Sunday, 18 February, 2018
عمران خان عدالت میں پیش، چاروں مقدمات میں ضمانت منظور

عمران خان عدالت میں پیش، چاروں مقدمات میں ضمانت منظور

 اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دھرنے کے دوران ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد،  پی ٹی وی اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملوں سمیت چار مقدمات میں درخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔ 

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں 2014 دھرنے سے متعلق دائر ہونے والے 4 مقدمات کی سماعت ہوئی جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت سے چاروں مقدمات میں عمران خان کو ضمانت دینے کی درخواست کی۔ جس پر عدالت نے عمران خان کو چاروں مقدمات میں ضمانت دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ آج سے ہی تمام مقدمات کی تفتیش میں پیش ہوجائیں اور پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔

 عدالت نے چاروں مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت کرتے ہوئے 2،2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کرادی ہے۔

پیشی سے قبل صحافیوں کی جانب سے تحریک انصاف کے سربراہ سے سوال کیا گیا کہ وہ شریف خاندان کی دیکھا دیکھی عدالت میں پیش ہورہے ہیں؟ جس پر عمران خان نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’گرکس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور ‘ مجھے اُن سے مشابہت نہ دیں۔

ضمانت حاصل کرنے کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عدالت سے اپنی رہائش گاہ کے لیے روانہ ہوگئے۔

بعدازاں عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جھوٹے مقدمات قیادت کو دہشت گردی میں ملوث کرنے اورعوام آواز کو دبانے کے لیے قائم کیے گئے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے سماعت کے دوران فاضل جج کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان حکومتی اسٹیٹس کو کے سب سے بڑے مخالف ہیں اس لیے اُن کے اور کارکنان کے خلاف یہ مقدمات درج کیے گئے تھے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہم نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کیا تھا کہ دھرنے کے دوران جو لوگ مارے گئے اُن کے حوالے سے مقدمات درج نہیں کیے گئے بالکل اُسی طرح جیسے ماڈل ٹاؤن کا کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ یہ ایک جمہوری احتجاج تھا جس کی قیادت عمران خان نے کی، اس طرح کے مظاہرے کسی قانون کے تحت درج نہیں کیے جاسکتے۔ پولیس کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ آئی جی اسلام آباد نے خود حکومتی احکامات کو مسترد کرتے ہوئے عوام پر ظلم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی نہیں چاہتے، اسی بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے چیئرمین تحریک انصاف آج عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے خلاف تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے ڈی چوک پر 104 روز تک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

احتجاجی مظاہرین کی جانب سے پی ٹی وی کے مرکزی دفتر پر حملہ، ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کو تشدد پر تشدد ، پارلمنٹ اور پی ٹی وی پر حملوں سمیت 4  مقدمات تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمات درج ہیں۔ اور عدالت کی جانب سے ان مقدمات میں عمران خان اور طاہرالقادری کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

مذکورہ مقدمات کے حوالے سے اس سے قبل ہونے والی سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث عدالت نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ورانٹ گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  34606
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف ظاہر کردہ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام کی تحقیقات کرنے کا اختیار ہے۔ پرویز مشرف کو استثنیٰ حاصل نہیں، انہیں نیب آرڈیننس کے تحت تحقیقات کے بعد ٹرائل چلا کر سزا دی جا سکتی ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 2014 کے دھرنے کے دوران قائم 4 مقدمات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ضمانت کی توثیق کردی ہے جبکہ شیریں مزاری کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔
شمالی وزیرستان میں راکٹ حملے میں 2 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔ میڈیا کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے حدی اور نورک میں راکٹ حملے میں 2 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔ پولیٹکل ذرائع کے مطابق راکٹ حملے میں شہید ہونے والوں
فترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات کومستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورے عزم سے لڑ رہے ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے پشاور میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اور ارکان قومی
سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورنے تحریک انصاف میں باضابطہ طور پر شامل ہونےکی تصدیق کردی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جمہوریت پسند جماعت ہے اس لئے اس میں شامل ہونے کا

مقبول ترین
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے منظم کیمپ پاکستان میں نہیں،افغانستان میں ان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ نجرمنی کے شہر میونخ میں میں عالمی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان فخر
سابق صدر اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سابق ایس ایس پی راؤ انوار سے متعلق ریمارکس گفتگو کی روانی کے دوران ان کی زبان سے سہواً ادا ہوئے۔
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ لودھراں کے عوام نے ثابت کردیا کہ فیصلے امپائر کی انگلی نہیں عوام کے انگوٹھے کرتے ہیں۔ مخالفین نے جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی کے سواء کچھ نہیں کیا، الیکشن کے بعد آپ لوگوں کو کچھ بڑے فیصلے کرنے ہیں،
انسداد دہشتگردی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمران کوزینب کو اغوا کرنے، زیادتی کرنے اور قتل کرنے پر سزائے موت کا حکم سنا دیااور دفعہ 780 کے تحت بدفعلی پر سزائے موت اور 10 روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے،جبکہ لاش کو گندگی میں چھپانے پر 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزاسنا ئی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں