Thursday, 24 May, 2018
مہاتما بدھ کے پیروکار اور انسانوں کا قتل عام؟

مہاتما بدھ کے پیروکار اور انسانوں کا قتل عام؟
فائل فوٹو

 

ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ / فکر ندیم

محلات کی چکاچوند کو چھوڑ کر جنگلات کی پر سکون وادیوں میں بڑے درختوں کے نیچے آنکھیں بند کیے دنوں بیٹھے رہنے والے شہزادے کو گیان حاصل ہوا تو دنیا اسے مہاتما بدھ کے نام سے جانتی ہے۔ مہاتما کی فکر تین ہزار سال قبل مسیح سے ایشاء کو متاثر کر رہی ہے۔کروڑوں لوگ اس فکر پر عمل پیرا ہیں، زندگی کی چکاچوند کو چھوڑ کر ترک دنیا کرتے ہیں اور سکون کی تلاش میں جنگلوں ویرانوں میں پناہ لیتے ہیں۔

سوات سے لیکر سکردو تک کی پاکستانی وادیاں کبھی ان بدھ بکشوؤں کی آماجگاہیں ہوا کرتی تھیں۔آج بھی ان علاقوں میں موجود آثار اس بات کی تائید کرتے ہیں۔اسی دانش کے نتیجے میں دنیا کی پہلی عظیم یونیورسٹی ٹیکسلا کے ساتھ باڑیاں کے مقام پر قائم کی گئی ۔جہاں دنیا بھر سے طلبہ حصول علم کے لیےآتے تھے ۔یہیں سے ٹیکسلا کی وہ عظیم الشان تہذیب معرض وجود میں آئی جس نے آگے چل کر اس پورے خطے کو متاثر کیا۔اشوک اعظم کا تعلق بھی بدھ مت مذہب سے تھا جن کے لکھے ہوئے اصول آج بھی مانسہرہ اور ہری پور کی
پہاڑی چٹانوں پر مل جاتے ہیں ،جس نے صحیح معنوں میں ایک رفاہی سلطنت قائم کی تھی۔

بدھ مت کے پیروکاروں کا طرہ امتیاز عدم تشدد رہا ہے، ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا کہ بدھ مت کے ماننے والوں نے تلوار کا سہارا لیا ہو۔ یہ ہمیشہ حکمت کی بات کرتے ہیں ،گفتگو اور مکالمہ کو ترجیح دیتے ہیں اپنے حق کو بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔ بعض اوقات اس میں بہت زیادہ غلو بھی کر کرتے نظر آتےہیں۔

آج اس مذہب کے پیروکاروں کو ہاتھ میں اسلحہ تھامے نہتے لوگوں پر حملہ آور ہوتے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ بدھا کے ماننے والے کیسے انسانوں کا قتل عام کرسکتے ہیں؟ کیسے بستیوں کی بستیاں اجاڑ سکتے ہیں؟ کیسے اس قتل عام پر جشن منا سکتے ہیں ؟ یہی سوچ رہا تھا کہ میرے ذہن میں مہاتما سدھارتھ بدھ کا یہ
قول بار بار ٹکرانے لگا۔ نفرت کبھی نفرت سے ختم نہیں ہو سکتی نفرت محبت سے ہی ختم ہو گی اور یہ ایک ابدی اصول ہے۔ ادھر نارنگی لباس پہنے بستیاں جلاتے اور مہاتما بدھ کے نعرے بلند کرتے یہ لوگ تھے اور ادھر یہ قول اور اس طرح کے دسیوں اقوال اور تعلیمات تھیں۔ میں مشوش تھا اور سوچ رہا تھا کہ شائد یہ صرف کتابی باتیں ہوں بدھ ان کو تسلیم ہی نہ کرتے ہوں یا یہ صرف دکھانے کے لیے ہوں مگر عظیم بدھ رہنما دلائی لامہ کا یہ بیان آ گیا انہوں نے میانمار کے بدھوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا اگر آج مہاتما گوتم بدھ آتے دیکھتے کہ تم لوگوں نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے تو یقینا وہ رنجیدہ ہوتے۔یہی مذہب کی اصل تعلیم ہے کہ ایک انتہا پسند سے انتہا پسند بدھ بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر مہاتما بدھ اس قتل عام کو دیکھ لیں تو خوشی کا اظہار کریں گے بلکہ ہر ایک بدھ یہ کہے گا مہاتما بدھ کو اس سے تکلیف پہنچے گی۔

مذاہب میں اہل اقتدار نے تشدد کو پروان چڑھایا ہےجو بدھ آج برما میں نہتے مسلمانوں کا لہو بہا رہے ہیں ان کا بدھ مت کی حقیقی تعلیمات سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ابوبکر بغدادی کا تھا جو موصل سے لے کر رقہ تک نہتے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا قتل عام کر رہا تھا ۔اس کے کارندے انسانوں کے سروں کو نعرہ تکبیر کے ساتھ کاٹ کر رہے تھے جس سے نعرہ کی توہین کر رہے تھے۔ان بدھوں کا بدھ مت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا اس خودکش بمبار کا ہوتا ہے جو جسم سے بارود باندھ کر گلیوں بازاروں میں مصروف نہتے عوام کو اسلامی کی خدمت سمجھ کر خون کی ندی میں نہلا دیتا ہے۔

میانمار میں مسلمانوں پر حملہ کرنے والے مہاتما بدھ کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں،ان لوگوں کا بدھ مت سے تعلق کا فقط دعویٰ ہے اگر انہوں نے مہاتما بدھ کی پیار محبت سے بھری زندگی جس کا آغاز ہی اہل اقتدار کی معیت کو ترک کرنے سے ہوتا ہے پڑھا ہوتا تو آج برما کے بدھ دلائی لامہ کی فکر کے مطابق ان ظالموں کے خلاف کھڑے ہوجاتے ۔وہ کبھی فوج اوراسٹیبلشمنت کے لیے ان کے مفادات کے محافظ بن کر مسلمانوں کا قتل نہ کرتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ صاحب مبصر کے سٹاف ممبر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  97635
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پنجاب کے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کو ریلیف مل گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر حمید الدین سیالوی نے احتجاج مؤخر کر دیا۔ وزیر قانون پنجاب 6 رکنی کمیٹی میں وضاحت پیش کریں گے۔
اگر پاکستان، امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا، ٹرمپ خارجہ پالیسی

مقبول ترین
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے پارٹی سے استعفٰی دے دیا۔ فوزیہ قصوری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی قائدین کو بھیج دیا ہے۔ فوزیہ قصوری نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے
گوگل کمپنی نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے 'گوگل نیوز ایپ' کو اَپ ڈیٹ کر دیا ہے جس سے صارفین کو خبروں کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔
ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں