Wednesday, 21 February, 2018
پاکستان کو افغان سالمیت کا خیال رکھنا چاہیے، افغان سفیر

پاکستان کو افغان سالمیت کا خیال رکھنا چاہیے، افغان سفیر

اسلام آباد ۔ پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر زخیلوال نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے سمجھ لیا کہ اب افغانستان کا ہر معاملہ اسلام آباد طے کریگا جبکہ پاکستان کو افغان سالمیت کا خیال رکھنا چاہیے اور ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔ افغانستان، بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ افغان صورتحال کے باعث پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی تاہم افغان سرزمین پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی محفوظ پناہ گاہیں اور دونوں ممالک میں شدید بداعتمادی کی فضاء کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری سے غلطیاں ہوئی ہیں۔

اسلام آباد میں "دوطرفہ مفاہمت کے مواقع اور چیلنجز" کے موضوع پر پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے منعقدہ گول میز مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے ماحول تیزی سے تبدیل ہورہا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین بہت سے حل طلب مسائل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ تاہم پاکستان اور افغانستان میں عالمی برادری کی غلطیاں دُہرائی نہیں جانی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن افغانستان میں دیرپا امن کے قیام سے ہی ممکن ہے اور کسی تیسرے ملک پر تکیہ کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مفاہمت کے ذریعے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات سنگین عدم اعتماد کا شکار ہے جبکہ دونوں ممالک کی ثقافت، تاریخ، جغرافیہ اور اقتصادیات ایک دوسرے پر منحصر ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان کو اکیلا کرنے یا تنہا کرنے میں افغانستان کبھی حصہ دار نہیں بنے گا کیونکہ پاکستان کو تنہا کرنا افغانستان کے مفاد میں نہیں اور ہمیں ایک دوسرے کو سالمیت و خودمختاری کے تحفظ کی یقین دہانی کرانا ہوگی۔

افغان سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک عدم استحکام کا شکار رہے تو جنوبی و وسطی ایشیاء کے مابین پل نہیں بن سکیں گے جبکہ عدم اعتماد کی فضاء ختم ہوگی تو دونوں ممالک میں عوامی خوشحالی کی بنیاد پڑے گی۔ پاکستان کو افغانستان کے بھارت سے تعلقات کو بھی مثبت انداز میں دیکھنا ہوگا اور ’ہم یقین دلاتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان پاکستان کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خوشحال ہوگا تو افغانستان بھی آگے بڑھے گا جبکہ دونوں ممالک کے عوام بہترین دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں، ’دوطرفہ سطح پر عوام آزادانہ تجارت، کاروبار، تعلقات کے خواہاں ہیں‘۔افغان سفیر نے کہا کہ طالبان، حقانی نیٹ ورک یا ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور غیر ریاستی یا ریاستی عناصر ہماری سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کریں۔

اس موقع پر افغان سفیر سے سوال کیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کیوں خراب ہیں؟ جس پر عمر زخیلوال کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک یا ریاستوں نے تعلقات میں بد انتظامی سے کام لیا اور افغانستان کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں توازن نہیں رکھا گیا جبکہ افغانستان، امریکا اور چین پر انحصار کرتا رہا لیکن پاکستانی ریاستی اداروں کے خلاف بدزبانی کی گئی تاہم پاکستان نے بھی افغانستان کے ریاستی اداروں میں مداخلت کی۔

افغان سفیرنے مزید کہا سرحد پر رکاوٹیں کھڑی کرنا اور راہداری کے مسائل پیدا کئے گئے جبکہ پاکستان کو بھی افغانستان کو آزادانہ حیثیت میں دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان نے سمجھ لیا کہ اب افغانستان کا ہر معاملہ اسلام آباد طے کریگا جبکہ پاکستان کو افغان سالمیت کا خیال رکھنا چاہیے اور ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔

ان کا مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی بدلنا ہوگی جبکہ پاکستان میں بھارت کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

افغان سفیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو دوطرفہ امور اور اپنے مفادات کو دیکھنا چاہیے اور کسی تیسرے ملک سے تعلقات پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کو نقصان نہ پہنچائیں جبکہ ہماری سرزمین کسی غیر ریاستی عناصر یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کافی عرصے سے بد اعتمادی کی فضاء قائم ہے جس کی وجہ افغانستان حکومت کا پاکستان کے روایتی حریف بھارت پر انحصار بڑھانا ہے جبکہ افغان حکومت کا الزام ہے کہ پاکستان ان کے ملک میں مداخلت کا ذمہ دار ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  59518
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاک فوج کے دستے کی سعودی عرب روانگی سے متعلق وزیر دفاع خرم دستگیر نے سینیٹ اجلاس کے دوران حکومت کے پالیسی بیان میں کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب سمیت مختلف اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون جاری ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور دن رات کام کرنے پر انہیں نکالا گیا لیکن اب ووٹ کے تقدس کے لئے عوام کو کچھ کرنا پڑے گا۔ شیخوپورہ کے کمپنی گراؤنڈ میں عوامی اجتماع سے
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے منظم کیمپ پاکستان میں نہیں،افغانستان میں ان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ نجرمنی کے شہر میونخ میں میں عالمی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان فخر
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے سینیٹ الیکشن کی نشست کے معاملے پر رابطہ کمیٹی کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے چار اراکین کے نام دے دیں۔وہی ہمارے امیدوار ہوں گے، دیگر امیدوار دستبردار ہوجائیں گے۔ میں باقاعدہ اعلان کردوں گا۔

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورے عزم سے لڑ رہے ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے پشاور میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اور ارکان قومی
سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورنے تحریک انصاف میں باضابطہ طور پر شامل ہونےکی تصدیق کردی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جمہوریت پسند جماعت ہے اس لئے اس میں شامل ہونے کا

مقبول ترین
پاک فوج کے اضافی دستے سعودی عرب بھیجنے پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کا معاملہ پھر زیر بحث آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اظہار
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے درست کہا ہے کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں اور جب سیاست دانوں پربھینس چوری کے پرچی کٹے تو غلطی تب بھی ہوئی۔
ایرانی دار الحکومت تہران میں سکیورٹی فورسز اور صوفی عقیدت مندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تہران پولیس کے ترجمان بریگیڈیئر سعید منتظرالمہدی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران کے
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں