Monday, 18 November, 2019
قومی اسمبلی: اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر احتجاج

قومی اسمبلی: اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر احتجاج

اسلام آباد ۔ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری اور پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر تنقید کی بوچھاڑ کی۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی گرفتاری اور پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے پر اپوزیشن اراکین نے سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کی۔

اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اراکین کو بتایا کہ چئیرمین نیب نے مطلع کیا ہے کہ خورشید شاہ کو بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے اسمبلی کے اندر اور باہر خوب احتجاج کیا اور اسپیکر قومی اسمبلی کے استعفے کا مطالبہ کیا، جب کہ بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن اراکین اسپیکر ڈائس کے پاس پہنچ گئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین مثال ہے، اراکین کو ایک ایک کرکے جیلوں میں بند کیا جارہا ہے ایسا تو شاید سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں تھا۔

پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے سے متعلق نوید قمر نے کہا کہ اتنے لوگوں کو گرفتار کرکے اسمبلی میں نہ لانا سمجھ سے باہر ہے، خورشید شاہ، نواز شریف اور آصف زرداری کو قید کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا حالانکہ کسٹوڈین آف ہاؤس کی ذمہ داری ہے کہ اراکین کے حقوق کا خیال رکھیں۔

خطاب میں پیپلز پارٹی رہنما نے مزید کہا کہ ہم عوام کے ووٹ لے کر آئے ہیں، اسپیکر اسمبلی کو پی ٹی آئی کی طرح چلانا چاہتے ہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ نوید قمر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طاقت کے نشے میں دھت ہیں، مہنگائی کا طوفان برپا ہوچکا ہے، لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوگئی ہیں، جب عوام اٹھیں گے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حق نمائندگی سے محروم رکھا گیا ہے، اگر پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہوئے تو پھر عدالت جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی آرڈیننس کے ذریعے کی جارہی ہے جب کہ آرڈیننس پر کبھی بحث نہیں ہوئی، صدر بھی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرکے چلے گئے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آج علامتی احتجاج ہے پھر یہ کوئی اورصورت بھی اختیار کرسکتا ہے کیونکہ مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس سے معاشی حالات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس بھی پڑا ہوا ہے، ایف بی آر بھی ٹیکس کا ٹارگٹ پورا نہیں کرسکا اور جو کچھ میڈیا کے ساتھ ہورہا اس کے حالات بتانے کی ضرورت نہیں۔

ایوان میں اپوزیشن اراکین کے احتجاج پر مراد سعید نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے کالی پٹی باندھی توسمجھا یہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں لیکن یہ تو اپنا رونا رو رہے ہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ نیب کا ادارہ آزاد ہے، آپ نے ہی اس کے چیئرمین کا انتخاب کیا تھا باہر ابھی جو تقریریں ہوئیں ملکی مفاد میں نہیں،کسی کو سنانے کے لیے تھیں۔

مراد سعید نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا اجلاس آ رہا ہے، ہمیں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، امید نظر آ رہی ہے کہ کشمیر پر پاکستان کا بیانیہ دنیا میں پہنچ رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  83476
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے تاہم کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہیں۔ مذاکرات کے بعد مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز خٹک
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کے کسی جلسے اور ریلی کو نہیں روکا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے دورہ امریکا پر حکومتی
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم کو سیلیکٹڈ کہنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی گئی تاہم اسپیکر نے سیلیکٹڈ کا لفظ ہذف کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہذف شدہ الفاظ کا
قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس جاری ہے جس میں اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرکے حکومت سے دوبارہ بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا تو چیئرمین

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں