Wednesday, 03 June, 2020
اخبارات کو آج سے ہی ادائیگیاں شروع کر رہے ہیں، شبلی فراز

اخبارات کو آج سے ہی ادائیگیاں شروع کر رہے ہیں، شبلی فراز

اسلام آباد ۔ اخبارات کو آج سے ہی ادائیگیاں شروع کر رہے ہیں جس سے میڈیا صنعت اور اس سے وابستہ افراد کو ریلیف ملے گا ، پالیسی کے تحت ریجنل کوٹہ پر عمل کریں گے۔ یہ اعلان وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)کے عہدیداروں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات میں کیا۔ 

سی پی این ای کے وفد کی قیادت سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے کی جبکہ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر شاہیرہ شاہد نے بھی خصوصی شرکت کی۔ 

وفاقی وزیر اطلاعات نے سی پی این ای کو بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق پر کامل یقین رکھتی ہے۔ حکومت صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے مسائل کا حل بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اخبارات و جرائد کے تمام مسائل سی پی این ای سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کے ساتھ حل کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی)کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور اے بی سی کے سلسلے میں جاری شدہ حالیہ سرکلر صرف ریجنل نہیں بلکہ تمام اخبارات کے لئے ہے، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے ذریعے جاری شدہ اشتہارات کی ادائیگیوں کے ضمن میں 85فیصد براہ راست اخبارات کو جبکہ 15 فیصد ایجنسی کو ملنے چاہئیں، ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جناب شبلی فراز نے کہا کہ ہم ایسا نظام وضع کرنا چاہتے ہیں جس سے آئندہ عدم ادائیگیوں کے مسائل پیدا نہ ہوں اور واجبات بھی اشتہارات کے اجرا کے ساتھ ساتھ ادا ہوتے جائیں مزید برآں واجبات کی ادائیگی کو صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کی تنخواہوں سے بھی منسلک کیا جائے۔ 

وفاقی وزیر نے خبر رساں ایجنسیوں کے لئے پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ کو بھی جلد جاری کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ قبل ازیںسی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے وفاقی وزیر کو میڈیا سے متعلق مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو آزادہ صحافت سے متعلق شدید خطرات کا سامنا ہے۔ شدید مالی بحران نے ان خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ سرکاری اشتہارات کا کوانٹم بھی انتہائی کم ہو گیا ہے ۔ 

وفاقی وزیر شفقت محمود سے گزشتہ میٹنگ میں میڈیا کو فوری طور پر واجبات کی ادائیگیوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن پرنٹ میڈیا کو تاحال ادائیگیاں نہیں ہوئیں، مزید برآں یہ بھی طے پایا تھا کہ اخبارات و جرائد کو ہر ماہ ایک ارب روپے کے اشتہارات دیئے جائیں گے لیکن اس کے برعکس درمیانے اور ریجنل اخبارات کا پہلے سے مختص اشتہاراتی کوٹہ ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ 

سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے اشتہارات کی تقسیم میں 25 فیصد کوٹہ کے خاتمے اور درمیانے، چھوٹے اور علاقائی اخبارات کے لئے اشتہارات کی بندش پر بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور ریجنل اخبارات میڈیا سے متعلق انسانی وسائل کی ترقی کے لئے نرسری کی حیثیت رکھتے ہیں جس طرح چھوٹے اداروں، سمال و میڈیم انٹرپرائزز کی صنعت میں اہمیت ہوتی ہے اسی طرح میڈیا کے شعبے میں بھی چھوٹے ، درمیانے، مقامی اور ریجنل اخبارات کی کلیدی اہمیت ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اشتہارات کی ہمہ گیر اور وسیع پیمانے پر تشہیر اور اشاعت سے عوام کے رائٹ ٹو انفارمیشن کے بنیادی حق کی نہ صرف تکمیل ہوتی ہے بلکہ ترقیاتی اور دیگر سرکاری منصوبوں کی افادیت سے عوام کو آگاہی بھی فراہم ہوتی ہے نیز شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی تقویت ملتی ہے، لہذا ریاست اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ علاقائی، مقامی، درمیانے اور چھوٹے اخبارات کی غیر معمولی حوصلہ افزائی کرے۔

نائب صدر سردار خان نیازی نے سرکاری اشتہارات کی منصفانہ اور عادلانہ تقسیم پر زور دیتے ہوئے اخبارات و جرائد کو براہ راست ادائیگیاں کرنے سے متعلق حکومتی نوٹی فکیشن پر من و عن عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر اکرام سہگل نے تجویز دی کہ وزیر اعظم کے احساس پروگرام میں کم تنخواہوں والے صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو بھی شامل کیا جائے۔

نائب صدر انور ساجدی نے کہا کہ بلوچستان کے اخبارات کو انتہائی نظرانداز کیا جا رہا ہے جبکہ  لاک ڈان کے سبب ٹرانسپورٹ کی بندش اور اخبارات کی ترسیل کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے اخباری صنعت جو پہلے سے شدید دبا میں تھی اب قریب المرگ ہو چلی ہے۔  سی پی این ای کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود نے جرائد و رسائل کے مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ جرائد و رسائل پرنٹ میڈیا کا وہ اہم جزو ہیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کی بقا، ادب اور میڈیا لٹریسی میں اضافہ کے لئے انتہائی اہم کردار ادا کئے ہیں، موجودہ حالات میں جرائد و رسائل گزشتہ دو ماہ سے عدم اشاعت کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں جبکہ حکومتی اشتہاراتی کوٹہ میں 5فیصد جرائد و رسائل کے لئے مختص ہے ۔ 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جرائد و رسائل کے لئے فوری طور پر اشتہارات جاری کرے اور خصوصی پیکیج کے ذریعے انہیں بندش سے بچایا جائے اور ملازمین کو بیروزگاری سے بچایا جا سکے۔ 

سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق نے حکومت کی جانب سے ریجنل اخبارات کی سرکولیشن کے ضمن میں جاری امتیازی کارروائی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تمام اخبارات کے لئے یکساں اصول وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

جوائنٹ سیکریٹری طاہر فاروق نے خیبرپختونخوا کے علاقائی اخبارات وجرائد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے سینکڑوں افراد وابستہ ہیں اگر سرکاری اشتہارات بند کئے گئے تو میڈیا ملازمین سمیت ہزاروں صحافی بیروزگار ہو جائیں گے۔ 

جوائنٹ سیکریٹری شکیل احمد ترابی نے خبر رساں ایجنسیوں کے لئے پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے نجی خبر رساں ایجنسیوں کو جاری نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبر رساں ایجنسیوں کو فوری طور پر بجٹ ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

ملاقات میں ویڈیو لنک کے ذریعے سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، نائب صدور سردار خان نیازی، اکرام سہگل، محمد حیدر امین، انور ساجدی، ڈاکٹر حافظ ثنا اللہ خان، سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق، چیئرمین پنجاب کمیٹی ارشاد احمد عارف، سابق انفارمیشن سیکریٹری کاظم خان، ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی، انفارمیشن سیکریٹری عبدالرحمان منگریو، جوائنٹ سیکریٹری غلام نبی چانڈیو، طاہر فاروق، تنویر شوکت، شکیل احمد ترابی اور عارف بلوچ نے شرکت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  25075
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے کہا ہے کہ کم سے کم وقت میں رپورٹ سامنے لائی جائے گی، ذمے داروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
پاکستان کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) کا کہنا ہے کہ ایران سے زائرین کو زبردستی لانے اور تفتان قرنطینہ سے فرار کرانے کے الزام پر وہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف عدالت سے رُجوع کریں گے۔
راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ راجگال فاٹا کا سب سے مشکل علاقہ ہے، اس کی 8 گزر گاہیںٕ ہیں، شوال کو بھی انشاءاللہ جلد کلیئرکر دیا جائے گا جہاں آج سے خیبر 4 آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع و پانی وبجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جہاں بجلی چوری ہوگی، وہاں لوڈشیڈنگ ضرور ہو گی۔ آئی پی پی پیز کی پیداوار کم ہونے کی بات درست نہیں ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی شکایات درست ہیں، طلب میں بے پناہ اضافہ ہواہے تاہم لوڈ شیڈنگ کم ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔

مزید خبریں
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

مقبول ترین
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں