Friday, 16 November, 2018
عمران خان عدالت میں پیش، چاروں مقدمات میں ضمانت منظور

عمران خان عدالت میں پیش، چاروں مقدمات میں ضمانت منظور

 اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دھرنے کے دوران ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد،  پی ٹی وی اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملوں سمیت چار مقدمات میں درخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔ 

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں 2014 دھرنے سے متعلق دائر ہونے والے 4 مقدمات کی سماعت ہوئی جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت سے چاروں مقدمات میں عمران خان کو ضمانت دینے کی درخواست کی۔ جس پر عدالت نے عمران خان کو چاروں مقدمات میں ضمانت دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ آج سے ہی تمام مقدمات کی تفتیش میں پیش ہوجائیں اور پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔

 عدالت نے چاروں مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت کرتے ہوئے 2،2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کرادی ہے۔

پیشی سے قبل صحافیوں کی جانب سے تحریک انصاف کے سربراہ سے سوال کیا گیا کہ وہ شریف خاندان کی دیکھا دیکھی عدالت میں پیش ہورہے ہیں؟ جس پر عمران خان نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’گرکس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور ‘ مجھے اُن سے مشابہت نہ دیں۔

ضمانت حاصل کرنے کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عدالت سے اپنی رہائش گاہ کے لیے روانہ ہوگئے۔

بعدازاں عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جھوٹے مقدمات قیادت کو دہشت گردی میں ملوث کرنے اورعوام آواز کو دبانے کے لیے قائم کیے گئے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے سماعت کے دوران فاضل جج کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان حکومتی اسٹیٹس کو کے سب سے بڑے مخالف ہیں اس لیے اُن کے اور کارکنان کے خلاف یہ مقدمات درج کیے گئے تھے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہم نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کیا تھا کہ دھرنے کے دوران جو لوگ مارے گئے اُن کے حوالے سے مقدمات درج نہیں کیے گئے بالکل اُسی طرح جیسے ماڈل ٹاؤن کا کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ یہ ایک جمہوری احتجاج تھا جس کی قیادت عمران خان نے کی، اس طرح کے مظاہرے کسی قانون کے تحت درج نہیں کیے جاسکتے۔ پولیس کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ آئی جی اسلام آباد نے خود حکومتی احکامات کو مسترد کرتے ہوئے عوام پر ظلم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی نہیں چاہتے، اسی بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے چیئرمین تحریک انصاف آج عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے خلاف تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے ڈی چوک پر 104 روز تک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

احتجاجی مظاہرین کی جانب سے پی ٹی وی کے مرکزی دفتر پر حملہ، ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کو تشدد پر تشدد ، پارلمنٹ اور پی ٹی وی پر حملوں سمیت 4  مقدمات تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمات درج ہیں۔ اور عدالت کی جانب سے ان مقدمات میں عمران خان اور طاہرالقادری کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

مذکورہ مقدمات کے حوالے سے اس سے قبل ہونے والی سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث عدالت نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ورانٹ گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28433
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ملک بھر میں آج مفکر پاکستان اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کا 141واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔ ہر سال 9 نومبر کو پورے پاکستان میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش کو یوم اقبال کے طور پر منایا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے خون خرابے سے بچنے کے لیے مطمئن کرنے کی پالیسی کو غیر ریاستی عناصر کے لیے خطرناک پیغام قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف مذہبی تنظیموں کی جانب سے
پولیس نے سڑکیں بلاک کرنے اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں تحریک لبیک کے خادم رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ گزشتہ دنوں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی نے
پاک فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر تقرریاں اور تعینایاں عمل میں لائی گئی ہیں جب کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعینات کردیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر ڈی جی

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورے عزم سے لڑ رہے ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے پشاور میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اور ارکان قومی

مقبول ترین
لاپتہ ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان خان پورڈیم پر تعینات تھے، سی ڈی اے کے افسر ایازخان کی بیٹی کی کل شادی ہے۔ اہلیہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا جمعرات کی شام ساڑھے 4 بجے میرے خاوند دفتر سے نکلے، خاوند نے جی 13 میں واقع اپنے گھر آنا تھا
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن
سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے ردِ عمل میں پہلی مرتبہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے ان 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو صحافی کے قتل کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں