Monday, 24 September, 2018
آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل، احد چیمہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل، احد چیمہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

لاہور ۔ لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی کے مبینہ کرپشن کیس میں گرفتار کئے گئے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( ایل ڈی اے ) کے سابق سربراہ احمد خان کو 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کو سخت سکیورٹی میں لاہور کی احتساب عدالت کے جج محمد اعظم کے روبرو پیش کیا گیا۔ انہیں بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت لایاگیا۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے احد چیمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے نے کروڑوں روپے کے اثاثے بنائے ،ان کی آمدن اور اثاثوں میں مطابقت نہیں ہے ، نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ احد چیمہ نے اختیارات کا بھی غلط استعمال کیا۔ نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایل ڈی اے کے سابق سربراہ پر 32 کنال اراضی میں رشوت لینا کا الزام ہے، جس پر تفیتیش کے لیے ان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

احتساب عدالت کے جج نے دلائل سننے کے بعد  نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے احد چیمہ کو 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے اور نیب کو ہدایت کی ہے کہ 5 مارچ تک چالان مکمل کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حلقے میں ہلچل مچ گئی تھی۔ پنجاب میں دو پاور کمپنیوں کے سربراہ احد خان چیمہ کو نیب میں طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر لاہور میں ان کے گلبرگ دفتر سے گرفتار کیا گیا۔

اس حوالے سے نیب کے حکام نے بتایا تھا کہ ہم نے احد خان چیمہ کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں تحقیقات کے لیے طلب کیا تھا، تاہم وہ نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری نوٹس میں احد خان چیمہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ طلبی پر عمل نہیں کرتے تو انہیں قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 2 کے تحت تعزیری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب ایل ڈی اے کے سابق سربراہ کی گرفتاری پر صوبائی حکومت کی جانب سے سخت تنقید کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد کا کہنا تھا کہ نیب نے احد خان چیمہ کو گرفتار کرکے اپنے اختیارات کو پامال کیا ہے اور یہاں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جس میں نیب نے انہیں گرفتار نہیں کیا جو ان کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے سینئر سرکاری نمائندے کی گرفتاری میں قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا اور یہ معاملہ پنجاب حکومت کے لیے تحفظات کا باعث ہے۔ سابق ایل ڈی اے کے سربراہ کا دفاع کرتے ہوئے ملک محمد احمد کا کہنا تھا کہ احد خان چیمہ ایک ایماندار اور فرض شناس افسر ہیں اور نیب کا ان کے خلاف ایکشن درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اپنے آخری نوٹس میں نیب نے احد خان چیمہ سے سوال کیا تھا کہ وہ آشیانہ اقبال ہاؤسنگ منصوبے کے لیے ٹھیکہ ملنے سے متعلق تفصیلی بیان دیں جو وزیر اعلیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا جبکہ ساتھ ہی لاہور میں موزہ تھیڈا کینٹ میں 32 کینال زمین کی خریداری کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔

اس بارے میں ذرائع کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے کے سابق سربراہ کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے میں ہچکچاہٹ اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ وہ اپنے باس کے کہنے پر یہ کررہے ہیں جبکہ یہ بھی اطلاعات تھیں کہ وہ اس تحقیقات سے بچنے کے لیے ملک سے باہر جانے کے لیے بھی کہ رہے تھے تاہم نیب کی جانب سے بغیر ایف آئی آر کے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ قانون کے مطابق اگر ملزم نیب کے ساتھ تحقیقات میں تعاون نہیں کرتا اور وہ ثبوت رکھتا ہے جسے مسخ کیا جاسکتا ہو تو نیب کو یہ اختیار ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرنے سے قبل اسے گرفتار کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ نیب نے گزشتہ ماہ شہباز شریف کو منصوبے کی کامیاب بولی لگانے والی کمپنی ایم/ایس چوہدری لطیف اینڈ سنسز کے ٹھیکہ ختم کرکے ایم/ایس لاہور کاسا ڈویلپرز (جے وی) کو دینے پر طلب کیا تھا اور پوچھا تھا کہ حکومت نے یہ ٹھیکہ کیوں ختم کیا جبکہ جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا وہ کمپنی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی جانب سے بنائی گئی ایم/ ایس پیراگون سٹی (پرائیویٹ) لمیٹڈ گروپ کی پروکسی کمپنی ہے اور اس کے باعث قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔

اس حوالے سے نیب کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے مبینہ طور پر پی ایل ڈی سی کو ہدایت کی تھی کہ وہ یہ منصوبہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( ایل ڈی اے) کو تفویض کریں جس کے نتیجے میں اس کا ٹھیکہ ایم/ایس لاہور کاسا ڈویلپرز (جے وی) کو دیا گیا اور یہ منصوبہ ناکام ہوا اور 71 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان کا سامنا ہوا۔

اسی طرح وزیر اعلیٰ کی مبینہ طور پر پی ایل ڈی سی کو دی گئی ہدایت پر اس منصوبے کی مشاورتی سروس کا ٹھیکہ ایم/ایس انجینئرنگ کنسلٹینسی سروسز پنجاب کو 19 کروڑ 20 لاکھ روپے میں دیا گیا، جس کی اصل مالیت نیسپاک کے مطابق 3کروڑ 50 لاکھ روپے تھی۔

اس بارے میں نیب کی جانب سے فواد حسن فواد کو بھی طلب کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ 2013 میں جب فواد حسین فواد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے امپلیمینٹیشن سیکریٹری تھے تو اس وقت پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی ( پی ایل ڈی سی) کے چیف ایگزیکٹو افسر ( سی ای او) کی جانب سے مبینہ طور پر ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ ایم/ایس لطیف اینڈ سنز کا ٹھیکہ ختم کرکے کسی دوسری کمپنی کو دیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ’ انہوں نے آشیانہ اقبال منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو اپنے دفتر بلایا اور انہیں نتائج بگھتنے کی دھمکی دی اور ایم/ ایس لطیف اینڈ سنسز کو قواعد و ضوابط کے خلاف ٹھیکا دینے کا الزام لگایا اور انہیں اس کمپنی کا ٹھیکہ ختم کرنے پر مجبور کیا۔‘

علاوہ ازیں احد خان چیمہ کی گرفتاری کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ نیب کو نیب بن کر کام کرنا چاہیے اور خواہش ہے کہ نیب گزشتہ 8 برسوں میں مخلتف منصوبوں میں بچائے گئے اربوں روپے کے بارے میں ہم سے پوچھے‘ جبکہ نیب کو مخلتف تحقیقات کے مطلوب تمام ریکارڈ بھیج دیا تھا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28854
کوڈ
 
   
مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورے عزم سے لڑ رہے ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے پشاور میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اور ارکان قومی
سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورنے تحریک انصاف میں باضابطہ طور پر شامل ہونےکی تصدیق کردی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جمہوریت پسند جماعت ہے اس لئے اس میں شامل ہونے کا

مقبول ترین
سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دادو سندھ میں نائی گچ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیامربھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ اکاونٹ کا ٹائٹل
گوگل نے اس بات کی تصدیق امریکی قانون دانوں کو لکھے گئے ایک خط میں کی ہے جس میں گوگل نے وضاحت کی ہے کہ تھرڈ پارٹی ڈیولپرز جی میل اکاؤنٹس تک رسائی اور شئیرنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج دانیال چوہدری کی درخواست پر سماعت کی۔
جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے بتایا کہ مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن کی چھان بین جاری ہے، اب تک کی تحقیقات میں 334 افراد کے ملوث ہونے کا پتہ چلا ہے، یہ تمام ملزمان جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنر کرتے رہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں