Sunday, 19 November, 2017
مہاتما بدھ کے پیروکار اور انسانوں کا قتل عام؟

مہاتما بدھ کے پیروکار اور انسانوں کا قتل عام؟
فائل فوٹو

 

ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ / فکر ندیم

محلات کی چکاچوند کو چھوڑ کر جنگلات کی پر سکون وادیوں میں بڑے درختوں کے نیچے آنکھیں بند کیے دنوں بیٹھے رہنے والے شہزادے کو گیان حاصل ہوا تو دنیا اسے مہاتما بدھ کے نام سے جانتی ہے۔ مہاتما کی فکر تین ہزار سال قبل مسیح سے ایشاء کو متاثر کر رہی ہے۔کروڑوں لوگ اس فکر پر عمل پیرا ہیں، زندگی کی چکاچوند کو چھوڑ کر ترک دنیا کرتے ہیں اور سکون کی تلاش میں جنگلوں ویرانوں میں پناہ لیتے ہیں۔

سوات سے لیکر سکردو تک کی پاکستانی وادیاں کبھی ان بدھ بکشوؤں کی آماجگاہیں ہوا کرتی تھیں۔آج بھی ان علاقوں میں موجود آثار اس بات کی تائید کرتے ہیں۔اسی دانش کے نتیجے میں دنیا کی پہلی عظیم یونیورسٹی ٹیکسلا کے ساتھ باڑیاں کے مقام پر قائم کی گئی ۔جہاں دنیا بھر سے طلبہ حصول علم کے لیےآتے تھے ۔یہیں سے ٹیکسلا کی وہ عظیم الشان تہذیب معرض وجود میں آئی جس نے آگے چل کر اس پورے خطے کو متاثر کیا۔اشوک اعظم کا تعلق بھی بدھ مت مذہب سے تھا جن کے لکھے ہوئے اصول آج بھی مانسہرہ اور ہری پور کی
پہاڑی چٹانوں پر مل جاتے ہیں ،جس نے صحیح معنوں میں ایک رفاہی سلطنت قائم کی تھی۔

بدھ مت کے پیروکاروں کا طرہ امتیاز عدم تشدد رہا ہے، ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا کہ بدھ مت کے ماننے والوں نے تلوار کا سہارا لیا ہو۔ یہ ہمیشہ حکمت کی بات کرتے ہیں ،گفتگو اور مکالمہ کو ترجیح دیتے ہیں اپنے حق کو بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔ بعض اوقات اس میں بہت زیادہ غلو بھی کر کرتے نظر آتےہیں۔

آج اس مذہب کے پیروکاروں کو ہاتھ میں اسلحہ تھامے نہتے لوگوں پر حملہ آور ہوتے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ بدھا کے ماننے والے کیسے انسانوں کا قتل عام کرسکتے ہیں؟ کیسے بستیوں کی بستیاں اجاڑ سکتے ہیں؟ کیسے اس قتل عام پر جشن منا سکتے ہیں ؟ یہی سوچ رہا تھا کہ میرے ذہن میں مہاتما سدھارتھ بدھ کا یہ
قول بار بار ٹکرانے لگا۔ نفرت کبھی نفرت سے ختم نہیں ہو سکتی نفرت محبت سے ہی ختم ہو گی اور یہ ایک ابدی اصول ہے۔ ادھر نارنگی لباس پہنے بستیاں جلاتے اور مہاتما بدھ کے نعرے بلند کرتے یہ لوگ تھے اور ادھر یہ قول اور اس طرح کے دسیوں اقوال اور تعلیمات تھیں۔ میں مشوش تھا اور سوچ رہا تھا کہ شائد یہ صرف کتابی باتیں ہوں بدھ ان کو تسلیم ہی نہ کرتے ہوں یا یہ صرف دکھانے کے لیے ہوں مگر عظیم بدھ رہنما دلائی لامہ کا یہ بیان آ گیا انہوں نے میانمار کے بدھوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا اگر آج مہاتما گوتم بدھ آتے دیکھتے کہ تم لوگوں نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے تو یقینا وہ رنجیدہ ہوتے۔یہی مذہب کی اصل تعلیم ہے کہ ایک انتہا پسند سے انتہا پسند بدھ بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر مہاتما بدھ اس قتل عام کو دیکھ لیں تو خوشی کا اظہار کریں گے بلکہ ہر ایک بدھ یہ کہے گا مہاتما بدھ کو اس سے تکلیف پہنچے گی۔

مذاہب میں اہل اقتدار نے تشدد کو پروان چڑھایا ہےجو بدھ آج برما میں نہتے مسلمانوں کا لہو بہا رہے ہیں ان کا بدھ مت کی حقیقی تعلیمات سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ابوبکر بغدادی کا تھا جو موصل سے لے کر رقہ تک نہتے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا قتل عام کر رہا تھا ۔اس کے کارندے انسانوں کے سروں کو نعرہ تکبیر کے ساتھ کاٹ کر رہے تھے جس سے نعرہ کی توہین کر رہے تھے۔ان بدھوں کا بدھ مت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا اس خودکش بمبار کا ہوتا ہے جو جسم سے بارود باندھ کر گلیوں بازاروں میں مصروف نہتے عوام کو اسلامی کی خدمت سمجھ کر خون کی ندی میں نہلا دیتا ہے۔

میانمار میں مسلمانوں پر حملہ کرنے والے مہاتما بدھ کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں،ان لوگوں کا بدھ مت سے تعلق کا فقط دعویٰ ہے اگر انہوں نے مہاتما بدھ کی پیار محبت سے بھری زندگی جس کا آغاز ہی اہل اقتدار کی معیت کو ترک کرنے سے ہوتا ہے پڑھا ہوتا تو آج برما کے بدھ دلائی لامہ کی فکر کے مطابق ان ظالموں کے خلاف کھڑے ہوجاتے ۔وہ کبھی فوج اوراسٹیبلشمنت کے لیے ان کے مفادات کے محافظ بن کر مسلمانوں کا قتل نہ کرتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ صاحب مبصر کے سٹاف ممبر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3241
کوڈ
 
   
مقبول ترین
اجلاس کی صدارت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کی۔ اجلاس میں زونل کمیٹی کے اراکین اور محکمہ موسمیات کے نمائندے شریک ہوئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، آج کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں چاند نظر
نواز شریف نے کہا کہ پاناما کیس کی نظرثانی اپیل کے عدالتی فیصلے میں سوال اٹھایا گیا کہ قافلے کیوں لٹتے رہے، ہمیں معلوم ہے اور اس قوم کو بھی معلوم ہے کہ آپ نے کبھی راہزنوں سے کوئی گلہ نہیں کیا، آپ نے تو 70 سال میں کسی راہزن سے سوال تک نہ کیا اور کسی راہزن کو کٹہرے میں بھی نہیں لائے۔
دھرنا مظاہر کے خلاف آپریشن کسی بھی وقت ہوسکتا ہے لیکن یہ آخری آپشن ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ختم نبوت یہ تاثر دینا کہ ختم نبوت کے
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کا نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ برقرار ہے اور گھر گھر تلاشی اور سرچ آپریشن کے نام پر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے اور جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں