Monday, 25 June, 2018
جمہوریت سے متعلق مواد تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی سفارش

جمہوریت سے متعلق مواد تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی سفارش

 

اسلام آباد ۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی بڑی جامعات کے طلبہ میں انتہا پسند رجحانات کے کچھ عملی نمونے سامنے آنے پر تشویش کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام و نصاب پر توجہ دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں، ملک کے ایوان بالا 'سینیٹ' نے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہریوں کو ان کے جمہوری حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کی تعلیم اور مہذب معاشرے میں جمہوریت کی اہمیت اسکول سے ہی دینا شروع کی جائے۔

یہ قرارداد پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سحر کامران نے پیش کی تھی جسے پیر کو ایوان نے منظور کیا تھا۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ نوجوان نسل جس نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اسے اپنی ذمہ داریوں، بنیادی حقوق اور پاکستان کے خدوخال واضح کرنے والے آئین کے بارے میں آگاہی ہو۔

"اس کے بہت دور رس نتائج ہوں گے۔ آئین پڑھایا جائے۔ شہری حقوق و فرائض کی تعلیم ہو۔ جمہوریت کو پڑھایا جائے۔۔ آج کل جو لگتا ہے کہ لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کو آگاہی نہیں ہے اور اسی وجہ سے بار بار جمہوری عمل کو دھچکا لگتا ہے۔ اسی لیے ہم صحیح سمت میں سفر نہیں کر سکے۔"

قرارداد کی ایوان سے منظوری ایک اچھی پیش رفت تو ہے لیکن ان مندرجات کو عملی طور پر نافذ کرنا ایک مشکل اور وقت طلب معاملہ ہے جس سے یہ قرارداد پیش کرنے والی سینیٹر بھی اتفاق کرتی ہیں۔

سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ وہ قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کی بھی رکن ہیں لہذا وہ پوری کوشش کریں گی کہ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدام کیے جائیں، کیونکہ ان کے بقول کل کا پاکستان اگر مضبوط بنانا ہے تو یہ کرنا ہوگا۔ آنے والی نسل کو شعور دینا ہوگا اور ایسا نہیں ہوتا تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہوگی۔

"تعلیمی اداروں میں جو شدت پسندی کی طرف رغبت نظر آ رہی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ان کو جو بنیادی ذمہ داریاں ہیں، بنیادی حقوق ہیں، آئین کے مطابق جو بنیادی ضابطہ اخلاق ہے وہ سکھایا ہی نہیں۔ وہ ذمہ داریاں اور حقوق سب بتانا ہوگا اور اسکول سے سکھانا ہوگا تاکہ ہم اچھے مضبوط ذہن کے ساتھ اپنے آنے والی نسل کو پروان چڑھائیں جو ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں۔" بہ شکریہ وائس اف امریکہ اردو

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  12364
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
شہر قائد کے پوش علاقوں میں لوٹ مار کا بازار گرم کرنے والے 50 رکنی ڈکیت گروہ کے مزید تین کارندے گرفتار کر لئے گئے ، گروہ کے کارندے چمن بارڈر سے براستہ کوئٹہ ٹولیوں کی شکل میں افغانستان سے پاکستان آتے ہیں
وفاقی وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃاور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے آپریشنز حکومتی تحویل میں لے کر دونوں تنظیموں کے اثاثے منجمد کردیئے۔وفاقی حکومت نے پہلے جماعت الدعوۃ اور اس کے ذیلی اداروں کو عطیات اور
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل درآمد کا پابند ہے اس لئے جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت پر پابندی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پیر کو اسپیس ٹیکنالوجی آن واٹر مینجمنٹ پر چوتھی
اگر پاکستان، امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا، ٹرمپ خارجہ پالیسی

مقبول ترین
بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ مودی سرکار اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے تناظر میں بڑی حد تک حواس باختہ ہو چکی ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دنوں خود بھارتی میڈیا کے مطابق چنائی میں چائنہ سٹڈی سنٹر
پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا پر خاص و عام کی رسائی ممکن ہوئی ہے ہم نے بحیثیت قوم جہاں سوشل میڈیا پر بہت سی غیر ضروری ابحاث میں وقت برباد کیا وہیں اسی سوشل میڈیا کے ذریعے کئی تحریکوں نے جنم لیا ، کئی اسی سوشل میڈیا
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے حوالے سے تینوں پرنٹنگ پریس کی سیکیورٹی کےلیے فوج کی نفری مانگ لی۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے فوج کی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں گرفتار کیا جائے تاکہ وہ سیاسی شہید بن جائیں۔ لاہور میں نیب کمپلکس کے دورے کے موقع پر افسران سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بدعنوانی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں