Monday, 17 December, 2018
محمد بن سلمان نے خاشقجی کے قتل کے وقت 11 میسجز کیے، سی آئی اے

محمد بن سلمان نے خاشقجی کے قتل کے وقت 11 میسجز کیے، سی آئی اے

واشنگٹن ۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے وقت اپنے مشیر اور صحافی کے قتل میں ملوث اسکواڈ کے سربراہ کو 11 میسجز کیے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

ترک حکومت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات ترکی میں کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن سعودی حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ واقعہ سعودی قونصلیٹ میں ہوا ہے اس لیے اس کی تحقیقات بھی سعودی عرب میں ہوں گی۔

جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اس الزام کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس میں شریک ہیں جہاں فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیراعظم نے ان کے سامنے جمال خاشقجی کا معاملہ اٹھایا اور اس کی شفاف تحقیقات پر زور دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جی ٹوئنٹی اجلاس میں شریک ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی گفتگو سے گریز کیا ہے۔

ایسے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دو اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی اور قتل کے وقت شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے مشیر سعود القحطانی کو چند گھنٹوں کے دوران 11 میسجر کیے تھے۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سی آئی اے کا خیال ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 15 رکنی اسکواڈ کی سربراہی سعود القحطانی کر رہے تھے اور وہ براہ راست محمد بن سلمان سے رابطے میں تھے۔

سی آئی اے کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ محمد بن سلمان اور سعود القحطانی کی جانب سے ان میسجر میں کیا کہا گیا۔

یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ محمد بن سلمان نے اگست 2017 میں سعود القحطانی سے گفتگو میں کسی شخص کو سعودی عرب لانے یا پھر دوسرے ملک میں ہی ٹھکانے لگانے سے متعلق بات کی تھی۔

سی آئی اے کا خیال ہے کہ یہ گفتگو جمال خاشقجی سے متعلق ہی کی گئی تھی۔

قحطانی کو اس کے بعد عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ سعود القحطانی سعودی عرب میں بہت اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور خیال ہے کہ انہوں نے جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کی سربراہی محمد بن سلمان کی اجازت سے ہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31613
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاکستان میں متعین چینی سفیر یاؤجنگ نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرکے باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
چین نے برطانوی اخبار کی پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق رپورٹ کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا۔ چینی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ مضمون منفی عزائم کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، پاکستان نے سی پیک کو قومی ترجیح قرار دے دیا ہے۔
سیاسی جماعت کی ریلی کے دوران تشدد کا نشانہ بننے والا گدھا چل بسا۔ کراچی میں گزشتہ دنوں ایک سیاسی جماعت کی ریلی کے دوران گدھے کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے اسے شدید چوٹیں آئیں اور وہ بے ہوش ہوگیا۔
پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں ہزاروں چینی شہری پاکستان آرہے ہیں۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کی مطابق ہزاروں چینی باشندے سیکورٹی خطرات کو مسترد کرکے

مقبول ترین
جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے والے خاندانوں کے دل کی کیفیت اور کرب تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں
امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے کہ امریکہ یمن سعودی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے دستبردار ہو جائے.امریکہ کی وزارت خارجہ کے وزیر پومپیو نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کی منظور کی گئی قرارداد کا احترام کریں گے.
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ گرفتار ہوا تو کیا ہوگا، جیل دوسرا گھر ہے، ان کو غلط فہمی ہے کہ ہم خوف میں مبتلا ہیں، اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ سیاست سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، ان کو کھیلنا آتا ہی نہیں، یہ انڈر 16 کھلاڑی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا اور والدین کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کو نہیں بھولے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں