Friday, 13 March, 2026
امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے، سرپرست وزارت معدنیات و پٹرولیم افغانستان

 

امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی بڑے مجرم ہیں

 

کابل ۔ تحریک طالبان کے مرکزی رہنما اور افغانستان کی معدنیات و  پیٹرولیم کی وفاقی وزارت کے سرپرست مولوی شہاب الدین دلاور نے کہا ہے کہ امارات اسلامی افغانستان کی حکومت میں تمام قوموں کے نمائندے شامل ہیں، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ایک قومی حکومت ہے۔ دنیا کو افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے جو بھی شرائط رکھے تھے وہ ہم نے پورے کر دیئے ہیں۔

مولوی شہاب الدین دلاور افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ میزبان کے سوال پر کہ آخر دنیا کے دوسرے ممالک افغانستان کے موجودہ حکوت کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے تو مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ ایک تو امریکہ ابھی تک افغانستان میں شکست کا جواز اپنے عوام کو نہیں بتا سکا۔ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی اپنی سیاست ہے لیکن ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی نظر میں قومی حکوت کی تعریف الگ ہے اور ہماری نظر میں الگ ہے۔ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ حکومت میں افغانستان کے تمام قومیتوں کی بلا تفریق نمائندگی شامل ہوں لیکن امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے گیارہ سے پندرہ بندوں کی ایک لسٹ دی ہے کہ اگر ان لوگوں کو حکومت میں شامل کیا جائے تو پھر ہم مان لیں گے کہ اب افغانستان کی حکومت قومی ہے۔ میزبان کے سوال پر مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ لسٹ میں سیمہ ثمر، دوستم کے بیٹے کانام، محقق، خلیلی، عطانور جیسے لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ یعنی اگر ان ناموں سمیت گیارہ یا پندرہ نام شامل کئے جائیں تو امریکہ اور ان کے اتحادی افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان لوگوں کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی اتنے بڑے مجرم ہیں کہ وہ ان کو امریکہ کا ویزہ نہیں دے سکتے۔ امریکہ عام افغانیوں کو تو بغیر ویزہ حتی کے بغیر ٹکٹ بھی جہاز میں بٹھا کر لے جاتا ہے لیکن ان مجرمین پر امریکہ داخلے پر پابندی ہے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ اگر میں اپنی وزارت کی بات کروں تو یہاں وزارت کے دفتر میں 558 افراد کام کر رہے ہیں۔ طالبان کے انقلاب کے بعد بھی ان 558 افراد میں سے صرف 8 بندے امارات اسلامی افغانستان نے نئے بھرتی کئے ہیں باقی تو سارے کے سارے وہی پرانے ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں تاجک، ازبک، ہزارہ اور پختون سمیت تمام قومیتوں کے لوگ کام کر رہے ہیں۔ مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے 8 بندوں کے شامل ہونے سے اب ہماری وزارت میں قومی یکجہتی نظر آ گئی ہے کیونکہ پہلے ہماری شمولیت نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 550 بندوں کی شمولیت پر اگر افغان حکومت کی معدنیات اور پیٹرولیم کی وزارت قومی نہیں تو صرف گیارہ یا پندرہ بندوں کی شمولیت سے قومی حکومت کیسے بن سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور ان کے اتحادی قومی حکومت کی ظالمانہ تعریف کر رہے ہیں۔

افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ افغانستان کے تمام ملت اور قومیتوں کے نمائندے تقوی اور اہلیت کی بنیاد پر حکومت میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو بھی ملازمتوں سے نہیں نکالا، چند ملازمین خود بھاگ گئے تھے باقی وہی پرانے ملازمین میرے معاونین ہیں۔ میں انہیں پرانے ملازمین کے ساتھ وزارت کا نظام چلا رہا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81024
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا ہے کہ بھارت نے پاکستان میں 3 ائر بیسز پر میزائل داغےہیں، بھارت نے افغانستان پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے-
پاکستان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے جھوٹی اور من گھڑت خبر شائع کرنے پر وضاحت طلب کرلی ہے۔ میڈیا کے مطابق پاکستان نے بی بی سی اردو پر 10 اپریل 2022 کو شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے
شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ہم نے غداری کی ہے تو ثبوت قوم اور سپریم کورٹ

مقبول ترین
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی تعاون کے امور پر گفتگو کی گئی۔
صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت منظوری دی۔ صدر مملکت نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات ہونے پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا آڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اڈے بند نہ کیے گئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ قرارداد کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں