹرولنگ نہیں ہوتی۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے طُلبہ یونین بحالی کا بل منظور کرلیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کے بحال کردہ طلبہ یونین بل 2019ء کے مطابق اسٹوڈنٹ یونین کسی بھی تعلیمی ادارے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں