Wednesday, 21 February, 2018
جمہوریت سے متعلق مواد تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی سفارش

جمہوریت سے متعلق مواد تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی سفارش

 

اسلام آباد ۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی بڑی جامعات کے طلبہ میں انتہا پسند رجحانات کے کچھ عملی نمونے سامنے آنے پر تشویش کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام و نصاب پر توجہ دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں، ملک کے ایوان بالا 'سینیٹ' نے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہریوں کو ان کے جمہوری حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کی تعلیم اور مہذب معاشرے میں جمہوریت کی اہمیت اسکول سے ہی دینا شروع کی جائے۔

یہ قرارداد پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سحر کامران نے پیش کی تھی جسے پیر کو ایوان نے منظور کیا تھا۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ نوجوان نسل جس نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اسے اپنی ذمہ داریوں، بنیادی حقوق اور پاکستان کے خدوخال واضح کرنے والے آئین کے بارے میں آگاہی ہو۔

"اس کے بہت دور رس نتائج ہوں گے۔ آئین پڑھایا جائے۔ شہری حقوق و فرائض کی تعلیم ہو۔ جمہوریت کو پڑھایا جائے۔۔ آج کل جو لگتا ہے کہ لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کو آگاہی نہیں ہے اور اسی وجہ سے بار بار جمہوری عمل کو دھچکا لگتا ہے۔ اسی لیے ہم صحیح سمت میں سفر نہیں کر سکے۔"

قرارداد کی ایوان سے منظوری ایک اچھی پیش رفت تو ہے لیکن ان مندرجات کو عملی طور پر نافذ کرنا ایک مشکل اور وقت طلب معاملہ ہے جس سے یہ قرارداد پیش کرنے والی سینیٹر بھی اتفاق کرتی ہیں۔

سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ وہ قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کی بھی رکن ہیں لہذا وہ پوری کوشش کریں گی کہ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدام کیے جائیں، کیونکہ ان کے بقول کل کا پاکستان اگر مضبوط بنانا ہے تو یہ کرنا ہوگا۔ آنے والی نسل کو شعور دینا ہوگا اور ایسا نہیں ہوتا تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہوگی۔

"تعلیمی اداروں میں جو شدت پسندی کی طرف رغبت نظر آ رہی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ان کو جو بنیادی ذمہ داریاں ہیں، بنیادی حقوق ہیں، آئین کے مطابق جو بنیادی ضابطہ اخلاق ہے وہ سکھایا ہی نہیں۔ وہ ذمہ داریاں اور حقوق سب بتانا ہوگا اور اسکول سے سکھانا ہوگا تاکہ ہم اچھے مضبوط ذہن کے ساتھ اپنے آنے والی نسل کو پروان چڑھائیں جو ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں۔" بہ شکریہ وائس اف امریکہ اردو

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  59486
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اگر پاکستان، امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا، ٹرمپ خارجہ پالیسی
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے حوالہ سے بتایا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ نے باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض شہر پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کی شدید مذمت کی اور شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کو قابل ملامت قرار دیا۔
قطرکی جانب سے کہا گیا ہے کہ قطری نیوایجنسی کی ویب سائٹ کو نا معلوم ہیکرز نے ہیک کرلیا تھا جس پرجعلی اورجھوٹی خبریں پوسٹ کی گئیں جبکہ بعد میں ان خبروں اوررپورٹس کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

مقبول ترین
پاک فوج کے اضافی دستے سعودی عرب بھیجنے پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کا معاملہ پھر زیر بحث آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اظہار
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے درست کہا ہے کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں اور جب سیاست دانوں پربھینس چوری کے پرچی کٹے تو غلطی تب بھی ہوئی۔
ایرانی دار الحکومت تہران میں سکیورٹی فورسز اور صوفی عقیدت مندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تہران پولیس کے ترجمان بریگیڈیئر سعید منتظرالمہدی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران کے
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں