Monday, 09 December, 2019
چیف جسٹس پنجاب میں صاف پانی کی عدم فراہمی پر برہم

چیف جسٹس پنجاب میں صاف پانی کی عدم فراہمی پر برہم

لاہور۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے صوبہ پنجاب میں صاف پانی کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ انتظامیہ صحت اور تعلیم پر کیا اقدامات کر رہی ہے؟

سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں پنجاب سمیت پاکستان بھر میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی یبنچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی.

عدالتی حکم پر چیف سیکریٹری پنجاب زاہد سعید عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے چیف سیکریٹری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت صحت اور تعلیم پر کیا اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ لوگ صرف خرچ کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے آگرآپ اچھا اقدام اٹھائیں گے تو اس کو سراہا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گھروں میں پینے والے پانی میں آرسینک کی مقدار کتنی ہے؟

انہوں نے ہسپتالوں ،کالجز ،اسکولز میں پانی کے معیار سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت جاری کیں جبکہ ریمارکس دیئے کہ نجی کالجز بھاری فیسں وصول کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'چیف سیکریٹری صاحب ہم ایک ھفتہ لاہور میں ہی ہیں، آپ اپنی ساری مصروفیات ختم کرکے ہمارے ساتھ رہیں'۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ پنجاب حکومت شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے کراچی میں سہولیات کے لیے بھی اقدامات اٹھانے کی ہدایات دیں، اب پنجاب کی باری ہے۔

انہوں نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ ابھی پی آئی سی چلیں،وہاں دی جانے والی سہولیات کو دیکھتے ہیں۔

بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور چیف سیکرٹری پنجاب کے ہمراہ مئیو ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کے مختلف حصوں کا دورہ بھی کیا۔

ان کے دورے کے دوران میو ہسپتال کے میڈیکل سپر انٹینڈنٹ (ایم ایس) نے چیف جسٹس پاکستان کو ہسپتال کے حوالے سے بریفنگ دی۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ مریضوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہسپتال میں پینے کے پانی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مریضوں اور انکے لواحقین کو صاف پانی ملنا چاہیے۔

انہوں نے ایم ایس میو ہسپتال کو ہدایت جاری کیں کہ ہسپتال میں واٹر فلٹر لگائے جائیں۔

سیکرٹری پنجاب کو وارننگ جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

میو ہسپتال کے دورے کے دوران انہں نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صاف پانی، صحت اور تعلیم کی بہتری کے لئے جو بھی اقدامات ممکن ہوں کیے جائیں

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے نزدیک شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بہت اہم ہے، عدلیہ صحت اور تعلیم کے شعبہ کا مسلسل جائزہ لیتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28318
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
رکن پنجاب الیکشن کمیشن جسٹس ریٹائرڈ الطاف ابراہیم قریشی نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے، ممبر کے پی کے جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے الطاف ابراہیم قریشی سے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کاحلف لیا، 2 رکنی الیکشن
جسٹس گلزار احمد کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت قانون کی جانب سے جسٹس گلزار احمد کی بطور چیف جسٹس تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس گلزار احمد
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔ عدالت نے کہا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق حکومت کا سارا کیس آرٹیکل 255 کے گرد گھوم رہا ہے
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خود کسی کو باہر جانے کی اجازت دی تھی، ہائی کورٹ نے صرف جزئیات طے کیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کا عدلیہ سے متعلق بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا

مقبول ترین
نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کوشش ہو گی کہ حکومت سے پُر خلوص بات چیت کی جائے۔ اِس وقت شہباز شریف اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ لاہور پہنچے ہیں۔ انہوں نے داتا دربارؒ پر حاضری دی، مزار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر ملکی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں۔
لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ریویو میں جانا ہے یا قانون بنانا ہے؟
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کی حکمرانی کے لیے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے اور حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں