Monday, 09 December, 2019
جسٹس قاضی فائز کو حکومت نہیں ہٹاسکتی، چیف جسٹس

جسٹس قاضی فائز کو حکومت نہیں ہٹاسکتی، چیف جسٹس

لندن ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حکومت نہیں ہٹا سکتی، یہ سپریم جوڈیشل کونسل کا معاملہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کیمبرج یونیورسٹی میں کیمبرج یونین کے پروگرام میں شرکت کی۔ 

تقریب کے دوران چیف جسٹس پاکستان سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لندن میں پراپرٹیز کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا آپ جسٹس فائز سے منی ٹریل مانگیں گے؟ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پاکستانی عدالتوں کا مسئلہ ہے وہ اس پر یہاں کچھ نہیں کہہ سکتے، اپنےججز پر اعتماد کریں، وہ انصاف کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہیں ہٹا سکتی، یہ جوڈیشل کونسل کا معاملہ ہے۔

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائیکورٹ جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس دائر کیا  گیا جس کی سماعت سپریم جوڈیشل کونسل میں 14 جون کو ہوگی۔ 

ججز کے خلاف ریفرنس کا پس منظر
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ان ججز میں لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے ایک، ایک جج بھی شامل تھے۔ لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج فرخ عرفان چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کے دوران استعفیٰ دے چکے ہیں اس لیے ان کا نام ریفرنس سے نکال دیا گیا ہے۔

صدارتی ریفرنسز پر سماعت کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 جون کو طلب کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم احتجاجاً مستعفی ہو چکے ہیں۔

اس معاملے پر سینیٹ میں ججز کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس بھیجنے پر ججز کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کی جا چکی ہے۔

دوسری جانب ملک بھر کی بار ایسوسی ایشن میں صدارتی ریفرنس کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ارکان پارلیمنٹ سے ججز کے خلاف ریفرنس بھیجنے پر صدر مملکت عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اس ضمن میں صدر مملکت کو دو خط لکھ چکے ہیں جس میں انھوں نے ریفرنس کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79960
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
رکن پنجاب الیکشن کمیشن جسٹس ریٹائرڈ الطاف ابراہیم قریشی نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے، ممبر کے پی کے جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے الطاف ابراہیم قریشی سے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کاحلف لیا، 2 رکنی الیکشن
جسٹس گلزار احمد کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت قانون کی جانب سے جسٹس گلزار احمد کی بطور چیف جسٹس تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس گلزار احمد
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔ عدالت نے کہا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق حکومت کا سارا کیس آرٹیکل 255 کے گرد گھوم رہا ہے
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خود کسی کو باہر جانے کی اجازت دی تھی، ہائی کورٹ نے صرف جزئیات طے کیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کا عدلیہ سے متعلق بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا

مقبول ترین
نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کوشش ہو گی کہ حکومت سے پُر خلوص بات چیت کی جائے۔ اِس وقت شہباز شریف اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ لاہور پہنچے ہیں۔ انہوں نے داتا دربارؒ پر حاضری دی، مزار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر ملکی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں۔
لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ریویو میں جانا ہے یا قانون بنانا ہے؟
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کی حکمرانی کے لیے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے اور حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں