Monday, 18 November, 2019
حدیبیہ پیپرز کیس سے متعلق لائیو ٹی وی شوز پر پابند​ی عائد

حدیبیہ پیپرز کیس سے متعلق لائیو ٹی وی شوز پر پابند​ی عائد

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کی نیب کی درخواست کی سماعت کے دوران حدیبیہ پیپر کیس کے حقائق سے متعلق لائیو ٹی وی شوز پر پابند​ی عائد کردی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کی نیب کی درخواست پر سماعت کی۔

طویل سماعت کے دوران عدالت نے نیب کی جانب سے سماعت کے التوا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سے کئی سوالات بھی کیے۔

نیب کے وکیل عمران الحق نے عدالت کو بتایا کہ نیب پراسیکیوٹر کا عہدہ خالی ہے اس لئے مناسب ہوگا کہ اس اہم مقدمے میں پراسیکیوٹر خود پیش ہوں۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوٹر نیب کا عہدہ خالی ہونا کیس کے التوا کی کوئی بنیاد نہیں اور پراسیکیوٹر کی تقرری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، کیس ملتوی نہیں ہوگا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کا مذاق نہ اُڑائیں، ہمارے لیے ہر کیس ہائی پروفائل ہے،کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔

جسٹس قاضی فائز نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ التوا کی درخواست کی ہدایت کس نے دی جس پر وکیل نے بتایا کہ التوا کی درخواست کا فیصلہ چیرمین نیب کی سربراہی میں اجلاس میں ہوا۔

جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر کیوں نہ ہم چیرمین نیب کو بلا لیں جس پر وکیل نے کہا کہ پراسیکیوٹر نیب کی سمری بھیجی جا چکی ہے جو جلد منظور ہوجائے گی جب کہ عدالت نے نیب کے وکیل کے دلائل کے بعد کیس ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

کیس التوا میں ڈالنے کی نیب کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ 10 دسمبر 2000 کو نواز شریف جلاوطن ہوئے تھے جس پر جسٹس فائز عیسی نے استفسار کیا اس وقت پاکستان کو کون سی حکومت چلا رہی تھی جس پر وکیل نے کہا کہ اس وقت چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف تھے۔

جسٹس مشیر عالم نے سوال کیا کہ ملزم اٹک میں تھا تو طیارہ ہائی جیکنگ کیس کراچی میں کیسے چلا جب کہ جسٹس قاضی فائز عیسی سوال کیا کہ مفرور کا تو سنا تھا جلا وطنی کا حکم کیسا ہے۔

وکیل نیب نے بتایا کہ معاہدے کے تحت نواز شریف کو باہر بھیجا گیا اور وہ خود ملک سے باہر گئے تھے جس پر جسٹس قاضی عیسیٰ نے کہا کہ خود باہر گئے تھے تو مفرور قرار دینے کی کارروائی ہونی چاہیے تھی، کیا جلاوطن کی کوئی قانونی حیثیت ہے۔

جسٹس مشیر عالم نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ معاملہ سرد خانے میں کیوں رکھا گیا، کیا نیب نے جلاوطنی کے لئے سہولت کاری پر کسی کے خلاف کارروائی کی، نہیں جاننا چاہتے کہ صدر کون تھا یا چیئرمین کون تھا، دیکھنا ہے ریفرنس میں مجرمانہ عمل کیا ہے، غیر قانونی عمل بتائیں یا کرپشن بتائیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے کہا تھا حدیبیہ کا تعلق پاناما سے ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے ادارے پر خود حملہ آور ہو رہے ہیں، آپ جو مثال قائم کر رہے ہیں وہ خطرناک ہے، پاناما میں آبزرویشن نہ آتی تو آپ اپیل دائر نہ کرتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب کو کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں وہ ایک اقلیتی نکتہ نظر ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے جب معاملہ آئے گا تو پھر دیکھیں گے۔

عدالت نے حدیبیہ پیپر کے حقائق سے متعلق لائیو شوز پر پابند​ی عائد کرتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کیس کی صرف رپورٹنگ کی اجازت ہوگی تبصروں کی نہیں۔

جس کے بعد عدالت نے ریفرنس کی مزید سماعت کل تک کے لئے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  97033
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کے غریب عوام کیساتھ کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی، بہت مہلت دیدی، اب انھیں جانا ہوگا۔
کراچی سے لاہور اور راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سے 73 افراد جاں بحق جب کہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ میڈیا کے مطابق کراچی سے لاہور اور راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آگ بھڑک اٹھی۔
برطانوی عدالت نے نظام آف حیدرآباد فنڈ کیس میں 2 مرکزی فریقین کے درمیان فیصلہ نظام آف حیدرآباد کے ورثاء کے حق میں سنا دیا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق برطانوی عدالت میں نظام آف حیدرآباد فنڈ کیس سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں