Sunday, 16 June, 2019
مقبوضہ کشمیر، سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی

مقبوضہ کشمیر، سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی

سری نگر۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ رواں ہفتے جاری ہونے والے نئے آرڈر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سرکاری ملازمین اب سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرسکیں گے۔آرڈر کے تحت سرکاری ملازمین کو سیاسی معاملات اور حکومت پر تنقید سے بھی روکا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے مطابق قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں خبردار ہیں اور کسی بھی قسم کا حکومت مخالف مواد ملنے کی صورت میں کارروائی عمل میں لائیں گی۔ آرڈر کے مطابق ملازمین کو کسی بھی قسم کی مجرمانہ، بے ایمانی پر مشتمل اور شرمناک پوسٹ کرنے سے روکا گیا ہے۔علاوہ ازیں ضلع میں سرکاری ملازمین کو سیاسی معاملات اور حکومت پر تنقید سے بھی روکا گیا ہے۔

دوسری جانب ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرپرست عبد القیوم وانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر لگائی گئی قدغن کو فوری دور کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس معاملہ پر عدالت سے بھی جلد رجوع کیا جائے گا۔

حریت رہنما یاسین ملک کا بھی اس حوالے سے کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کی پابندی دنیا کی بدترین آمریت سے مشابہ ہے۔ یاسین ملک نے سوشل میڈیا پر پابندی کو آزادی اظہار رائے کو دبانے کا ایک ہتھکنڈا بھی قرار دیا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76398
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
بھارتی فوج اور پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کلگام میں گاؤں کا محاصرہ کرلیا اور گھر گھر تلاشی لینی شروع کردی۔ قابض افواج کے اہلکاروں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا۔ آپریشن کے خلاف
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرپار جموں و کشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا او آئی سی بھارت کے اندورنی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔
اقوام متحدہ نے بھارتی حکومت جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندی لگانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا۔
مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت نے وادی میں فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کی 16 ویب سائٹس پابندی لگا دی ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے مطابق حکومت 1885 میں برطانوی دور کے دوران بنائے گئے انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں