Wednesday, 21 August, 2019
سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد: احکامات پر فوری عملدرآمد کیا جائے، عدالت

سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد: احکامات پر فوری عملدرآمد کیا جائے، عدالت

اسلام آباد ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیس میں وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایک ہفتے میں حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا تو آئندہ سماعت پر وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین کو عدالت میں طلب کرنے کے سمن جاری کردیئے جائیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز نے واضح کیا کہ ‘اگر اعلیٰ حکام کی جانب سے ایسا ہی رویہ برتا گیا تو وزیراعظم، وزیر مذہبی امور، وزیر داخلہ، وزیر قانون اور وزیر اطلاعات توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے’۔

فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ‘ذمہ داران کو اس کا احساس ہونا چاہیے کہ آئین کے آرٹیکل 248 میں توہین عدالت کے مرتکب مجرم کے لیے کوئی گنجائش (تحفظ) نہیں ہے’۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘توہین عدالت کے جرم میں سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی پاکستان (پی پی پی) کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو واپس گھر جانا پڑا تھا (وزارتِ عظمٰی کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا)’۔

واضح رہے کہ فاضل عدالت نے حکومت کو 31 مارچ 2017 کو سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف قانون سازی سے متعلق اقدامات اٹھانے اور اس ضمن میں حکومت کو مفضل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اسپیشل سیکریٹری داخلہ فرقان بہادر نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر وزارتِ مذہبی امور ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور وزارتِ اطلاعات کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

جسٹس شوکت عزیز نے اسپیشل سیکریٹری کے بیان پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‘آٹھ ہفتوں سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن اس ضمن میں کوئی مؤثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ‘میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ گستاخانہ مواد سے متعلق مسئلے پر اداروں کے ایگزیکٹیوز سیاسی رویہ کیوں اختیار کر رہے ہیں، جبکہ اس معاملے کا براہِ راست تعلق ملک میں امن و امان سے ہے۔‘

فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت ایک نااہل شخص کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی ایک دن میں ہوجاتی ہے لیکن توہین آمیز مواد کی سوشل میڈیا پر تشہیر پر حکومت کیوں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔

فاضل عدالت نے اسپیشل سیکریٹری داخلہ کو 22 دسمبر 2017 کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ‘سیکریٹری داخلہ، گستاخانہ مواد اور غیر اخلاقی مواد کی تشہیر میں مصروف این جی اوز کی نشاندہی کریں جنہیں پاکستان کے اندر اور باہر سے فنڈنگ حاصل ہو رہی ہے۔

عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو حکم دیا کہ ‘انٹرنیٹ پر موجود ان ویب سائٹ کی مکمل فہرست تیار کی جائے جس میں گستاخانہ مواد موجود ہے تاکہ ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں جائیں’۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81806
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری
وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف جارحیت کرسکتا ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی قوم بھارتی جارحیت سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان نے بھارتی

مقبول ترین
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری
وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور وہ کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں