Friday, 06 December, 2019
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا

سرینگر ۔ مقبوضہ کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات کرفیو کے نفاذ ، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔ ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت ہلاکت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔ برہان وانی کی طرح سبزار بٹ کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ کئی جگہ غائبان نماز بھی ادا کی گئی ۔ سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت ہلاکت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات کرفیو کے نفاذ ، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔ سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت ہلاکت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔ مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ تین کی حالات نازک ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق ہفتے کو ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کی کاروائیوں کے دوران 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 12 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ سات چھروں سے زخمی ہیں۔

برہان وانی کی طرح سبزار بٹ کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ کئی جگہ غائبان نماز بھی ادا کی گئی۔ سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔ 

دریں اثنا حکومت نے موبائل فون رابطوں، انٹرنیٹ، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت کرفیو ہے جبکہ وادی کے تجارتی مرکز لال چوک کو سیل کردیا گیا۔
ترال میں اتوار کو پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے دوران سبزار بٹ کو اپنے گاوں رٹھ سونا میں دفن کیا گیا۔ ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل سرینگر سمیت کئی مقامات پر سبزار کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔

سبزار بٹ گذشتہ برس جولائی میں مارے گئے مقبول کمانڈر برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔
برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پورا کشمیر کئی ماہ تک کشیدہ رہا اور مظاہرین کے خلاف سرکاری کاروائیوں میں تقریباً 100 نوجوان مارے گئے جبکہ دس ہزار سے زیادہ گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوئے۔

سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے متحدہ مزاحمتی فورم نے ان ہلاکتوں کے خلاف اتوار اور پیر کو ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ منگل کو ترال میں تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔ تینوں رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس مختلف بہانوں سے گرفتار کرتی ہے اور جیلوں میں ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان کی ہلاکت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجنئیرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بٹ گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے۔

گذشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے یہ اپیلیں کی جا رہی تھیں کہ رمضان کے مہینے کے دوران کشمیر میں امن کو یقینی بنایا جائے تاہم ہفتے کی صبح جب سبزار کی ہلاکت کا انکشاف ہوا تو کشمیر پھر سے اُبل پڑا۔

رمضان کے پہلے روزے کے لیے لوگ کسی سحرخوان کی دستک سے نہیں بلکہ ایمبولینس گاڑیوں کی سائرن سے جاگے کیونکہ رات بھر مضافاتی ہسپتالوں سے زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔
حکومت نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بدھ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ امتحانات اور سرکاری اسامیوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  88691
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہوں نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، کشمیری اپنی سر زمین پر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے ترس گئے۔
مقبوضہ وادی میں جبری پابندیاں 23 ویں روز میں داخل، وادی کو وسیع قید خانےمیں بدل دیا گیا۔ دکانیں، کاروبار بند ہونے کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء کے لالے پڑ گئے، ادویات اور دودھ کا سٹاک بھی ختم ہو گیا۔
بھارتی جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، تدفین میں ہزاروں افراد کی شرکت کی، شرکا کے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے ، شرکاء پرآنسو گیس کی شیلنگ
بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی اور گزشتہ روز تین کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے بعد کے خلاف پورے مقبوضہ کشمیر میں آج شٹرڈاؤن ہڑتال ہے، سکول اورکالج بند جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔ سری نگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں طلبا بھارتی بربریت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

مقبول ترین
قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہاولپور کے قریب اسٹرائیک کور کا دورہ کیا، سپہ سالار نے ائیر فورس اور رائل سعودی فورس کی مشترکہ سرمائی تربیتی مشقیں دیکھیں
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاداکبر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے اثاثوں میں 10سال میں 70 گنا اضافہ ہوا۔ شہزاداکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ پر کرپشن
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میری پوری توجہ معیشت مستحکم کرنے پر ہے اور ہماری حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا ہے۔ اسلام آباد میں ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں