Wednesday, 21 August, 2019
ملک میں احتساب کے نام پر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے، سعد رفیق

ملک میں احتساب کے نام پر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے، سعد رفیق

لاہور ۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عدلیہ سے کوئی اختلاف نہیں، لیکن اگر کوئی فیصلہ قانون و انصاف کے منافی ہے تو ہم اس پر بات کریں گے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 'عمران خان نے بار بار کہا کہ ان کی آف شور کمپنی ہے مگر انہیں جانے دیا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے لیے اور عمران خان کے لیے فیصلے اور طرح کے ہیں'۔

سعد رفیق نے کہا، 'ہم جن سے مد مقابل ہیں ان سے زیادہ ڈیلیور کیا، اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا وہ اپوزیشن میں ہے، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی خیبرپختونخوا میں حکومت رہی، 18 ویں ترمیم کےبعد صوبائی حکومتیں بہت طاقتور ہیں، اب تمام صوبوں کے لوگ اپنی اپنی حکومتوں سے حساب مانگیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم لوگوں کو چور چور نہیں کہتے، ہم نے ساڑھے چار سال مسلسل سازش اور دباؤ کا سامنا کیا، گالیاں سنیں، ہم پر بے ہودہ الزامات لگائے گئے، احتساب کا گھناؤنا کھیل کھیلا گیا، ملک میں شفاف احتساب نہیں ہے، یہ لوگوں کو استعمال کرنے کا طریقہ ہے'۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ 'انتخابات قریب ہیں اب مخالفین کی گالی گلوچ کی شدت بڑھ جائے گی لیکن الیکشن والے دن ہی فیصلہ ہوگا کہ گالی جیتی یا کارکردگی، اگر گالی جیتی تو عمران خان جیت جائیں گے اور اگر کارکردگی جیتی تو نواشریف جیتیں گے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی شریف آدمی ہیں، اگر وہ کوئی تحفظات سامنے لائے ہیں تو اس میں بڑا وزن ہے، اگر اسپیکر ایسا سوچے تو اس کا ہر سطح پر نوٹس لیے جانا چاہیے اور ایسی چیزوں کا تدارک ہونا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور فوج سمیت تمام ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں ساتھ ہوں تو ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، اگر ہم اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے رہیں تو چھوٹی موٹی چیزیں چلتی رہتی ہیں، اگر ہم ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ بننے کی روایت اپنالیں اور اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں تو کوئی خطرہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں لیکن اگر کوئی بینچ ایسا فیصلہ دیتا ہے جو قانون و انصاف کے منافی ہے تو اس پر بات کریں گے اور وہ آئین و قانون کےدائرے میں ہے۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے حدیبیہ کا فیصلہ بھی کیا، اگر کوئی بینچ یا جج ایسا فیصلہ کریں گے جو ہماری دانست یا تشریح میں قانون و انصاف سے متصادم ہے تو اسے عدلیہ پر چڑھائی قرار دینا مناسب نہیں، چیف جسٹس نے ٹھیک کہا کہ عدلیہ کو گالیاں نہیں دینی چاہیئیں، عدلیہ کی بے توقیری بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن جج بھی خیال کریں کہ ریمارکس پاس کرتے وقت سوچیں ان کا اپنا مرتبہ اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے کیس کی کہانی پاناما سے شروع کی گئی لیکن وہ بیچ میں آیا ہی نہیں بلکہ انہیں اقامہ پر نااہل کیا گیا، دوسری طرف عمران خان بار بار کہہ رہے ہیں کہ ان کی آف شور کمپنی ہے، ان کے بارے میں کہا گیا کوئی بات نہیں اور ان کو جانے دیا گیا۔

سعد رفیق نے کہا کہ 'جہانگیر ترین کے معاملے میں کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی، کوئی ریفرنس نہیں بنا، کوئی جج مقرر نہیں دیا گیا، ہمارے لیے اور عمران خان کے لیے فیصلے اور طرح کے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں جانتا چاہتا ہوں کہ عمران خان اور شیخ رشید کو کون بتاتا ہے کہ اب کس کی باری ہے، اب کسے رگڑنا ہے،انہیں اس کا جواب دینا پڑے گا'۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79440
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا)نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ عید کے موقع پر کوئی بھی سپیشل پروگرام نشر نہ کریں کیونکہ اس سے پاکستانی اور کشمیری عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے شہباز شریف خاندان کیخلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ان کے 150 بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا ہے۔ میڈیا کے مطابق نیب کی جانب سے اس معاملے پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خط لکھا
وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا چیئرمین نیب کو (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے منتخب کیا، چیئرمین نیب کی تقرری میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں، جس نے جو کیا وہ بھگتے گا، ہمارے ارکان بھی نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں
قومی احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو لاہور ٹول پلازہ سے گرفتار کرلیا۔ میڈیا کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی لاہور ٹول پلازہ سے گزر رہے تھے کہ وہاں موجود پولیس نے انہیں روکا اور بعد ازاں

مقبول ترین
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری
وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور وہ کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں