Friday, 18 October, 2019
اختلافی آواز کو دبانا جمہوری نظام کیلیے خطرہ ہے، چیف جسٹس

اختلافی آواز کو دبانا جمہوری نظام کیلیے خطرہ ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد ۔ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا تب عدالت ازخود نوٹس لے گی۔

اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون سازعدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں لیکن حکومت اور پارلیمنٹ نے عدالتی نظام کی تنظیم نو کی میری تجویز پر غور نہیں کیا، سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹوازم کی بجائے عملی فعل جوڈیشل ازم کو فروغ دے رہی ہے، لیکن سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹوازم میں عدم دلچسپی پرناخوش ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا یہ عدالت سوموٹو نوٹس لے گی، آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق مسودہ تیار کر لیا جائے گا، ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردارادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ سوموٹوسےعدالتی گریززیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اختلاف کو برداشت نہ کرنے سے اختیاری نظام جنم لیتا ہے، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں کہا کہ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے اور کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی، سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین اپنے حلف پرقائم ہیں، کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین عمل قراردیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 9 شکایات زیرالتواء ہیں، صدر مملکت کی جانب سے دائر دوریفرنس شامل ہیں، صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل کارروائی کررہی ہے، صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پراثر اندازنہیں ہوتی، سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی، آئین صدرمملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دنیا بھر میں پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا، لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہوکر 1.78 ملین ہوگئی ہے، گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پرعدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد 1.81 ملین تھی۔

واضح رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کیخلاف حلف کی خلاف ورزی اور مس کنڈکٹ کی شکایات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28937
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک کے وڈیو اسکینڈل پر دائر درخواستوں کی سماعت کے ریمارکس دیئے ہیں کہ آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں اور کمیشن بن بھی گیا تو اس کی رائے
چیف جسٹس نے شہری اشتیاق مرزا کی درخواست پر کیس سماعت کے لیے مقرر کیا، درخواست گزار نے ویڈیو لیک معاملے کی مکمل تحقیقات کی استدعا کی تھی۔ درخواست گزار نے کہا کہ جج ارشد ملک نے جو رشوت کی آفر کا الزام لگایا ہے وہ سنجیدہ
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ٹی وی پر پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھ کر ڈپریشن ہوتا ہے اور معیشت کی خبریں سن کر مایوسی ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں ماڈل کورٹس کے ججز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان آصف
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حکومت نہیں ہٹا سکتی، یہ سپریم جوڈیشل کونسل کا معاملہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کیمبرج یونیورسٹی میں کیمبرج یونین کے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں