Monday, 18 November, 2019
آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار

آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے تاہم کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہیں۔ مذاکرات کے بعد مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ڈیڈلاک ختم کرنے تک مذاکرات جاری رہیں گے۔ رہبر کمیٹی جب اپنے لیڈرز سے بات کرے گی، ہم مذاکرات پر تیار ہیں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارا کئی چیزوں پر اتفاق ہو چکا ہے، درمیانی راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی مطالبات پر رضامندی ہو گئی ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ رہبر کمیٹی کا وہی مطالبہ ہے جو پہلے تھا۔

میڈیا کے مطابق دونوں کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ مذاکرات میں حکومتی کمیٹی نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن کیساتھ وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور اسمبلیاں تحلیل ہونے پربات نہیں ہوگی۔

دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے بھی اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات جب بھی ہوں گے، وزیراعظم کے استعفے سے شروع ہوں گے۔ وزیراعظم کے مستعفی ہونے پر اسمبلیاں تحلیل کی جائیں۔

حکومتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ رہبر کمیٹی کیساتھ ہر آئینی اور قانونی مطالبات پر بات کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہبر کمیٹی کے کچھ ارکان کی جانب سے اپوزیشن کو درمیانی راستے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق حکومتی کمیٹی نے بڑی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جو حلقے کھلوانا چاہے، پارلیمانی کمیٹی با اختیار ہوگی۔

حکومتی کمیٹی کی وزیراعظم اور رہبر کمیٹی سے ملاقاتوں کی اندرونی کہانی کے مطابق ارکان نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ ترجمانوں کو سخت بیانات دینے سے روکیں۔ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پرامن حل کے لیے فریقین لچک کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ہماری گزارشات کا مثبت جواب دیا۔ وزیراعظم نے موجودہ صورتحال میں چودھری برادران کے کردار کو سراہا۔

میڈیا کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی کمیٹی نے سفارشات رہبر کمیٹی کو پیش کر دی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی فعال کرنے پر رضامند ہے۔

حکومتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے مطالبات بنیادی طور پر انتخابی اصلاحات سے متعلق ہیں۔ انتخابات میں فوج کی تعیناتی کا مقصد سیکیورٹی مسائل ہیں۔ بعض حلقوں میں بااثر لوگ مخالف امیدوار کو اٹھا لے جاتے ہیں۔ حکومت آئین کی اسلامی دفعات کے تحفظ کی یقین دہانی کراتی ہے۔

خبریں ہیں کہ اپوزیشن نے حکومتی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیشکش کی گئی تھی کہ انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی بنی ہوئی ہے، اسے فعال بناتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے پر بھی کام کرے۔

اپوزیشن نے اس پیشکش کو سمترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پچیس جولائی 2018ء کے انتخابات کا معاملہ حل ہونا چاہیے، اس کے بعد باقی معاملات پر بات کریں گے۔ پارلیمانی کمیٹی کو فعال کرنے کی پیشکش قبول نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  6629
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری اور پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر تنقید کی بوچھاڑ کی۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کے کسی جلسے اور ریلی کو نہیں روکا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے دورہ امریکا پر حکومتی
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم کو سیلیکٹڈ کہنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی گئی تاہم اسپیکر نے سیلیکٹڈ کا لفظ ہذف کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہذف شدہ الفاظ کا
قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس جاری ہے جس میں اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرکے حکومت سے دوبارہ بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا تو چیئرمین

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں