Sunday, 20 September, 2020
عصمت زہرا سلام اللہ علیہا
ہم اس انتظار میں ہیں کہ امت قرآن و سنت کو معیار بنائے۔ حضرت فاطمۃ زہراؑ کے مقام کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن و سنت کی طرف لوٹنا چاہیے پھر جو قرآن و سنت کہے اسے اپنا مذہب بنانا چاہیے۔۔۔۔
مذہب ایک مشکل ہے یا مشکل کا حل

قرآن حکیم اور امام خمینیؒ
ان دنوں اسلام کے بطل جلیل حضرت امام سید روح اللہ موسوی الخمینی کی اکتسویں برسی منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کی جائے گی۔ ان کی زندگی ویسے بھی بڑی جامعیت کی حامل ہے اور ایک بڑی شخصیت کے اعتبار سے جس پہلو کی جانب نظر کریں وہ ہمیں بلندی پر فائز نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ان کی زندگی کے سیاسی پہلو کو دیکھا گیا ہے حالانکہ ان کا سیاسی پہلو دینی عرفانی اور اخلاقی اور ملکوتی پہلوؤں سے پھوٹتا ہے۔
رسول اکرمؐ اور شہادت امام علیؑ کی پیشگوئی
متعدد ایسی روایات شیعہ سنی کتب میں نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق رسول اکرمؐ نے مختلف مقامات پر حضرت علیؑ کی شہادت کی پیش گوئی کی ہے۔ بعض ایسی روایات بھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی شہادت رمضان شریف میں وقوع پذیر ہوگی۔ روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امام علی کی شہادت اس صورت میں ہوگی کہ آپ کے سر پر ایک شقی تلوار کی ضرب لگائے گا اور اس خون سے ریش مبارک رنگین ہو جائے گی۔
علامہ اقبال، قائداعظم اور فلسطین
ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقاؤں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنماؤں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے۔
علامہ اقبالؒ کے افکار
علامہ اقبال ۹ نومبر ۷۷۸۱ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور انکے والد شیخ نور محمد متقی و درویش عاشق رسولؐ عارف مسلک شخص تھے۔ اقبال کہتے ہیں (ایک مرتبہ) دوران گفتگو (والد صاحب) کہنے لگے معلوم نہیں بندہ اپنے رب سے کب کا بچھڑا ہوا ہے اس خیال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ تقریباً بے ہوش ہو گئے اور رات دس گیارہ بجے تک یہی کیفیت رہی۔ اپنی والدہ کے بارے میں اقبالؒ نے معروف مرثیے ”والدہ مرحومہ کے نام“ میں لکھا ہے:
یمن پر اتنی خاموشی کیوں؟
عزیزان! ۲۶ مارچ کو یمن میں جاری شورش اور حوثی مقاومت کو ۵ سال پورے تو ہوئےمگر یمن میں صرف موت، بھوک اور بربادی جو جدید دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران ہے کے علاوہ کچھ نہیں ملتا جس پر لب کشائی کی جا سکے ۔ آخر دنیا اتنی خاموش کیوں ہے؟
کیا امریکہ میں ریاستوں کی علیحدگی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے؟
امریکہ میں بے روزگاری کے تاریخ کے بدترین مقام پر پہنچ جانے کے بعد ان کی سیاسی ساکھ پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ اس لیے آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات ہر روز پہلے کی نسبت کم ہو رہے ہیں۔ کورونا کی حشر سامانیاں امریکہ میں اسی طرح جاری رہیں تو امریکی وفاق کے لیے مزید دھچکوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
’’شب برأت اور ولادت امام مہدیؑ‘‘
اہل سنت اور اہل تشیع کی معتبر ترین کتب حدیث میں 15شعبان کی رات کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قمری اعتبار سے مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ رات دن سے پہلے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان چاند دیکھنے کے بعد رات کو چاند رات کہتے ہیں
حکومت مساجد کی تالابندی سے اجتناب کرے، ملی یکجہتی کونسل
ملی یکجہتی کونسل کی تمام رکن جماعتوں کے قائدین، علماء کرام اور دینی راہنمائوں نے ایک مشترکہ اعلامئے میں کہا کہ حکومت مساجد کی تالابندی سے اجتناب کرے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے ملنے والی خبروں کے مطابق انتظامیہ مساجد کی تالا بندی اور ائمہ جمعہ
’’کربلا کا ستارہ ۔۔۔ امام حسینؑ‘‘
’’کربلا کا ستارہ‘‘ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیرمحمد زبیر الوری کا ایک ایمان افروز خطبہ ہے جس میں امام حسین علیہ السلام کا ذکرِ منیر بڑی محبت اور کیف و مستی کے عالم میں کیا گیا ہے، جب کہ اس کے علمی و تحقیقی لوازم کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کربلا کی
’’23 مارچ  1940 کا تاریخی دن‘‘
23 مارچ وہ تاریخی دن ہے جس دن بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اللہ کے حکم سے مملکت خداداد کے معرض وجود میں آنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک جہاں اب اسی دن کی مناسبت اور ملک سے محبت اور
کرونا کے زیر سایہ عراق میں امریکا کے نئے اقدامات
ایک طرف عراقی حکومت اور پارلیمان کا مطالبہ اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جواب، یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ 2جنوری کے بعد عراق اور امریکا ایک دوسرے کے معاون، حلیف یا دوست نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ پھر آج تک جو کچھ ہوا وہ اسی امر کی تصدیق کر رہا ہے۔ امریکا عراق میں فوجی طاقت کے سہارے رہنا چاہتا ہے اور عراقی اسے ہر صورت میں نکالنے کے لیے بے تاب ہیں۔
’’یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی‘‘
انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین کی تاریخ میں پندرہ مئی یوم نکبہ یعنی فلسطینی سرزمین کے صہیونیوں کے ناپاک ہاتھوں میں غصب ہونے کا دن ہے اسی طرح تیس مارچ کو فلسطینی عرب سرزمین مقدس فلسطین کا دن مناتے ہیں یعنی ’’یوم ارض فلسطین‘‘ منایا جاتا ہے۔
’’پانچ فروری ۔۔۔۔ یومِ یکجہتی کشمیر‘‘
یومِ یکجہتی کشمیر بھارتی جارحیت ،ریاستی غنڈہ گردی اور اخلاق سے عاری جمہوریت کے دعویدار ''مودی دیش''کے منہ پر طمانچے برسانے کا دن ہے ،بلا شبہ کشمیریوں کی قربانیوں اور جدوجہد آزادی کی طویل داستان کئی دہائیوں سے جاری ہے
”کشمیریوں کی جدوجہد کے 89 سال “
کشمیریوں کی تحریک آزادی باقاعدہ 1931 میں شروع ہوئی جو 2020ءتک جاری و سار ی ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسئلہ کشمیر دنیا کا پیچیدہ ترین مسئلہ ہے جسے حل کرنے کےلئے سنجیدگی کو سمجھنا ضروری ہے ۔
”فلسطین برائے فروخت نہیں“
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے اپنا دو ریاستی فارمولہ پیش کردیا، مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا۔
مقبول ترین
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو متنازع بنایا گیا ہے۔ القاعدہ کی خطے میں ناکامی کو تو تسلیم کیا گیا لیکن اس کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں
رینٹل پاور کیس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 10 ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ جس پر احتساب عدالت اسلام آباد نےفیصلہ محفوظ کر رکھا تھا تاہم آج احتساب
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سے جواب مانگا جارہا ہے جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد
سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی

کرونا وائرس اور احتیاتی تدابیر
اس بات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ زندگی مکافات عمل ہے۔ کچھ لوگ اپنا کیا اسی دنیا میں کاٹ لیتے ہیں اور کچھ لوگ آخرت میں۔ مگر کوئی اس سے بچ نہیں سکتا یہ بات تو واضح ہے اسے کسی بھی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کا جن پچھلے کئی سالوں سے آزادہےاورہرگزرتےدن کےساتھ پہلےسےزیادہ طاقتورہوتاجارہاہے۔ہرآنےوالی حکومت اسے قابوکرنےمیں ناکام رہی ہے، یہی وجہ ہےآج کل جسےدیکھووہی مہنگائی کاروناروتانظرآتاہے،ہر شے کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی نظرآتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں