Monday, 18 November, 2019
نئی حلقہ بندیاں، پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم

نئی حلقہ بندیاں، پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم

اسلام آباد ۔ نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کے چوتھےاجلاس میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے۔ جبکہ اسپکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل لے جانا چاہتی ہے، کچھ ارکان کی رائے ہے کہ پارلیمنٹ زیادہ بالادست فورم ہے، حکومت اب اتفاق رائے پیدا کرے۔ آئندہ اجلاس میں اتفاق رائے نہ ہوا تو اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم پر پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس میں شاہ محمود قریشی، صاحبزادہ طارق اللہ ، شیخ صلاح الدین، ایس اقبال قادری،اعجاز الحق، نعیمہ کشور ، زاہد حامد ، شیخ رشید ، آفتاب شیر پاؤ، شیخ آفتاب، روبینہ خالد، طارق بشیر چیمہ اور سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح سمیت الیکشن کمیشن کے حکام نے شرکت کی۔

آج کے اجلاس میں بھی نئی حلقہ بندیوں کے آئینی ترمیم بل پر غور کیا گیا تاہم اجلاس اجلاس میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا، دوران اجلاس ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کہا کہ ووٹرز فہرستیں اپ ڈیٹ ہونا ووٹرزکا حق ہے جو ووٹر کو ضرور دیں گے، مردم شماری کےبعد انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہونا آئینی ضرورت ہے، انتخابات 2018 نئی ووٹرلسٹوں اور نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہونے چاہییں، نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق حکومت 10 نومبرتک فیصلہ کرلے۔

دوران اجلاس شیخ رشید ناراض ہوکر باہر چلے گئے جہاں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ میٹنگ مکمل ناکام ہوگئی، یہ ہمیں ڈراتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ رہا ہے، میری اچکزئی سے لڑائی ہوئی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس 63 بندے کم ہیں، دوتہائی کے لیے 228 بندے چاہییں، (ن) لیگ 88 بندوں کی پارٹی ہے، اگر شام تک حکومت قرارداد نہ لاسکی تواسے مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ حکومت ناکام ہوچکی اور عوام کا اعتماد کھوچکی ہے، اجلاس میں انہیں بتایا کہ (ن) لیگ تباہ ہوچکی ہے۔

اجلاس کےبعد میڈیا بریفنگ میں اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تمام رہنما قیادتوں سے مشاورت کرکے آئے تھے، اتفاق رائےایک بات پرہےکہ الیکشن تاخیرکا شکار نہ ہوں جب کہ یہ اتفاق رائے ہےکہ1998 کی مردم شماری کے مطابق قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ اب حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سی سی آئی کا اجلاس بلاتی ہے یا نہیں۔ ایاز صادق نے کہا ایم کیو ایم کے تحفظات بھی حکومت نے سن لئے ہیں، اب حکومت مشاورت کر کے بتائے گی تو اس کے بعد پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل لے جانا چاہتی ہے، کچھ ارکان کی رائے ہے کہ پارلیمنٹ زیادہ بالادست فورم ہے، حکومت اب اتفاق رائے پیدا کرے۔ آئندہ اجلاس میں اتفاق رائے نہ ہوا تو اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کی بیل چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی، لگتا ہے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہیں ہوں گے اور (ن) لیگ کورم بھی پورا نہیں کرسکتی لہٰذا ترمیم کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا، جب ناکام ہوجائیں گے تو پھرہوسکتا ہے ہم کوئی حل دے دیں۔

الیکشن کمیشن کے ڈی جی قانون محمد ارشد خان نے کہا کہ فی الحال الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں نھیں جارہی، ہم نے سیاسی جماعتوں کو 10 نومبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے، اگر 10 نومبر کے بعد بھی ہفتہ دس دن مزید دینے پڑے تو ہم کور کر لیں گے

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28124
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو ہٹانے اور ان کی جگہ سابق سفیر منیراکرم کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔ وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک میں سفیروں کی بڑے پیمانے پر تقرریاں
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر دیربالا میاں نصیب جان نے ایک بار پھر اپنی کوششوں سے گزشتہ پانچ سال سے جاری دشمنی کو دوستی میں بدل کر علاقے کو قتل و غارت سے بچا لیا۔ پولیس دیربالا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر دیربالا میاں نصیب جان نے گزستہ دنوں
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کراچی میں ٹی وی چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وفد سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے میڈیا کورٹس
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کثیرالجماعتی کانفرنس وفاقی دارالحکومت میں ہورہی ہے، جس میں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وفود نے شرکت کی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ممکنہ طور

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں