Wednesday, 21 February, 2018
پابندیوں سے ثابت ہو گیا ہے کشمیر ایک پولیس اسٹیٹ ہے، حریت کانفرنس

پابندیوں سے ثابت ہو گیا ہے کشمیر ایک پولیس اسٹیٹ ہے، حریت کانفرنس

سرینگر۔ مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے معروف کشمیری رہنماؤں شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی برسیوں کے موقع پرکٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے سخت پابندیوں کے نفاذ اور حریت قائدین کی نظربندی کی شدید مذمت کی ہے ۔ 

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ انتظامیہ نے پابندیاں عائد کر کے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ جموں وکشمیرعملاً ایک پولیس اسٹیٹ ہے اور دنیا کا سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا بھارت کا دعویٰ محض ایک فراڈ اور دھوکہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ حریت کانفرنس نے کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے اور نئی دلی کی تہاڑ جیل سے انکی میتوں کی انکے اہلخانہ کو واپسی کے مطالبے کے حق میں مکمل ہڑتال اورسونہ وار میں اقوام متحدہ کے مبصر دفتر کی طرف مار چ کی کال دی تھی تاہم انتظامیہ نے مارچ کو ناکام بنانے کیلئے متعدد آزادی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار اور سخت پابندیاں نافذ کر دیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ وادی میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرنے، حریت رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن اور یو این او آفس میں یادداشت پیش کرنے کے پروگرام پر قدغن عائد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے بزدلانہ اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے کشمیری مرعوب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک، محمد اشرف صحرائی، حاجی غلام نبی سمجھی، غلام احمد گلزار، محمد اشرف لایا، بلال صدیقی، محمد یوسف نقاش، محمد یٰسین عطائی، عمر عادل ڈار، سید امتیاز حیدر، محمد یوسف بٹ، بشیر احمد چوہان اور سجاد احمد پالہ کے علاوہ دیگر آزادی پسند لیڈروں اور کارکنوں کی فوری رہائی پر زور دیا، جنہیں گزشتہ دنوں گرفتار کرکے گھروں، تھانوں یا جیلوں میں نظربند کردیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان رہنماؤں کی نظربندی کا کوئی قانونی یا آئینی جواز ابھی تک پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ 

حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ مشترکہ حریت قیادت نے شہید محمد مقبول بٹ، شہید افضل گورو اور جملہ شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے اور تہاڑ جیل میں دفن دونوں سرفروشوں کی میتوں کی واپسی کے مطالبے کیلئے ہڑتال اور مار چ کی کال دی تھی اور جب تک کشمیریوں کی امانت انہیں واپس نہیں کی جاتی ہمار ایہ مطالبہ جاری رہے گا۔

انہوں نے مشترکہ حریت قیادت کی کال پر بڑی تعداد میں شرکت کے ذریعے پروگراموں کو کامیاب بنانے پر کشمیری عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مطالبۂ آزادی کے حق میں ایک ریفرنڈم قراردیا۔ 

انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام نے بھرپور شرکت کے ذریعے بھارتی حکمرانوں اور عالمی برادری کو پیغام بھیج دیا ہے کہ کشمیری قوم بھارت کے جبری قبضے کے خلاف آج بھی سراپا احتجاج ہے اور جب تک ان کے شہداء اور سرفروشوں کا مشن پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچتا، وہ اپنی جدوجہد ہر قیمت پر اور ہر صورت میں جاری رکھیں گے اور ان کی اس جدوجہد کو بھارت اپنی فوجی طاقت کے ذریعے سے دبا نہیں سکتا ہے

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26460
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی نے خبردارکیا ہے کہ اگرکشمیری نوجوانوں کے خلاف بھارتی فورسز کی ظالمانہ کارروائیاں فوری طور پرنہ روکی گئیں تو اس کے سنگین نتائج پرآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اوربھارتی پولیس پر عائد ہوگی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، پاک فوج نے کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا اور تتہ پانی سیکٹر میں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے والی بھارتی چیک پوسٹ ہی اڑا دی، کارروائی میں 5 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کے رُکن اور تحریک وحدت اسلامی کے سیکریٹری جنرل محمد یوسف ندیم کے نامعلوم مسلح افرادکے ہاتھوں قتل کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی کارروائی قراردیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ممتاز کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی شہادت کی برسی پرآج مکمل ہڑتال ہے۔ سرینگر اور دیگر تمام بڑے قصبوں میں بازار اورکاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت قیادت کی طرف سے ہونے والے اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ روکنے کے لیے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں

مزید خبریں
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری عبدالمجید نے کہاہے کہ وکلاء براردی کے جملہ مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وکلاء اپنی سفارشات تحریری طور پر بھجوائیں۔ وہ پیر کے

مقبول ترین
پاک فوج کے اضافی دستے سعودی عرب بھیجنے پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کا معاملہ پھر زیر بحث آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اظہار
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے درست کہا ہے کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں اور جب سیاست دانوں پربھینس چوری کے پرچی کٹے تو غلطی تب بھی ہوئی۔
ایرانی دار الحکومت تہران میں سکیورٹی فورسز اور صوفی عقیدت مندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تہران پولیس کے ترجمان بریگیڈیئر سعید منتظرالمہدی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران کے
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں