Sunday, 16 June, 2019
سپریم کورٹ کا صحافیوں پر پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات کا حکم

سپریم کورٹ کا صحافیوں پر پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات کا حکم

اسلام آباد . سپریم کورٹ نے گزشتہ روز صحافیوں پر پولیس تشدد کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا۔ گزشتہ روز صحافت کے عالمی دن پر اسلام آباد میں صحافیوں نے ریلی نکالی جسے پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے سے روک دیا۔

پولیس نے صحافیوں پر لاٹھی چارج کیا جب کہ اس دوران خاتون صحافی سے بھی بدتمیزی کی گئی جب کہ چیف جسٹس نے واقعے کا نوٹس لیا تھا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں صحافیوں پر تشدد کے معاملے کی سماعت ہوئی جس کے سلسلے میں آئی جی اسلام آباد سلطان اعظم تیموری عدالت میں پیش ہوئے۔

آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، ریلی کے لیے این او سی لینا قانونی تقاضا ہے، پولیس نے صحافیوں کوریڈ زون میں جانے سے منع کیا۔

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ کیا صحافیوں نے پتھر پھینکے کوئی گملا توڑا؟ اس پر آئی جی نے بتایا کہ ڈی چوک پر صحافیوں نے پولیس حصار توڑنے کی کوشش کی، محکمہ پولیس صحافیوں کی عزت کرتا ہے، پولیس کی جانب سے بھی واقعےکی انکوائری کروائی جائے گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پولیس کا موقف یہ ہوگا کہ ریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں، صحافیوں کے پاس کوئی لاٹھی یا غلیل تونہیں تھی؟ ریڈ زون میں کس قانون کے تحت احتجاج کی اجازت نہیں؟ ریڈ زون میں کس کو احتجاج کی اجازت ہے؟

عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد دفعہ 144 کے تسلسل کے ساتھ نفاذ کی وضاحت دیں. جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ صحافیوں کا احتجاج پرامن تھا، پرامن احتجاج یا خواتین پر ہاتھ اٹھانا مناسب نہیں ہے، بہنوں کا احترام معلوم نہیں کدھر چلا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سیشن جج سہیل ناصر کو معاملے کی انکوائری سونپ دی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تمام فریقین انکوائری کمیشن کے روبرو پیش ہوں اور سیشن جج انکوائری کرکے 10 روز میں رپورٹ دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  18813
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد ابراہیم کی سربراہی میں قائم کمیشن نے سابق آئی جی ناصر درانی، سابق ہوم سیکرٹری اختر علی شاہ اور ڈی آئی جی شیر عالم شنوری کو بھی طلب کرلیا ہے جب کہ سانحہ کے وقت اے اپی ایس بورڈ آف گورنر کے چیئرمین
سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ کیا وزیراعظم سپریم کورٹ اور قانون سے بالا تر ہیں، اٹارنی جنرل کو ای سی سی اجلاس میں بلا لیا تھا تو انکار کر دیتے، ایک جماعت
لاپتہ ہونے کے بعد افغانستان میں قتل ہونے والے ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے۔
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

مقبول ترین
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعینات کردیا گیا ہے جب کہ دیگر 5 لیفٹیننٹ جنرل کے بھی تبادلے کیے گئے ہیں۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر معمول کے تبادلے کیے گئے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں