Monday, 21 September, 2020
جسٹس فائز کیس، بدنیتی پر مبنی ریفرنس فارغ ہو سکتا ہے، سپریم کورٹ

جسٹس فائز کیس، بدنیتی پر مبنی ریفرنس فارغ ہو سکتا ہے، سپریم کورٹ
فائل فوٹو

 اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس میں بدنیتی ثابت ہوئی تو کیس خارج ہو سکتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار فائز عیسیٰ نے بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے شواہد اکٹھے کرنے کا الزام لگایا ہے، ریفرنس میں قانونی نقائص موجود ہیں، عمومی مقدمات میں ایسی غلطی پر کیس خارج ہو جاتا ہے، اگر ریفرنس میں بدنیتی ثابت ہوئی تو کیس خارج ہو سکتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم ججز کے احتساب سے متفق ہیں،درخواست گزار نے بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے شواہد اکٹھے کرنے کا الزام لگایاہے، ریفرنس میں قانونی نقائص موجود ہیں،عمومی مقدمات میں ایسی غلطی پر کیس خارج ہو جاتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ابھی تک ریفرنس میں کئی خامیاں موجود ہیں، لندن کی جائیدادوں کی ملکیت تسلیم شدہ ہے، مقدمے میں سوال جائیداد کی خریداری کا ہے، درخواست گزار فائز عیسیٰ نے جائیدادوں کے وسائل خریداری بتانے سے بھی انکار نہیں کیا، یہ ہوسکتا ہے پہلے ایف بی آر کو معاملے پر فیصلہ کرنے دیا جائے، وہاں پر فیصلہ اہلیہ کے خلاف آتا ہے تو پھر جوڈیشل کونسل میں چلا جائے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ اپنے نکات پر دلائل دیں، ہم ججز کے احتساب سے متفق ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایف بی آر نے 116 اور 114 کے تحت نوٹس جاری کئے، معاملہ جوڈیشل کونسل کے پاس بھی چلا جائے، اگر بدنیتی نہیں ہے تو کونسل کارروائی کر سکتی ہے، آج بدنیتی اور شواہد اکٹھے کرنے پر دلائل دیں، یہ ہوسکتا ہے پہلے ایف بی آر کو معاملے پر فیصلہ کرنے دیا جائے،وہاں پر فیصلہ اہلیہ کے خلاف آتا ہے تو پھر جوڈیشل کونسل میں چلا جائے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے تو ٹائم فریم کیا ہوگا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ انکم ٹیکس کہہ دے کہ ذرائع درست ہیں، ہو سکتا ہے ٹیکس اتھارٹی کے فیصلے سے جوڈیشل کونسل اتفاق کرے نہ کرے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ کسی جج کے خلاف کونسل کے سوا کوئی ایکشن نہیں لے سکتا، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ ایف بی آر میں جائیدادوں کی خریداری کے ذرائع بتائے جائیں تو کونسل میں دوبارہ واپس آجائیں، قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیں۔

فروغ نسیم نے جواب دیا کہ عدالت کی نظر میں یہ ایک بہتر راستہ ہوسکتا ہے مگر جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف ضابطے کی کارروائی ہوتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ضابطے کی کارروائی کا انحصار کسی دوسری کاروائی پر ہوگا، جب ضابطے کی کارروائی کسی دوسری کاروائی پر انحصار کرے گی تو آزادانہ کاروائی کیسے ہوگی، اس صورتحال میں ضابطے کی کارروائی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کی کاروائی کا انحصار کسی فورم کی کاروائی پر نہیں ہے، ضابطے کی کارروائی میں نہیں کہہ سکتے کہ میری اہلیہ خودکفیل ہے۔

بینچ کے سربراہ نے سرکاری وکیل کی دلیل پر کہا کہ ’آپ کے مطابق قانون کی سہولت عام شہری کو دسیتاب ہے، ججز کو قانون کے مطابق یہ سولہت میسر نہیں ہے، آپ کا یہ اچھا نکتہ ہے۔‘

وکیل نے کہا کہ سروس آف پاکستان کے تحت اہلیہ خاوند سے الگ نہیں ہے، ایف بی آر کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے تو ٹائم فریم کیا ہوگا۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ انکم ٹیکس کہہ دے کہ ذرائع درست ہیں، ہو سکتا ہے ٹیکس اتھارٹی کے فیصلے سے جوڈیشل کونسل اتفاق کرے نہ کرے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ دیکھنا تو یہ ہے جائیداد کی خریداری حلال ہے یا دوسرے طریقے سے، ہمیں جوڈیشل کونسل پر مکمل اعتماد ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ان کو وزیراعظم اور صدر مملکت سے مشاورت کے لئے وقت دیا جائے۔

بینچ کے سربراہ نے وکیل سے کہا کہ ’چلیں ابھی آپ اپنے دلائل دیں۔‘ وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سروس آف پاکستان کے تحت کوئی اہلیہ کی پراپرٹیز کا جواب دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سرکاری ملازم اپنی اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصر ہو تو پھر ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ وکیل کا جواب تھا کہ سرکاری ملازم اگر اہلیہ کا بہانہ بنائے تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا، جج نے نہیں کہا میری اہلیہ مجھے معلومات فراہم نہیں کر رہی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ خاوند اگر ایف بی آر سے ریکارڈ نہیں لے سکتا تو پھر تو اس کے ہاتھ باندھ دیئے گئے، جسٹس مقبول باقر نے اس موقع پر کہا کہ انکم ٹیکس کی مشینری کا استعمال کیا گیا، جو قانونی طریقہ کار ہے اس کو چلنے دیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پبلک سرونٹ سے اثاثوں کی تفصیل مانگی جائے تو وہ انکم ٹیکس کا عذر پیش نہیں کر سکتا، پبلک سرونٹ کو پوچھے جانے پر اپنی اہلیہ سے پوچھ کر انضباطی کارروائی کا جواب دینا ہوگا، اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ حکومت نے نہیں مانگا، ایف بی آر سے ٹیکس کا ریکارڈ جوڈیشل کونسل نے منگوایا۔

جسٹس آفریدی نے کہا کہ فاضل وکیل صاحب ایسا نہ کریں، ایف بی آر کو پہلے خط حکومت کی جانب سے لکھا گیا۔ وکیل نے کہا کہ میں اگر بطور رکن پارلیمنٹ اہلیہ کے کے اثاثوں کی تفصیل نہ بتاوں تو نااہل ہو جاؤں گا۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ لمبی بات نہ کریں وقت تھوڑا ہے، آپ انکم ٹیکس قانون کا سیکشن 216 پڑھیں، جسٹس منصور شاہ نے پوچھا کہ کیا خاوند ایف بی آر سے براہ راست اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ مانگ سکتا ہے؟

وکیل نے کہا کہ ان کے خیال سے خاوند ریکارڈ مانگ سکتا ہے۔ جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ خیال نہیں ہے آپ قانون سے بتائیں، اہلیہ معلومات دینے سے انکار کرے تو ایسی صورت میں خاوند ٹیکس ریکارڈ کیسے حاصل کرے گا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ ریفرنس آنے سے قبل ایف بی آر اور اے آر یو نے کیسے معلومات حاصل کر لی، جسٹس مقبول باقر نے سوال کیا کہ اے آر یو یونٹ ٹیکس کا معاملہ ایف بی آر کو بجھوا سکتا ہے، جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ اے آر یو یونٹ کیسے بنایا گیا، وزیراعظم صرف وزارت بنا سکتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اے آر یو یونٹ کیا ہے معلومات کیسے حاصل کی گئی، آپ پہلے ایف بی آر کے معاملے پر ہدایات وزیراعظم یا صدر سے لے لیں۔ وکیل نے کہا کہ ایف بی آر پر معاملہ چھوڑ دیا جائے تو ٹیکس اتھارٹی کو کتنا وقت دیا جائے گا۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ چھٹیاں شروع ہو چکی ہیں، ایف بی آر کو کہہ دیں گے کہ چھٹیوں میں معاملے پر فیصلہ کردیں۔

وکیل نے کہا کہ ہمارے ریفرنس میں خامیاں نہیں ہیں۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ ہدایات لے لیں اگر ہدایات منفی میں آتی ہیں تو دلائل دیں، جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا جج اہلیہ کی جائیدادوں پر جواب دہ ہیں؟

وکیل نے کہا کہ یہ سوال نہیں آرٹیکل 209 بڑی سنجیدہ کارروائی ہے، وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے، میں انتہائی احترام سے کہتا ہوں آپ کے سوال سے متفق نہیں، اس سوال پر مجھے بھی سن لیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کو سن رہا ہوں میں نہیں چاہتا آپ کے دل میں میرے لیے کچھ ہو۔ وکیل نے کہا کہ اگر آپ کے سوال کو درست مان لیں تو آرٹیکل 48 کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، فروغ نسیم

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ آرٹیکل 48 ون کے تحت صدر مملکت کو ربڑسٹمپ نہیں بنایا، صدر مملکت اپنا زہین اپلائی کر سکتے ہیں، فیصلے میں یہ بات لکھیں گے، ہمارے پاس وقت کی قلت ہے، جمعرات تک آپ دلائل دیں۔

فروغ نسیم نے ریفرنس کے معاملے پر مشاورت کے لئے کل تک کا وقت مانگ لیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ ’مجھے آج آپ دلائل دینے دیں، جو عدالت نے آپشن دیا اس پر کل جواب دوں گا۔‘

واضح رہے کہ لارجر بینچ میں وکیل فروغ نسیم کے دلائل گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہیں اور بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے گزشتہ روز ان سے کہا تھا کہ وہ اپنی معروضات جلدی سمیٹیں کیونکہ ان میں کوئی نیا قانونی نکتہ پیش نہیں کیا جا رہا ہے اور عدالتی سوالات کے جواب دیں۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے کہا ہے کہ یہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ان کے فیض آباد دھرنا کیس میں دیے گئے فیصلے کے بعد مقتدر حلقے ناخوش ہیں اور ان کے خاندانی کی خفیہ اداروں نے جاسوسی کی۔

فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہونے پر جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک جوابی دلائل دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41301
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی
چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیوں کے معاملہ کا از خود نوٹس لے لیا ہے، جمعے کو کیس کی سماعت ہوگی۔ میڈیا کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دی گئی دھمکیوں کے معاملے پر ازخود نوٹس
سپریم کورٹ نے فریقین کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس عمرعطاء بندیال کا کہنا تھا کہ کسی ایک نقطے پر ججز کا اتفاق ہو گیا تو فیصلہ آج سنا دیں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ میں کسی قسم کی رعایت کی طلب گار نہیں، عام شہری جیسا سلوک کیا جائے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ خریداری کے ذرائع سے مطمئن ہیں، آپ کے پاس ریکارڈ موجود ہے۔

مزید خبریں
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

مقبول ترین
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس نے امریکی اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں شکست کھانے کے بعد امریکا نے ایران پر یکطرفہ طور پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میڈیا کے مطابق سلامتی کونسل میں شکست کے بعد امریکا کی
آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے حکومت مخالف نیا اتحاد بنا لیا. جنوری 2021ء میں حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت مخالف الائنس کے نام پر مشاورت کے بعد اسے
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو متنازع بنایا گیا ہے۔ القاعدہ کی خطے میں ناکامی کو تو تسلیم کیا گیا لیکن اس کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں
رینٹل پاور کیس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 10 ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ جس پر احتساب عدالت اسلام آباد نےفیصلہ محفوظ کر رکھا تھا تاہم آج احتساب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں