Wednesday, 21 August, 2019
بھارت نے جنگ مسلط کی تومنہ توڑ جواب دیں گے، وزیراعظم

بھارت نے جنگ مسلط کی تومنہ توڑ جواب دیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم بھارت نے جنگ مسلط کی تومنہ توڑ جواب دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ رائےعامہ کی جنگ ہے، ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے، بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔


عمران خان نے کہا کہ نہتے کشمیریوں پر بڑھتے بھارتی مظالم سے اقوام عالم کو آگاہ کریں گے، بھارت مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ مودی سرکار کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کا جغرافیہ بدلنا چاہتا ہے، مودی سرکار ہٹلر جیسی سوچ رکھتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اوراخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، ہم جنگ نہیں چاہتے، بھارت نے جنگ مسلط کی تو منہ توڑ جواب دیں گے، یہ رائےعامہ کی جنگ ہے، ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے۔ عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے، میں نے نریندرمودی سے ہمیشہ امن کی بات کی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں کہا کہ پوری دنیا منتظر ہے کہ جب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھایا جائے گا تو مظلوم کشمیریوں کیساتھ کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ  کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا خیال ہے کہ بے پناہ عسکری قوت کے بل بوتے پر اہل کشمیر کی تحریک آزادی کا گلا گھونٹ لے گی؟ قوی امکانات ہیں کہ اس تحریک میں شدت آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس کا یقینی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں اہل کشمیر کی نسل کشی کا بدترین مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایک مرتبہ پھر ہمیں فاشزم، بی جے پی کی حکومت کی شکل میں، کی خوشامد دیکھنے کو ملے گی یا بین الاقوامی برادری اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا راستہ روکے گی؟

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر
بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔ بھارت نے اب یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

پاکستان کا رد عمل
پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی اور اقوام متحدہ، سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر یہ معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی اقدم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ وزیر ریلوے شیخ رشید نے سمجھوتہ ایکسپریس ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا۔

کشمیر کی صورتحال
بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔

بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، 7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 6 کشمیری شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے 8 اگست کو کشمیر میں احتجاج کرنے والے تقریباً 500 کشمیریوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے جبکہ حریت قیادت سمیت بھارت کے حامی رہنما محموبہ مفتی اور فاروق عبداللہ بھی نظر بند ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50144
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر
پاکستان مظلوم کشمیریوں کی آواز بن گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیجنگ میں چینی ہم منصب سے اہم ملاقات کی جس میں انھیں بھارتی بربریت سے آگاہ کیا گیا۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی مقبوضہ جموں وکشمیر
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ مودی سرکار کے انتخابی منشور پر عمل کا حصہ، بھارتی اقدام آر ایس ایس کا نظریہ ہے، پارلیمنٹ سے پیغام جانا چاہیے کہ ہم ایک ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیردفاع پرویز خٹک، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیراعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، معاون خصوصی برائے

مقبول ترین
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری
وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور وہ کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں