Friday, 14 August, 2020
’’سینیٹر فرحت اللہ بابر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع سے مستعفی‘‘

’’سینیٹر فرحت اللہ بابر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع سے مستعفی‘‘
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع سے استعفیٰ دے دیا۔ فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کمیٹی کے جی ایچ کیو کے دورے کی مخالفت کرتے ہوئے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو جی ایچ کیو نہیں جانا چاہیے۔

معلوم ہوا ہے کہ فرحت اللہ بابر کی جگہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک کو نامزد کردیا گیا ہے۔

جیونیوز کے مطابق فرحت اللہ بابر نے استعفے کی کوئی ٹھوس وجہ نہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر اب دفاع کمیٹی کا ممبر نہیں ہوں۔ فرحت اللہ بابر نے مستعفی ہونے کی وجوہات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ نہ پوچھا جائے کہ استعفیٰ کیوں دیا

البتہ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا جی ایچ کیو والے پارلیمان میں آکر بریفنگ دیں، جب 2003 میں سینیٹرتھا تب بھی کہا تھا کہ پارلیمان کوجی ایچ کیونہیں جانا چاہیے، تو اس وقت انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی معاملات ہیں، ہم بریفنگ کا مواد دکھانا چاہتے ہیں جس پر میں نے کہا تھا جی ایچ کیو کا مواد 15 کلومیٹر کے فاصلے پر لانا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

ڈان نیوز کے مطابق فرحت اللہ بابر نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا جی ایچ کیو حساس دستاویزات 15 کلومیٹر تک بھی نہیں لا سکتا؟ کیا جی ایچ کیو ان دستاویزات کی 15 کلومیٹر تک بھی حفاظت نہیں کر سکتا؟‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  53143
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے کرپشن کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونے والے اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر یوسف الدرویش کی جگہ کسی اور سعودی استاد کو جامعہ کا صدر بنوانے کی کوشش کررہا ہے۔
الزامات کے گرداب میں پھنسے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر سعودی نیشنل یوسف الدرویش نے استعفیٰ دے دیا۔ ایک بیان میں صدر جامعہ نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا،استعفیٰ کی کاپی ریکٹر آفس کو موصول ہو گئی۔
2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔
چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرۃ العین کی جانب سے بچے کی پیدائش پر ملازمت پیشہ والدین کے لیے تعطیلات کے حوالے سے بل پیش کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے مخالفت کے باوجود

مقبول ترین
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں