Thursday, 28 May, 2020
آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار

آزادی مارچ: حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے تاہم کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہیں۔ مذاکرات کے بعد مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ڈیڈلاک ختم کرنے تک مذاکرات جاری رہیں گے۔ رہبر کمیٹی جب اپنے لیڈرز سے بات کرے گی، ہم مذاکرات پر تیار ہیں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارا کئی چیزوں پر اتفاق ہو چکا ہے، درمیانی راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی مطالبات پر رضامندی ہو گئی ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ رہبر کمیٹی کا وہی مطالبہ ہے جو پہلے تھا۔

میڈیا کے مطابق دونوں کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ مذاکرات میں حکومتی کمیٹی نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن کیساتھ وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور اسمبلیاں تحلیل ہونے پربات نہیں ہوگی۔

دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے بھی اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات جب بھی ہوں گے، وزیراعظم کے استعفے سے شروع ہوں گے۔ وزیراعظم کے مستعفی ہونے پر اسمبلیاں تحلیل کی جائیں۔

حکومتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ رہبر کمیٹی کیساتھ ہر آئینی اور قانونی مطالبات پر بات کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہبر کمیٹی کے کچھ ارکان کی جانب سے اپوزیشن کو درمیانی راستے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق حکومتی کمیٹی نے بڑی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جو حلقے کھلوانا چاہے، پارلیمانی کمیٹی با اختیار ہوگی۔

حکومتی کمیٹی کی وزیراعظم اور رہبر کمیٹی سے ملاقاتوں کی اندرونی کہانی کے مطابق ارکان نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ ترجمانوں کو سخت بیانات دینے سے روکیں۔ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پرامن حل کے لیے فریقین لچک کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ہماری گزارشات کا مثبت جواب دیا۔ وزیراعظم نے موجودہ صورتحال میں چودھری برادران کے کردار کو سراہا۔

میڈیا کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی کمیٹی نے سفارشات رہبر کمیٹی کو پیش کر دی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی فعال کرنے پر رضامند ہے۔

حکومتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے مطالبات بنیادی طور پر انتخابی اصلاحات سے متعلق ہیں۔ انتخابات میں فوج کی تعیناتی کا مقصد سیکیورٹی مسائل ہیں۔ بعض حلقوں میں بااثر لوگ مخالف امیدوار کو اٹھا لے جاتے ہیں۔ حکومت آئین کی اسلامی دفعات کے تحفظ کی یقین دہانی کراتی ہے۔

خبریں ہیں کہ اپوزیشن نے حکومتی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیشکش کی گئی تھی کہ انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی بنی ہوئی ہے، اسے فعال بناتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے پر بھی کام کرے۔

اپوزیشن نے اس پیشکش کو سمترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پچیس جولائی 2018ء کے انتخابات کا معاملہ حل ہونا چاہیے، اس کے بعد باقی معاملات پر بات کریں گے۔ پارلیمانی کمیٹی کو فعال کرنے کی پیشکش قبول نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  10212
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سینیٹ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اصل سوال ہے یہ ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ کا کورونا بحران میں کیا کام ہے؟ وزیراعظم ملک کا سب سے ذمے دار آدمی ہے، کیا وزیراعظم نے اپنی ذمےداری نبھائی؟ وزیراعظم نے ذمےداری نہیں
سینیٹ اجلاس میں کورونا وائرس کی صورت حال پر بحث کے دوران اپوزیشن نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ لاک ڈاوَن میں نرمی پر حکومت کا پیغام واضح نہیں ہے ۔
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزارت اطلاعات میں بہترین ٹیم آئی ہے، پردے کے آگے شبلی فراز ہیں اور پیچھے باجوہ۔ نیب ترمیمی آرڈیننس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) چاہتی ہیں کہ نیب قوانین بدل دیے جائیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ اپوزیشن جماعتوں کا 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے حقوق کے تحفظ پر اتفاق ہے، آئین میں تبدیلی کے کسی بھی فیصلے سے سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوگا۔

مزید خبریں
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

مقبول ترین
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو داﺅ پر لگا رہا ہے ‘ بھارت متنازعہ علاقوں میں تعمیراتی کام ‘سڑکیں اور فوجی بنکرز بنا رہا ہے جو کہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے ‘لداخ کے متنازعہ علاقے میں تعمیرات سے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزیاںکر رہا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق کورونا س کے وار تیز ہوگیاہے ،60ہزار پاکستانی متاثر‘ اب تک 1240 جاں بحق ،مجموعی طور پر 19 ہزار142 مریض صحت یاب ‘ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار446 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شدید مہنگائی کے باعث عوام حکومت سے تنگ آچکی ہے مو جودہ حکومت کاخاتمہ ہی عوام کے لئے ریلیف ہو گا،عوام نا اہل نیازی حکومت سے نجات چاہتی ہے ۔ کورونا وباءاور ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے حکو مت کی کو ئی پا لیسی نظر نہیں آئی ، ڈنگ ٹپاو¿ نظام چل رہا ہے ۔
پاکستان مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران کے حکم پر چینی بر آمد کی گئی‘ مقدمہ بنایا جائے ،وزیراعظم کے لاپتہ ہونے پر تشویش ہے وزیراعظم کی گمشدگی کا اشتہار شائع کرنا چائیے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں