Thursday, 20 January, 2022
امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

امریکہ اور اتحادی اپنے 11بندوں کی شمولیت کو قومی حکومت سمجھتے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور

ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے، سرپرست وزارت معدنیات و پٹرولیم افغانستان

 

امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی بڑے مجرم ہیں

 

کابل ۔ تحریک طالبان کے مرکزی رہنما اور افغانستان کی معدنیات و  پیٹرولیم کی وفاقی وزارت کے سرپرست مولوی شہاب الدین دلاور نے کہا ہے کہ امارات اسلامی افغانستان کی حکومت میں تمام قوموں کے نمائندے شامل ہیں، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ایک قومی حکومت ہے۔ دنیا کو افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے جو بھی شرائط رکھے تھے وہ ہم نے پورے کر دیئے ہیں۔

مولوی شہاب الدین دلاور افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ میزبان کے سوال پر کہ آخر دنیا کے دوسرے ممالک افغانستان کے موجودہ حکوت کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے تو مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ ایک تو امریکہ ابھی تک افغانستان میں شکست کا جواز اپنے عوام کو نہیں بتا سکا۔ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی اپنی سیاست ہے لیکن ایک نہ ایک دن امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک افغانستان کی حکومت کو ضرور تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی نظر میں قومی حکوت کی تعریف الگ ہے اور ہماری نظر میں الگ ہے۔ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ حکومت میں افغانستان کے تمام قومیتوں کی بلا تفریق نمائندگی شامل ہوں لیکن امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے گیارہ سے پندرہ بندوں کی ایک لسٹ دی ہے کہ اگر ان لوگوں کو حکومت میں شامل کیا جائے تو پھر ہم مان لیں گے کہ اب افغانستان کی حکومت قومی ہے۔ میزبان کے سوال پر مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ لسٹ میں سیمہ ثمر، دوستم کے بیٹے کانام، محقق، خلیلی، عطانور جیسے لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ یعنی اگر ان ناموں سمیت گیارہ یا پندرہ نام شامل کئے جائیں تو امریکہ اور ان کے اتحادی افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔

مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ جن کو ہماری حکومت میں شامل کرنا چا ہتا ہے، خود امریکہ ان لوگوں کو ویزہ تک نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ خود امریکی قانون میں بھی اتنے بڑے مجرم ہیں کہ وہ ان کو امریکہ کا ویزہ نہیں دے سکتے۔ امریکہ عام افغانیوں کو تو بغیر ویزہ حتی کے بغیر ٹکٹ بھی جہاز میں بٹھا کر لے جاتا ہے لیکن ان مجرمین پر امریکہ داخلے پر پابندی ہے۔

مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ اگر میں اپنی وزارت کی بات کروں تو یہاں وزارت کے دفتر میں 558 افراد کام کر رہے ہیں۔ طالبان کے انقلاب کے بعد بھی ان 558 افراد میں سے صرف 8 بندے امارات اسلامی افغانستان نے نئے بھرتی کئے ہیں باقی تو سارے کے سارے وہی پرانے ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں تاجک، ازبک، ہزارہ اور پختون سمیت تمام قومیتوں کے لوگ کام کر رہے ہیں۔ مولوی شہاب الدین دلاور کا کہنا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے 8 بندوں کے شامل ہونے سے اب ہماری وزارت میں قومی یکجہتی نظر آ گئی ہے کیونکہ پہلے ہماری شمولیت نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 550 بندوں کی شمولیت پر اگر افغان حکومت کی معدنیات اور پیٹرولیم کی وزارت قومی نہیں تو صرف گیارہ یا پندرہ بندوں کی شمولیت سے قومی حکومت کیسے بن سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور ان کے اتحادی قومی حکومت کی ظالمانہ تعریف کر رہے ہیں۔

افغانستان کے مقامی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مولوی شہاب الدین دلاور نے بتایا کہ ہماری نظر میں قومی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ افغانستان کے تمام ملت اور قومیتوں کے نمائندے تقوی اور اہلیت کی بنیاد پر حکومت میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو بھی ملازمتوں سے نہیں نکالا، چند ملازمین خود بھاگ گئے تھے باقی وہی پرانے ملازمین میرے معاونین ہیں۔ میں انہیں پرانے ملازمین کے ساتھ وزارت کا نظام چلا رہا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  94641
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
موجودہ عالمی نظام ناکام ہوگیا ہے، اسلام ہی موجودہ حالات میں انسانیت کی نجات کا ضامن ہے۔ ہمیں ایک غلامی سے نجات پا کر دوسری غلامی میں نہیں جانا چاہیے۔ اسلام حریت وآزادی کا سبق دیتا ہے. یہ بات ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی مشاورتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔
علم طب کے فروغ میں جہاں صاحبان علم وفضل اطباء کا کردار یاد گار اور ناقابل فراموش ہے، وہیں جڑی بوٹیوں کی تلاش اور خصوصیات کے حوالے سے’’عطائیوں‘‘ کی عرق ریزی سے بھی انکار ممکن نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہی ’’عطائیوں‘‘ نے اپنی زندگیاں جڑی بوٹیوں کی پہچان، ان کے خواص اور استعمال کے بارے میں جانتے جانتے جنگلوں، ویرانوں، میدانوں اور پہاڑوں میں تیاگ دیں۔
دنیا میں لوگ کامیابی حاصل کرنے کےلیے ہر مشکل کو گلے لگانے کےلیے تیار بیٹھے ہیں کامیاب ہونا اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونا ہر ایک کی دلی تمناء ہے اب کامیابی کے معیارات مختلف ہیں اس حساب سے اسکی راہ بھی مختلف ہوتی ہے کسی کا معیار حکومت ہے، کسی کا دولت جمع کرنا اور کسی کا علمی میدان جیت جانا ہے وغیرہ ۔
قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کی اپیل پر شیعہ علماءکونسل پاکستان سمیت دیگر مذہبی تنظیموں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب سندھ، خیبر پختونخوا ، کشمیر ،گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے تمام شہروں میں ایس او پیز کے تحت یوم القدس کی ریلیوں کا انعقاد کیاگیا۔

مقبول ترین
نیشنل اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (ایس ایم ای ڈی اے) پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ صدی میں ایک مرتبہ ایسی صورتحال ہوتی ہے، عالمی مالیاتی ادارے (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر اداروں نے تسلیم کیا
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 15 افسران کو معطل کرکے انضباطی کارروائی کا حکم جاری کردیا۔ میڈیا کے مطابق سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار
وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مری میں متعدد افراد کی اموات پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ میڈیا کے مطابق مری اور گلیات میں شدید برفباری اور ٹریفک جام کے باعث سردی سے ٹھٹھر کر مرنے والے افراد کی تعداد 21 ہوچکی ہے
مری میں برفباری میں پھنسے 21 سیاح شدید سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ وزیرداخلہ شیخ رشید نے فوج اور سول آرمڈ فورسز کو طلب کرلیا ہے۔ملک کے پُرفضا مقام مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں