Saturday, 20 January, 2018
مہاتما بدھ کے پیروکار اور انسانوں کا قتل عام؟

مہاتما بدھ کے پیروکار اور انسانوں کا قتل عام؟
فائل فوٹو

 

ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ / فکر ندیم

محلات کی چکاچوند کو چھوڑ کر جنگلات کی پر سکون وادیوں میں بڑے درختوں کے نیچے آنکھیں بند کیے دنوں بیٹھے رہنے والے شہزادے کو گیان حاصل ہوا تو دنیا اسے مہاتما بدھ کے نام سے جانتی ہے۔ مہاتما کی فکر تین ہزار سال قبل مسیح سے ایشاء کو متاثر کر رہی ہے۔کروڑوں لوگ اس فکر پر عمل پیرا ہیں، زندگی کی چکاچوند کو چھوڑ کر ترک دنیا کرتے ہیں اور سکون کی تلاش میں جنگلوں ویرانوں میں پناہ لیتے ہیں۔

سوات سے لیکر سکردو تک کی پاکستانی وادیاں کبھی ان بدھ بکشوؤں کی آماجگاہیں ہوا کرتی تھیں۔آج بھی ان علاقوں میں موجود آثار اس بات کی تائید کرتے ہیں۔اسی دانش کے نتیجے میں دنیا کی پہلی عظیم یونیورسٹی ٹیکسلا کے ساتھ باڑیاں کے مقام پر قائم کی گئی ۔جہاں دنیا بھر سے طلبہ حصول علم کے لیےآتے تھے ۔یہیں سے ٹیکسلا کی وہ عظیم الشان تہذیب معرض وجود میں آئی جس نے آگے چل کر اس پورے خطے کو متاثر کیا۔اشوک اعظم کا تعلق بھی بدھ مت مذہب سے تھا جن کے لکھے ہوئے اصول آج بھی مانسہرہ اور ہری پور کی
پہاڑی چٹانوں پر مل جاتے ہیں ،جس نے صحیح معنوں میں ایک رفاہی سلطنت قائم کی تھی۔

بدھ مت کے پیروکاروں کا طرہ امتیاز عدم تشدد رہا ہے، ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا کہ بدھ مت کے ماننے والوں نے تلوار کا سہارا لیا ہو۔ یہ ہمیشہ حکمت کی بات کرتے ہیں ،گفتگو اور مکالمہ کو ترجیح دیتے ہیں اپنے حق کو بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔ بعض اوقات اس میں بہت زیادہ غلو بھی کر کرتے نظر آتےہیں۔

آج اس مذہب کے پیروکاروں کو ہاتھ میں اسلحہ تھامے نہتے لوگوں پر حملہ آور ہوتے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ بدھا کے ماننے والے کیسے انسانوں کا قتل عام کرسکتے ہیں؟ کیسے بستیوں کی بستیاں اجاڑ سکتے ہیں؟ کیسے اس قتل عام پر جشن منا سکتے ہیں ؟ یہی سوچ رہا تھا کہ میرے ذہن میں مہاتما سدھارتھ بدھ کا یہ
قول بار بار ٹکرانے لگا۔ نفرت کبھی نفرت سے ختم نہیں ہو سکتی نفرت محبت سے ہی ختم ہو گی اور یہ ایک ابدی اصول ہے۔ ادھر نارنگی لباس پہنے بستیاں جلاتے اور مہاتما بدھ کے نعرے بلند کرتے یہ لوگ تھے اور ادھر یہ قول اور اس طرح کے دسیوں اقوال اور تعلیمات تھیں۔ میں مشوش تھا اور سوچ رہا تھا کہ شائد یہ صرف کتابی باتیں ہوں بدھ ان کو تسلیم ہی نہ کرتے ہوں یا یہ صرف دکھانے کے لیے ہوں مگر عظیم بدھ رہنما دلائی لامہ کا یہ بیان آ گیا انہوں نے میانمار کے بدھوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا اگر آج مہاتما گوتم بدھ آتے دیکھتے کہ تم لوگوں نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے تو یقینا وہ رنجیدہ ہوتے۔یہی مذہب کی اصل تعلیم ہے کہ ایک انتہا پسند سے انتہا پسند بدھ بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر مہاتما بدھ اس قتل عام کو دیکھ لیں تو خوشی کا اظہار کریں گے بلکہ ہر ایک بدھ یہ کہے گا مہاتما بدھ کو اس سے تکلیف پہنچے گی۔

مذاہب میں اہل اقتدار نے تشدد کو پروان چڑھایا ہےجو بدھ آج برما میں نہتے مسلمانوں کا لہو بہا رہے ہیں ان کا بدھ مت کی حقیقی تعلیمات سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ابوبکر بغدادی کا تھا جو موصل سے لے کر رقہ تک نہتے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا قتل عام کر رہا تھا ۔اس کے کارندے انسانوں کے سروں کو نعرہ تکبیر کے ساتھ کاٹ کر رہے تھے جس سے نعرہ کی توہین کر رہے تھے۔ان بدھوں کا بدھ مت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا اس خودکش بمبار کا ہوتا ہے جو جسم سے بارود باندھ کر گلیوں بازاروں میں مصروف نہتے عوام کو اسلامی کی خدمت سمجھ کر خون کی ندی میں نہلا دیتا ہے۔

میانمار میں مسلمانوں پر حملہ کرنے والے مہاتما بدھ کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں،ان لوگوں کا بدھ مت سے تعلق کا فقط دعویٰ ہے اگر انہوں نے مہاتما بدھ کی پیار محبت سے بھری زندگی جس کا آغاز ہی اہل اقتدار کی معیت کو ترک کرنے سے ہوتا ہے پڑھا ہوتا تو آج برما کے بدھ دلائی لامہ کی فکر کے مطابق ان ظالموں کے خلاف کھڑے ہوجاتے ۔وہ کبھی فوج اوراسٹیبلشمنت کے لیے ان کے مفادات کے محافظ بن کر مسلمانوں کا قتل نہ کرتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ صاحب مبصر کے سٹاف ممبر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  65447
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اگر پاکستان، امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا، ٹرمپ خارجہ پالیسی

مقبول ترین
سائنس دانوں نے طب کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل حاصل کر لیا ہے، امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایک ایسے طریقۂ کار کا تجربہ کیا ہے جس کے تحت آٹھ عام قسم کے سرطانوں کی تشخیص خون کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ اس کا تجربہ 1005 مریضوں پر کیا گیا
پاکستان نے امریکہ اور برطانیہ سمیت ایشیا اور یورپ کے 24 ممالک سے آنے والے سیاحوں کو ملک میں داخلے کے بعد 30 دن کا ویزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کے امیگریشن حکام اور ایف ائی اے کی جانب سے جاری اشتہار کے مطابق یہ سہولت گروہ کی صورت میں سیاحت کیلئے آنے والے افراد کے لیے ہوگی
وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) کا اثاثہ ہیں اور وہ ایک طویل عرصے سے پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پرویز رشید کو میڈیا پر آکر بعض باتوں کا اظہار نہیں کرنا چاہئے، نواز شریف پارٹی صدر کی حیثیت سے اس معاملے کو حل کرائیں۔
دنیا بھر میں طلاق کے حوالے سے اکثر دلچسپ خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جن میں معمولی اور اچھوتی وجوہات کی بناء پر شادی شدہ جوڑے علیحدگی کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ تائیوان میں بھی پیش آیا ہے جہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کو محض اس وجہ سے طلاق دے دی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں