Monday, 16 December, 2019
بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوگئے، مشیر خزانہ

بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوگئے، مشیر خزانہ

اسلام آباد ۔ وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا اشارہ دے دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے پریس کانفرنس کی۔

 پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ  ہم نے ٹیکس ریونیو کیلئے 5 ہزار 500 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، پچھلے سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہت تباہ کن تھا لیکن کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لائی گئی، پچھلے سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی لائی گئی جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارےمیں 73 فیصد کمی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں دوست ملکوں نے بھر پور تعاون کیا، ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 6 لاکھ اضافہ ہوا، جب حکومت آئی تو 19 لاکھ ٹیکس فائلرز تھے جو اب 25 لاکھ ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ریفنڈ کا نیا نظام شروع ہوچکا، اب ریفنڈ فوری طور پر ہوں گے اور 100 فیصد ہوں گے، ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگیاں کردی گئیں اور اب کوئی واجب الادا نہیں۔

حفیظ شیخ کے مطابق معیشت بحران سے نکل کر استحکام پر پہنچ چکی ہے، روپے کی قدر اب مستحکم ہے اور اسٹاک مارکیٹ بھی اب بہتر ہے، ہم صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں تاہم ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر میں نہ چلنے والے ادارے پرائیوٹ سیکٹر کو دینے کا فیصلہ کیا، 10 نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہار دیے گئے ہیں، 20 اداروں کی تشکیل نو اور 10 اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ لائف کو بھی فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن کی جانب لانے کا سوچ سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ہر مہینے گردشی قرضے میں 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے، نان ٹیکس آمدنی کے تحت 2 سیلولر کمپنیوں سے 70 ارب روپے وصول ہوئے، ایک اور سیلولر کمپنی سے 70 ارب روپے اضافی ملنے کی امید ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87041
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جنوبی پنجاب بھی برابرکا ترقی یافتہ ہو، سی پیک سے لاہور میٹروٹرین چلائی گئی لیکن بلوچستان میں کیکڑا بس بھی نہیں دی گئی۔
جج ویڈیو سکینڈل میں سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست نمٹا دی، نظر ثانی درخواست نواز شریف نے دائر کی تھی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا نظرثانی میں جو باتیں کیں وہ عدالت
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی بارڈرز پر کہیں بھی کوئی مشترکہ پیٹرولنگ نہیں ہوتی۔
قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز

مقبول ترین
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے
بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں