Friday, 18 January, 2019
بحریہ ٹاؤن کراچی کو زمین دھوکے بازی سے دی گئی، چیف جسٹس

بحریہ ٹاؤن کراچی کو زمین دھوکے بازی سے دی گئی، چیف جسٹس

اسلام آباد ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو زمین دھوکے بازی سے دی گئی اور چاندی دے کر سونا لے لیا گیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی نظرثانی کیس کی سماعت کی، اس دوران بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض، سینئر وکیل اعتزاز احسن، وکیل علی ظفر اور دیگر پیش ہوئے۔

دوران سماعت وکیل بحریہ ٹاؤن علی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے پاس ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی 18 ہزار کینال زمین ہے، بحریہ ٹاؤن 5 ارب دینے کو تیار ہے اور مزید اقدامات بھی کرے گا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بحریہ ٹاؤن کے جہاز میں پھر رہے ہیں اور آپ نے جہاز کو ٹیکسی بنایا ہوا ہے، اس پر علی ظفر نے کہا کہ آپ ہرجانہ طے کردیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عملدرآمد بینچ ہیں، اس سے ایک پیسہ کم نہیں ہوگا، اگر نہیں دے سکتے تو میرٹ پر بحث کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ پر جرمانہ کردیتے ہیں، ہزار ارب دے دیں، جس پر ملک ریاض نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن میں کل سرمایہ کاری 437 ارب روپے کی ہے، ہزار ارب کیسے ادا کروں۔

ملک ریاض نے بتایا کہ سندھ میں زمین کے تبادلے کا قانون 1982 سے موجود ہے اور 70 کے قریب زمینوں کے تبادلے ہوئے ہیں۔

ملک ریاض نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ 4 دیہات کا تبادلہ کیا اور ان تبادلوں کی مد میں 4 ارب سرکاری خزانے میں جمع کرائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پانی کے بلوں کی مد میں 36 کروڑ روپے جمع کرائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 1500 ارب روپے سے ڈیم بنتا ہے، آپ بنا دیں۔

ملک ریاض نے کہا کہ ایک روپے کی چیز کے 10 روپے کیوں ادا کروں؟ عدالت سے ہاتھ جوڑ کر استدعا کرتا ہوں رحم کرے، میں پہلے ہی 7 ارب روپے جمع کروا چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو متحرک کیا تو لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے اور سب کچھ ٹھپ ہو جائے گا۔

اس دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے عدالت میں موجود وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن ڈوبے گا تو پاکستان ڈوب جائے گا،جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ زاہد بخاری آپ سوچ سمجھ کر بات کریں، عدلیہ پاکستان کی محافظ ہے۔

جس پر زاہد بخاری نے کہا کہ میں معاشی طور پر ڈوبنے کی بات کر رہا تھا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کی زمین دھوکے بازی سے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی۔ دوران سماعت عدالت میں موجود نجی سرمایہ کار نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی وجہ سے نجی سرمایہ کار متاثر ہو رہے ہیں، بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقابلے میں محفوظ ہے اور لوگ یہاں سکون سے رہ رہے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف ایکشن نہیں لیں، چاہے ان لوگون نے جتنی لوٹ مار کی ہے، آپ کہہ رہے ہیں ان کو معاف کردیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملیر اتھارٹی سے ایک جگہ زمین لی گئی، بدلے میں ٹکڑے ٹکڑے زمین دی اور یہ زمین بلوچستان سرحد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سرحد پر 300 میل دور زمین دے کر موقع کی زمین ہتھیا لی گئی، چاندی دے کر سونا لے لیا گیا۔

دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی موقع کی اراضی لے کر بلوچستان کی سرحد کے ساتھ بنجر زمین دے دی گئی اور ملیر کو پہاڑیوں اور ٹیلے والی اراضی دی گئی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا غیر قانونی کام پر اس لیے چھوٹ دے دیں کہ ہوا تو غلط ہے لیکن کام بہت اعلیٰ ہے۔ اس موقع پر عدالت میں موجود وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس کیس میں اگر کوئی شراکت دار ہے تو وہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر کو نظرثانی بینچ میں ضرور ہونا چاہیے تھا، اگرچہ انہوں نے اختلافی نوٹ لکھا تھا لیکن ان کی موجودگی ضروری تھی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایم ڈی اے کو کتنا نقصان ہوا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ایم ڈی اے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایم ڈی اے کہتی ہے نقصان نہیں ہوا، سندھ حکومت بھی یہی کہتی ہے، یہ سب ملے ہوئے ہیں، ہم ٹھیک کہتے ہیں کہ سندھ میں سب ملے ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم یہاں ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو اراضی واپس دینے کی سوچ رہے ہیں جبکہ ملیر کہتا ہے کہ ہمیں اراضی چاہیے ہی نہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے ایم ڈی اے کا منیجنگ ڈائریکٹر؟ کیوں نہ انہیں جیل بھیج دیں۔ بعد ازاں عدالت نے بحریہ ٹاؤن نظرثانی کیس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلی سندھ کے پاس ملیر ڈیولپمنٹ اراضی کے تبادلے کا اختیار نہیں تھا، یہاں تو وزیر اعظم کو کھوکا الاٹ کرنے کا اختیار نہیں تو وزیر اعلی نے کیسے یہ اختیار استعمال کیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہاں کچھ ٹھیک نہیں ہورہا، ملک ریاض کو نیب کی کارروائی سے کیوں خوف ہے؟ باقی لوگ نیب میں اپنے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں تو ملک ریاض کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم اس کیس میں ملک کے بہترین نگران تعینات کریں گے، یہ ملک کو ایسے چلائیں گے جیسے بحریہ ٹاون خود چلایا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہیں آجاتا بحریہ ٹاؤن کے معاملات دیکھنے کے لیے ایک بورڈ تشکیل دیا جاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ میں خود اس بورڈ کی سربراہی کروں۔ جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاون کیس کی سماعت آئندہ جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔ بشکریہ ڈان نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  59047
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سپریم کورٹ میں 18 ویں ترمیم کے بعد ٹرسٹ اسپتالوں کی صوبوں کو منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اسپتالوں کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جناح اسپتال کو وفاق کے تحت کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت کی۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس حوالے سے ہدایات دی گئی تھیں جن پر عمل کرتے ہوئے کیبنٹ سیکرٹری کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کو عمران احمد خان نیازی نہیں بلکہ عمران خان لکھا جائے۔

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں