Saturday, 14 December, 2019
اگر شرط استعفیٰ ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم

اگر شرط استعفیٰ ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔

میڈیا کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے 'کھلے دل سے احتجاج اور مارچ کی اجازت دی لیکن اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ ساتھ ہی انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بھی تیار ہونے کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اسلام آباد میں 'آزادی مارچ' جاری ہے جو ایک دھرنے کی شکل اختیار کرگیا ہے کیونکہ 8 روز سے شرکا وہاں موجود ہیں اور آئندہ کتنے دن وہاں موجود رہتے ہیں اس بارے میں ابھی کچھ علم نہیں۔

8 روز سے جاری اس آزادی مارچ میں اب تک کوئی ایسی اطلاعات سامنے نہیں آئیں کہ مارچ کے شرکا نے کسی املاک کو نقصان پہنچایا۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں، نئے انتخابات کروائے جائیں اور اس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔ تاہم وزیراعظم کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کے استعفیٰ کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کیا جاچکا ہے جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ آزادی مارچ کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔ اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی اس کمیٹی کی متحد اپوزیشن کی بنائی گئی رہبر کمیٹی سے متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود دونوں فریقین میں استعفیٰ کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22420
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پولیس نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پی آئی سی) پر حملے میں ملوث وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپا مارا۔ دو روز قبل لاہور میں دل کے اسپتال پر ہونے والے وکلاء کے حملے میں
معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ دل کے اسپتال پر حملہ کرنے والے وکلا میں وزیراعظم کا بھانجا بھی شامل ہے اور وزیراعظم نے اس حوالے سے مذمت کی ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے طُلبہ یونین بحالی کا بل منظور کرلیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کے بحال کردہ طلبہ یونین بل 2019ء کے مطابق اسٹوڈنٹ یونین کسی بھی تعلیمی ادارے
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نالائق، نااہل اور سلیکٹڈ وزیر اعظم نے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ کراچی میں تقریب سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نالائق، نااہل اور سلیکٹڈ وزیراعظم نے ہماری

مقبول ترین
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی وزارت خارجہ کا تبصرہ مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مودی کو ہمسایہ ممالک کو اقلیتوں کے حقوق پر لیکچر دینا زیب نہیں دیتا۔ بھارت آج اقلیتوں کے قتل کی علامت بن چکا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملے کے الزام میں گرفتار وکلاء کی رہائی سے متعلق درخواست کی سماعت پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اسپتال پر حملہ جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔
پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ صرف عوام ہیں۔ بنیادی حقوق اور جمہوریت پر حملے ناقابل برداشت ہیں۔ ہم آخری دم تک لڑیں گے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔ اسپیکرسندھ اسمبلی آغا سراج درانی عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں، عدالت نے درخواستوں پر 25 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں