Monday, 18 November, 2019
’’ٹھٹھہ: زائرین کی کشتی الٹنے سے 14 جاں بحق، متعدد لاپتہ‘‘

’’ٹھٹھہ: زائرین کی کشتی الٹنے سے 14 جاں بحق، متعدد لاپتہ‘‘

ٹھٹھہ ۔ ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے وھارا کے قریب سمندر میں زائرین کی دو کشتیاں آپس میں ٹکرانے کے بعد الٹ گئیں جس کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں اور 20 کو ریسکیو کرلیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ جاں بحق ہونے  والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کی لاشوں کو شیخ زید اسپتال ساکرو منتقل کیا گیا ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والی دو کشتیوں میں سوار خواتین اور بچوں سمیت 60 سے زائد افراد پیر پٹھو کے مزار پر جارہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے علاقے  ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے وھارا میں سمندر سے نزدیک زائرین سے بھری دو کشتیاں آپس میں ٹکرانے کے بعد الٹ گئی ہیں جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور 20 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔  ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے اور 5 خواتین بھی شامل ہیں۔ جن کی لاشوں کو شیخ زید اسپتال ساکرو منتقل کردیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ ناصر بیگ کا کہنا تھا کہ اس بد قسمت کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت 60 افراد سوار تھے جو ٹھٹھہ کے قریبی علاقے بوھارا میں دریا پار پیر پٹھائی کے مزار پر حاضری کے لیے جارہے تھے کہ تیز ہوا کے باعث کشتیاں آپس میں ٹکرانے کے بعد الٹ گئیں۔

ڈی سی ٹھٹھہ کے مطابق حادثے کے بعد اب تک 17 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ 20 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشتی میں گنجائش سے زائد افراد سوار تھے جس کی وجہ سے کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ ٹھٹھہ سمیت قریبی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق زائرین جس کشتی میں سوار ہوئے اس میں تقریباً 200 افراد کی گنجائش تھی لیکن کنارے پر تیز ہوا اور مسافروں کی جلدبازی کے باعث کشتی توازن برقرار نہ رکھ سکی جب کہ حادثے کے بعد کئی افراد کنارے پر ہی پانی میں ڈوبے۔

دوسری جانب چیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدری کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت، ریسکیو ٹیموں اور ریلیف آپریشن کو تیز کرنے اور زخمیوں کے بہتر علاج معالجے کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی ہے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ اندھیرا ہونے سے پہلے ریسکیو آپریشن مکمل کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  80591
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکرات
سابق وزیراعظم نوازشریف سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا منتقل ہو گئے ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا پہنچے، سروسز اسپتال سے روانگی کے وقت نواز شریف اسپتال
پرویز خٹک نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کے بیان پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے، کل کی تقریروں پر افسوس ہوا، تیس چالیس
حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور شناختی کارڈ کی شرط موخر کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور مرکزی تنظیم تاجران کے وفد کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں معاہدہ طے پاگیا

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں