Wednesday, 03 June, 2020
قدس کا مسئلہ ہر مومن کا مسئلہ ہے

قدس کا مسئلہ ہر مومن کا مسئلہ ہے
فوٹو مبصر

تحریر: مفتی عامر شہزاد
قدس کا مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ نہیں یہ مسئلہ کسی ایک ملک سے مخصوص نہیں ہے یا یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ گذشتہ موجود اور آنے والے مومنین اور موحدین کا مسئلہ ہے جس دن مسجد الاقصی کی بنیاد اس زمین پر رکھی گئی ہے اسی دن سےیہ سیارہ اس ھستی میں گردش کر رہا ہے مسلمانوں کے لئے کتنا دردناک ہے یہ منظر کہ وہ مادی اور معنوی امکانات کے باوجود بھی اس جسارت کو دیکھ رہے ہیں افسوس اس بات کا اسلامی ممالک دنیا کی سپر طاقتوں کی رگ حیات ہاتھ میں رکھ کران سب مناظر کا تماشائی بنے ہوے ہیں اور کچھ اوباش اس طرح مقدسات کی توہین کر رہے ہیں۔

امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق اسلامی انقلاب کے بانی فلسطینی عوام اور عالم اسلام کے نام اپنے ایک پیغام میں فرمایا کہ قدس کا مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ نہیں یہ مسئلہ کسی ایک ملک سے مخصوص نہیں ہے یا یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ گذشتہ موجود اور آنے والے مومنین اور موحدین کا مسئلہ ہے جس دن مسجد الاقصی کی بنیاد اس زمین پر رکھی گئی ہے اسی دن سےیہ سیارہ اس ھستی میں گردش کر رہا ہے مسلمانوں کے لئے کتنا دردناک ہے یہ منظر کہ وہ مادی اور معنوی امکانات کے باوجود بھی اس جسارت کو دیکھ رہے ہیں افسوس اس بات کا اسلامی ممالک دنیا کی سپر طاقتوں کی رگ حیات ہاتھ میں رکھ کران سب مناظر کا تماشائی بنے ہوے ہیں اور کچھ اوباش اس طرح مقدسات کی توہین کر رہے ہیں۔

اسلامی تحریک کے راہنما نے فرمایا کہ امریکا جیسے فاسد اور جنایتکار نے عالم اسلام کے سامنے اپنے کچھ ظلم احباب کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے قبلہ اول کو غصب کر رکھا ہے اور اس کے باوجود عالم اسلام کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہا ہے اور یہ سب دیکھنے کے بعد اسلامی ممالک کی خاموشی افسوسناک ہے کتنا اچھا ہوتا کہ مسجد الاقصی کے اسپیکر اسی دن سے اسرائیل کی جنایت کے خلاف بولتے جس دن اس نے یہ ظالمانہ کاروائی کی تھی۔

رہبر کبیر انقلاب اسلامی نے فلسطین کے انقلابی اور بہادر مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت فلسطین کے مسلمانوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرتے ہوے مسلمانوں کو کفر کے مقابلے میں اتحاد اور تحریک کی طرف دعوت دی ہے اب ایسی صورت حال میں کون مسلمان اس دعوت کو نظر انداز کر سکتا ہے اب جب کے فلسطین کے جوانوں کے خون سے مسجد الاقصی کی دیواریں رنگین ہیں تو انہوں نے اپنی مدد کے لئے پکارا ہے اب کوئی غیرتمند مسلمان ان کی اس دعوت کو نظر انداز نہیں کر سکتا عالم اسلام کو ان کی ہمدردی کرنی چاہیے اور امریکا و اسرائیل جیسے ظالم کا مقابلہ کرنا چاہیے اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنا چاہیے ہماری دعا ہیکہ پروردگار مستضعفین کو مستکبرین پر غالب  اور انہیں اپنے ہر مقصد میں کامیاب بنائے۔ا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  14524
کوڈ
 
   
مقبول ترین
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں