Monday, 16 December, 2019
’’کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر لڑیں گے، عمران خان‘‘

’’کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر لڑیں گے، عمران خان‘‘

اسلام آباد ۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ مودی سرکار کے انتخابی منشور پر عمل کا حصہ، بھارتی اقدام آر ایس ایس کا نظریہ ہے، پارلیمنٹ سے پیغام جانا چاہیے کہ ہم ایک ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری ختم کرنے کیخلاف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی بہتری ہماری اولین ترجیح ہے، اسی تناظر میں اقتدار سنبھالتے ہی اپنے ہمسایہ ممالک بھارت، افغانستان اور ایران کی قیادت سے بات کی۔ ہم نے بھارتی قیادت سے کہا کہ اگر وہ ایک قدم آگے بڑھیں گے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔

پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا لیکن اس کا سارا الزام پاکستان کے سر تھونپ دیا گیا۔ بھارت کی الزام تراشی کا مقصد الیکشن جیتنا تھا۔ بھارتی پائلٹ کو اسی لیے واپس کیا کہ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی الیکشن کے بعد پھر مذاکرات کی کوشش کیں لیکن بشکک میں بھارتی رویے کو دیکھ کر فیصلہ کیا کہ اب ان کیساتھ بات نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کیخلاف تعصب ہے، وہاں مسلمانوں کو برابر کا شہری سمجھا نہیں جاتا۔ انڈیا کی حکمران جماعت ہندو راج چاہتی ہے۔ بی جے پی گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو مار دیتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام پلان نہیں بلکہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ جب انگریز جا رہا تھا تو آر ایس ایس نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو دبا کر رکھیں گے، قائداعظم محمد علی جناح ابتدا میں ہی آر ایس ایس کا نظریہ سمجھ گئے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ بھارت کے اس اقدام کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہونگے۔ بھارتی حکومت کا اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، بھارت ڈیموگرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کو نوٹس لینا چاہیے بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت کو ہمیشہ کہا دو ایٹمی ملکوں کو مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے لیکن مجھے ہندوستانی حکومت میں تکبر نظر آتا ہے۔ بھارتی حکومت جو کر رہی ہے کشمیر سے ردعمل آئے گا، جب ردعمل آئے گا تو بھارت ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام لگائے گا۔ مجھے ڈر ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کی طرح ایک اور واقعہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اب بڑا سیریس ایشو بن گیا ہے۔ بھارت نے اپنے آئین کی بھی خلاف ورزی کی۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک اب مزید زور پکڑے گی۔ بھارتی حکومت مکمل طور پر آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی پر چل رہی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ بھارت حملہ کرے اور ہم جواب نہ دیں۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب وزیراعظم اپنے خطاب کیلئے کھڑے ہوئے تو کچھ دیر کے وقفے آصف علی زرداری، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تو اپوزیشن اراکین نے اپنے ڈیسک بجانا شروع کر دیے، ان تینوں مواقع پر وزیراعظم کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑنی پڑی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس سیشن کی پوری طرح سمجھ نہیں ہے، اس سیشن کو صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ کشمیریوں سمیت پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اگر اپوزیشن اسے ڈسٹرب کرے گی تو میں بیٹھ جاتا ہوں، پارلیمنٹ سے پیغام جانا چاہیے کہ ہم سب اکھٹے ہیں۔

مودی سرکار کی حرکتیں نازیوں جیسی ہیں، ایٹمی طاقتیں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتیں۔ سلامتی کونسل اور عالمی عدالت انصاف سمیت ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑیں گے۔ اگر دنیا نے کچھ نہ کیا تو پھر ہم ذمہ دار نہیں ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  84977
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں بم دھماکے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولوی حنیف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسے۔ اس ضمن میں اسسٹنٹ کمشنر چمن یاسر دشتی نے جے
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کی بجائے تماشا دیکھ رہی ہے جب کہ بیرونی قبضے، سیاسی و معاشی نا انصافیوں، غربت کے خاتمہ کی ضرورت ہے۔
اطلاعات کے مطابق میاں محمد نوازشریف کے بیٹوں کی لندن میں جائیداد سے متعلق تحقیقات کے لئے ایک ہفتہ قبل جانے والی نیب کی 2 رکنی ٹیم پی آئی اے کی پرواز سے صبح 8 بجے لاہور ایئرپورٹ پہنچی۔

مقبول ترین
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے
بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں