Monday, 18 November, 2019
دو دن کی مہلت: وزیراعظم مستعفی ہو جائیں، فضل الرحمان

دو دن کی مہلت: وزیراعظم مستعفی ہو جائیں، فضل الرحمان

اسلام آباد ۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کے غریب عوام کیساتھ کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی، بہت مہلت دیدی، اب انھیں جانا ہوگا۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا اپوزیشن کے مشترکہ جلسے سے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پاکستانی قوم کا اجتماع ہے۔ عوام جس جذبے کیساتھ آئے، ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ دنیا اس اجتماع کو سنجیدگی سے لے، ہم انصاف چاہتے ہیں۔ پاکستان پر صرف عوام کا حق ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں عدل وانصاف کا نظام چاہتے ہیں۔ 2018ء کے الیکشن دھاندلی کے ذریعے ہوئے۔ حکومت کو جانا ہوگا، ہم نے انھیں بہت مہلت دے دی۔ انھیں غریبوں، مزدوروں اور پاکستان کے عوام کیساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دعویٰ کیا گیا کہ 50 لاکھ گھر بنا کردیں گے لیکن 50 لاکھ سے زیادہ گھر گرا چکے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرکے 25 لاکھ کو بیروزگار کر دیا گیا۔ کرپشن کا خاتمہ تو دور کی بات، ایک سال میں اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔

انہوں نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔ عوام موجودہ حکومت سے آزادی چاہتے ہیں۔ آج پوری قوم ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہے۔ ان کی نااہلی سے ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ جس ریاست کی معیشت تباہ ہو جائے، وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ معیشت تباہ ہوئی تو سویت یونین اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے، اور وہاں کی عوام کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، ہم کشمیریوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ انھیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔

اپنے خطاب میں حکومت کے دعوؤں اور وعدوں پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہتے تھے باہر سے لوگ نوکری کے لیے آئیں گے، تاہم آئی ایم ایف کے 2 بندے ضرور پاکستان میں آئے۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں بھارت سے کشیدگی ہے تو دوسری طرف ان کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ آج اسرائیل کوتسلیم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں حالانکہ اسرائیل وجود میں آیا تو اس نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد پاکستان کے خاتمے پر رکھی۔

انہوں نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے لیکن ہمارے مطالبے نہ مانے گئے تو پھر کسی پابندی کے پابند نہیں ہوں گے۔ عوام کا یہ سمندر قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو گرفتار کرلے۔ ہم مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ دو دن کی مہلت دیتے ہیں، وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔ دو دن کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دینگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  90544
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے
وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکرات
وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں کرپشن کرنے والے افراد کو این آر او دینے کی سختی سے نفی کر دی۔ ملک میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف وزیر اعظم عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیس بک بیان میں لکھا کہ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں