Wednesday, 03 June, 2020
لاک ڈاؤن: نرمی کا فیصلہ 14 اپریل کو کرینگے، وزیراعظم

لاک ڈاؤن: نرمی کا فیصلہ 14 اپریل کو کرینگے، وزیراعظم

کوئٹہ ۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مشاورت چل رہی ہے،لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ 14اپریل کوکریں گے۔ چودہ اپریل کوفیصلہ کریں گے کون سے شعبے کھولنے ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے سارا پاکستان متاثر ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے دکاندار لاک ڈاؤن کی وجہ سے سارے متاثر ہو گئے ہیں اور اس کے باعث ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کی کیسے مدد کر سکیں، اس کے لیے آج ہم نے احساس پروگرام شروع کیا ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا احساس پروگرام شروع کیا ہے جو اس سے قبل کسی بھی حکومت نے شروع نہیں کیا تھا، ایک کروڑ 20 خاندان کو ہم 12 ہزار روپے دیں گے، تقریباً سولہ ہزار پوائنٹس پر پورے پاکستان میں اس کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں غربت سب سے زیادہ ہے، تو اسی لیے میں آیا تھا کہ تاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے ساتھ پوری طرح بات کر سکیں، کہ کیسے ہم لوگوں کی زندگی بہتر کر سکتے ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 14 تاریخ کو بلوچستان سمیت سارے صوبے فیصلہ کر رہے ہیں کہ کون کون سی چیزیں کھولنی ہے تاکہ لوگوں کو روز گار مل سکے۔ اس پر ابھی مشاورت چل رہی ہے۔ اس کا فیصلہ 14 تاریخ کو ہو جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس پورے پاکستان کے لیے مسئلہ ہے اور مجھے امید ہے سارا پاکستان مل کر اس وباء کے ساتھ لڑے گا اور قوم یہ جنگ جیتے گی، یہ بار بار اس لیے کہتا ہوں کہ حکومت یہ جنگ اکیلے نہیں جیت سکتی۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ مغرب کے پاس بہت سارے وسائل ہیں وہ بھی بہت مشکل میں پڑے ہوئے ہیں، اگر چین نے اس وباء پر قابو پایا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت اور عوام نے مل کر وباء کا مقابلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ سب کی مدد کریں جدھر کدھر لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے وہاں پر اشیاء پہنچائیں کیونکہ بلوچستان میں غربت سب سے زیادہ ہے، اسی وجہ سے میں نے صوبے کا دورہ کیا۔

اس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں لگ رہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ملک کے ہسپتالوں پر بہت دباؤ پڑے گا تاہم ہم سب نے مل کر اس کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کی کوئی مثال نہیں لہٰذا میرا آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک قوم بن کر مقابلہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس صورتحال کی وجہ سے 2 چیزوں کی فکر ہے ایک یہ کہ اس سے ہماری صحت کی سہولیات پر جو دباؤ پڑ رہا ہے تاہم فی الحال ابھی اتنا زیادہ دباؤ نہیں ہے لیکن جو ہم دیکھ رہے ہیں اور دنیا میں جس طرح اضافہ ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہمارا اندازہ ہے کہ اپریل کے آخر تک ہسپتالوں پر بہت دباؤ ہوگا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پورا ملک اس سے نمٹنے کی تیاری کررہا ہے، ہمارا ایک نیشنل کمانڈ ایک آپریشن سینٹر بنا ہے جس میں روازنہ سارے چیف سیکریٹریز اور صوبوں کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے، اس کے علاوہ ہمارے ماہرین صحت کورونا وائرس کے کیسز کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں اور یہ بھی دیکھ رہے کہ کتنی اموات ہوئی اور ان کی کیا عمر تھی جبکہ ابھی کتنے لوگ آئی سی یوز میں ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے سب سے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ بھارت اور بنگلا دیش میں کیسز کس طرح کے ہیں کیونکہ ان کی اور ہماری آبادی ملتی جلتی ہے اور اس سب چیزوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

کورونا وائرس سے تحفظ کے سامان پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈاکٹرز، نرسز، ہیلتھ ورکرز کے لیے خصوصی حفاظتی کپڑوں پر پورا زور لگایا ہوا ہے جبکہ جو لوگ انتہائی نگہداشت میں کام کریں گے ان کے لیے حفاظتی کٹس پورے کردیے ہیں، تاہم اللہ کا کرم ہے کہ بلوچستان میں ابھی تک کوئی مریض آئی سی یو میں نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں وینٹی لیٹرز اور ذاتی تحفظ کی کٹس کی کمی ہے اور طلب بڑھنے کی وجہ سے دنیا میں اس پر دباؤ بڑھا ہوا ہے ہمیں لگ رہا ہے کہ مہینے کے آخر تک ہمارے ہسپتالوں پر بڑا دباؤ پڑے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بلوچستان میں یہ دباؤ کم ہوگا لیکن دیگر صوبوں میں زیادہ ہوگا کیونکہ یہاں صرف کوئٹہ میں آبادی زیادہ ہے اور گنجان آباد ہے ورنہ باقی بلوچستان پھیلا ہوا ہے اور آبادی دور دور ہے، تاہم اس کے بنسبت اگر خدانخواستہ یہ بیماری پھیلنا شروع ہوئی تو ہمارے شہر کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، راولپنڈی وغیرہ میں بہت زیادہ دباؤ پڑے گا۔

اپنی گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یومیہ اجرت والے، چھوٹی دکانداروں و دیگر ایسے لوگوں پر بلوچستان میں زیادہ اثر پڑے گا کیونکہ پوری پاکستان میں سب سے زیادہ غربت یہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 14 اپریل کو تمام صوبوں نے بتانا ہے کہ انہیں لاک ڈاؤن میں کن کن چیزوں میں نرمی کرنی ہے اور یہ صوبوں کا فیصلہ ہوگا کہ وہ کن کن چیزوں کو کھولنا چاہتے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت تیزی سے پھیل رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان مکمل تعاون چل رہا ہے کیونکہ جو اس وقت صورتحال ہے اسے کوئی حکومت اکیلے نہیں لڑ سکتی بلکہ ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے۔ان کے اس دورے کے دوران وفاقی وزرا اسد عمر اور زبیدہ جلال بھی ہمراہ تھے جبکہ انہیں بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال اور وائرس کے پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  67055
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
سندھ حکومت کراچی سمیت اندرون شہر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ گاڑیوں میں اضافی مسافر نہیں بٹھائے جائیں گے۔ آن لائن ٹیکسی سروس بھی بحال کردی گئی۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے اور اب وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس لوگوں کو مزید پیسے دینے کیلئے وسائل نہیں، ہماری برآمدات گر چکی ہیں۔ اب صرف چند مخصوص شعبے بند رہیں گے، باقی سب کھول دیئے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا قوم کو کورونا

مزید خبریں
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

مقبول ترین
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں