Monday, 16 December, 2019
لوڈ شیڈنگ کم ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں

لوڈ شیڈنگ کم ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں

اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر دفاع و پانی وبجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جہاں بجلی چوری ہوگی، وہاں لوڈشیڈنگ ضرور ہو گی۔ آئی پی پی پیز کی پیداوار کم ہونے کی بات درست نہیں ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی شکایات درست ہیں، طلب میں بے پناہ اضافہ ہواہے تاہم  لوڈ شیڈنگ کم ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ حکومت نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نصف کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کی شکایت درست ہیں، جہاں بجلی چوری ہوگی، وہاں لوڈشیڈنگ ضرور ہو گی۔ طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا لیکن پیداوار بھی بڑھی، کم ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں، آئی پی پی پیز کی پیداوار کم ہونے کی بات درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وعدے کے مطابق بجلی سستی ہوگئی ،سولر کا ٹیرف 17 سے کم ہو کر 6 روپے تک آگیا،مئی میں ساڑھے چار ہزارمیگاواٹ اضافی بجلی دستیاب ہوگی ،نیلم جہلم پاور منصوبے سے آئندہ سال بجلی فراہمی شروع ہوگی ، گیلپ سروے میں 9 فیصد شہریوں نے لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا کہا ، حکومت نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نصف کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  21013
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفاقی دارالحکومت کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں دو طلبا تنظیموں کے درمیان تصادم ہوا، تصادم کے دوران ایک طالبعلم جاں بحق ہو گیا جبکہ 21 شدید زخمی ہو گئے، پولیس حالات کنٹرول میں ناکام ہوئی تو رینجرز نے
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے طُلبہ یونین بحالی کا بل منظور کرلیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کے بحال کردہ طلبہ یونین بل 2019ء کے مطابق اسٹوڈنٹ یونین کسی بھی تعلیمی ادارے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں بم دھماکے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولوی حنیف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسے۔ اس ضمن میں اسسٹنٹ کمشنر چمن یاسر دشتی نے جے

مقبول ترین
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے
بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں