Saturday, 14 December, 2019
اختلافی آواز کو دبانا جمہوری نظام کیلیے خطرہ ہے، چیف جسٹس

اختلافی آواز کو دبانا جمہوری نظام کیلیے خطرہ ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد ۔ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا تب عدالت ازخود نوٹس لے گی۔

اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون سازعدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں لیکن حکومت اور پارلیمنٹ نے عدالتی نظام کی تنظیم نو کی میری تجویز پر غور نہیں کیا، سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹوازم کی بجائے عملی فعل جوڈیشل ازم کو فروغ دے رہی ہے، لیکن سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹوازم میں عدم دلچسپی پرناخوش ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا یہ عدالت سوموٹو نوٹس لے گی، آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق مسودہ تیار کر لیا جائے گا، ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردارادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ سوموٹوسےعدالتی گریززیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اختلاف کو برداشت نہ کرنے سے اختیاری نظام جنم لیتا ہے، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں کہا کہ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے اور کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی، سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین اپنے حلف پرقائم ہیں، کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین عمل قراردیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 9 شکایات زیرالتواء ہیں، صدر مملکت کی جانب سے دائر دوریفرنس شامل ہیں، صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل کارروائی کررہی ہے، صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پراثر اندازنہیں ہوتی، سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی، آئین صدرمملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دنیا بھر میں پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا، لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہوکر 1.78 ملین ہوگئی ہے، گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پرعدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد 1.81 ملین تھی۔

واضح رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کیخلاف حلف کی خلاف ورزی اور مس کنڈکٹ کی شکایات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  99144
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملے کے الزام میں گرفتار وکلاء کی رہائی سے متعلق درخواست کی سماعت پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اسپتال پر حملہ جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔
رکن پنجاب الیکشن کمیشن جسٹس ریٹائرڈ الطاف ابراہیم قریشی نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے، ممبر کے پی کے جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے الطاف ابراہیم قریشی سے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کاحلف لیا، 2 رکنی الیکشن
جسٹس گلزار احمد کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت قانون کی جانب سے جسٹس گلزار احمد کی بطور چیف جسٹس تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس گلزار احمد
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔ عدالت نے کہا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق حکومت کا سارا کیس آرٹیکل 255 کے گرد گھوم رہا ہے

مقبول ترین
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی وزارت خارجہ کا تبصرہ مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مودی کو ہمسایہ ممالک کو اقلیتوں کے حقوق پر لیکچر دینا زیب نہیں دیتا۔ بھارت آج اقلیتوں کے قتل کی علامت بن چکا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملے کے الزام میں گرفتار وکلاء کی رہائی سے متعلق درخواست کی سماعت پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اسپتال پر حملہ جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔
پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ صرف عوام ہیں۔ بنیادی حقوق اور جمہوریت پر حملے ناقابل برداشت ہیں۔ ہم آخری دم تک لڑیں گے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔ اسپیکرسندھ اسمبلی آغا سراج درانی عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں، عدالت نے درخواستوں پر 25 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں