Sunday, 26 May, 2019
’’سعودی شہزادے نے حکومت مخالف تنظیم بنا لی‘‘

’’سعودی شہزادے نے حکومت مخالف تنظیم بنا لی‘‘

جرمنی میں مقیم سعودی عرب کے شاہی خاندان کے فرد شہزادہ خالد بن فرحان السعود نے سعودی عرب کے موجودہ بادشاہی نظام کے خلاف تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ شہزادہ خالد پچھلی ایک دہائی سے خود ساختہ جلا وطنی میں ہیں۔

انھوں نے برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ بے پناہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ناانصافی کو روکنے کے لیے سعودی عرب میں دستوری بادشاہت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ جہاں انتخابات کے ذریعے وزیر اعظم اور کابینہ کی مقرری ہو۔

انھوں نے کہا کہ 'سعودی عرب میں ہمیں باقی جمہوریتوں کی طرح نیا نظام چاہیے، (ایسا نظام) جس میں لوگ حکومت کو منتخب کرنے اور نئے سعودی عرب بنانے کا حق رکھتے ہوں۔'

انٹرویو میں انھوں نے سمجھایا کہ سعودی عرب میں برطانیہ کی طرح بادشاہت موجود رہے گی، لیکن اصلی طاقت عوام کے پاس ہو گی۔

انھوں نے اپنی تنظیم کا نام 'دی فریڈم موومنٹ آف عریبین پیننسولا پیپل' رکھا ہے۔ وہ سعودی عرب سے فرار ہونے والے حکومت کے ناقدین کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں۔

شہزادہ خالد نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے لیے انسانی حقوق، احتساب اور عدالتی نظام کا وژن رکھتے ہیں لیکن اس وقت وہ آئین اور یورپ میں مقیم سعودیوں کی مدد پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے والد اور ان کی بہن اس وقت سعودی عرب میں گھر میں نظر بند ہیں۔

شہزادہ خالد کون ہیں؟
شہزادہ خالد بن فرحان السعود، سعودی شاہی خاندان کے اس حصے میں شامل ہیں جو موجودہ بادشاہ اور ولی عہد کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ سنہ 2013 سے جرمنی میں مقیم ہیں اور کئی سالوں سے اپنے ملک میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

2017 میں بی بی سی کو انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میرے خاندان کے چار افراد یورپ میں تھے۔ ہم نے (شاہی) خاندان اور اس کی سعودی عرب میں قائم حکومت پر تنقید کی۔ ہم میں سے تین اغوا ہو گئے۔ صرف میں رہ گیا ہوں۔‘

گذشتہ سال سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں شہزادہ خالد نے ڈی ڈبلیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے سعودی حکام پر تنقید کی۔

گذشتہ سال انھوں نے انڈیپینڈنٹ اخبار سے بات کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ حاشقجی کی گمشدگی سے دس دن قبل سعودی حکام نے انھیں بھی اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ناقدین کو خاموش کروانے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی کارروائیوں کا حصہ تھا۔

انھوں نے انڈیپینڈنٹ اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں الزام لگایا کہ سعودی حکام نے جمال خاشقچی کے قتل سے کچھ روز قبل ان کے گھر والوں کو کہا کہ اگر وہ قاہرہ میں سعودی قونسل خانے میں ان کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات پر رضامند ہوئے تو انھیں اس کے بدلے لاکھوں ڈالر دیے جائیں گے۔ بشکریہ بی بی سی اردو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  51534
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے ہر صورت منی لانڈرنگ کو روکنا ہوگا، کرپشن ہی ملکوں کو غریب بناتی ہے، کرپٹ حکمران کرپشن کیلئے گرفت کرنے والے اداروں میں اپنے لوگ لگا کر انہیں تباہ کرتے ہیں۔
سعودی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر تنازع کا سیاسی حل ہوتا ہے اور میں فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا، اس لیے سعودی عرب اور یمن میں تنازع ختم کرانے کے لیے پاکستان کردار ادا کرنے کو تیار ہے لیکن ہم حوثیوں کے حملوں
سعودی عرب میں 29 شعبان کو رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے اجلاس ہوا تاہم چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔ عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا جس کے بعد پہلا روزہ جمعرات 17 مئی کو ہوگا۔
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔امریکی میگزین دی اٹلانٹک کے ساتھ ایک انٹرویو میں شہزادہ سلمان بن محمد نے تاہم اس متنازع خطے پر اسرائیلی اور فلسطینی دعووں کو برابر قرار دیا۔

مقبول ترین
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی آڈیو ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کرداروں کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا گیا۔ نیب کی طرف سے دائر کیا جانے والا ریفرنس 630 صفحات پر مشتمل ہے جس میں آڈیو
لاڑکانہ میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے رتو ڈیرو میں بچوں سمیت سیکڑوں افراد کے ایڈز مبتلا ہونے کے مسئلے پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں بہت فرق ہے، ایچ آئی وی کا علاج نہ ہو تو دس
اسلام آباد میں وفاقی وزراء اور چیئرمین ایف بی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجود حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالت بہت بری تھی، جب حکومت آئی تو قرضہ 31 ہزار ارب روپے سے زیادہ تھا، برآمدات گر رہی تھیں
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں