Tuesday, 07 April, 2020
’’مقبوضہ کشمیر: پلوامہ میں مذید تین کشمیری نوجوان شہید‘‘

’’مقبوضہ کشمیر: پلوامہ میں مذید تین کشمیری نوجوان شہید‘‘

سری نگر ۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گھر گھر تلاشی کے دوران قابض بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور وادی میں مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو 6 ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے۔

وادی میں گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال موبائل اور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہیں جب کہ حریت قیادت اور سیاسی رہنما بدستور گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق  قابض فوج نے تازہ کارروائی کی جس میں ضلع پلوامہ میں محاصرے کے دوران گھر گھر تلاشی کی آڑ میں تین کشمیری نوجوان کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔

خیال رہے کہ سال 2019 بھی کشمیریوں کے لیے گزشتہ 70 سالوں کی طرح سفاکانہ اور اذیت ناک رہا، سال 2019 میں 210 کشمیریوں کو شہیداور 2417 کو زخمی کیا گیا جبکہ 12 ہزار 892 کو گرفتار کیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال شہید ہونے والوں میں 3 خواتین اور 9 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 16کشمیریوں کو جعلی مقابلوں یا دوران حراست تشدد سے شہید کیا گیا، زخمیوں میں سے827 افراد پیلٹ گن کا نشانہ بنے اور بھارتی فورسزکے ہاتھوں چھروں کا نشانہ بننے والے 162 کشمیری بینائی سے محروم ہوگئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 662 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر
بھارت نے 5 اگست 2019 کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل آرٹیکل 370 کو ختم کردیا اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کر دیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جب کہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔ بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر الیے۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟
بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا تھا۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے تھے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50833
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہوں نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، کشمیری اپنی سر زمین پر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے ترس گئے۔
بھارتی جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، تدفین میں ہزاروں افراد کی شرکت کی، شرکا کے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے ، شرکاء پرآنسو گیس کی شیلنگ
مقبوضہ وادی میں خواتین کی چٹیا کاٹنے کے خلاف حریت راہنماؤں کی اپیل پر مکمل ہڑتال جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تمام کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے آج ہونے والے امتحانات ملتوی کردئے گئے ہیں۔جبکہ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی تاحال نظر بند ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کی جانب سے خواتین کی چٹیا کاٹے جانے کے واقعات کے خلاف احتجاجی کال پر وادی میں کرفیو کا سماں ہے جب کہ قابض انتظامیہ نے سڑکوں پر خاردار باڑیں لگادیں ہیں۔حریت قیادت کی کال پر سری نگر میں کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے۔

مقبول ترین
قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 397 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3278 ہوگئی جن میں 259 صحت یاب ہوگئے ہیں۔
کورونا کا شکار برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ برطانیہ میں مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 4 ہزار 934 ہو گئی۔ برطانیہ میں کورونا وائرس بے قابو ہوتا جا رہا ہے، برطانوی وزیراعظم کو حالت خراب ہونے پر ہسپتال
تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بڑے فیصلے کرتے ہوئے رپورٹ کی روشنی میں کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہی، بعد ازاں مقامی نشریاتی ادارے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو
خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ منظور، شہزاد ارباب کو مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، فخر امام غذائی تحفظ، امین الحق انفارمیشن ٹیکنالوجی، حماد اظہر کو صنعت وپیداوار کی وزارت دیدی گئی جبکہ بابر اعوان کو مشیر برائے پارلیمانی امور مقرر کر دیا گیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں