Friday, 30 October, 2020
’’اپوزیشن کا حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان‘‘

’’اپوزیشن کا حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان‘‘

اسلام آباد ۔ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے حکومت مخالف نیا اتحاد بنا لیا. جنوری 2021ء میں حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت مخالف الائنس کے نام پر مشاورت کے بعد اسے ‘’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ کا نام دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی طرز پر میثاق کی تیاری کے لیے کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ نئے میثاق کا نام ‘’چارٹر آف پاکستان’’ ہوگا۔ اس کے علاوہ آل پارٹیز (اے پی سی) کانفرنس میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف یہ لانگ مارچ جنوری 2021ء کو ہوگا۔

اپوزیشن کے لانگ مارچ سے قبل ملک بھر میں ریلیاں اور جلسے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اے پی سی نے وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں 26 نکاتی قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے قومی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1947ء سے اب تک تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ٹروتھ کمیشن اور چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اپوزیشن کی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کی سمت کا تعین کرے گی جبکہ قومی اتحاد حکومت کے خلاف منظم احتجاجی تحریک چلائے گا۔

اے پی سی کی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں شفاف آزادانہ انتخابات کرائے جائیں۔ جھوٹے مقدمات میں گرفتار ارکان کو رہا کیا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشتگردی واقعات میں اضافہ ہوا۔ ناتجربہ کار حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خطرے میں ڈال دیا۔

اپوزیشن کی متفقہ قرارداد میں گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل کی اے پی سی قرارداد کی بھی توثیق کی گئی۔ قراردار میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کے شہریوں کو لاپتا بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اے پی سی اجلاس میں پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے، ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے مذموم ارادے اور اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی مذمت کی گئی۔

قرارداد کے متن میں الزام عائد کیا گیا کہ ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت سقوط کشمیر کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ آغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد یقینی بنانے اور بلوچستان میں ایف سی کی جگہ سول اتھارٹی بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میڈیا کو اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ‘’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ کے نام سے نیا اتحادی ڈھانچہ تشکیل دیدیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت کو دھاندلی سے مسلط کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ الیکشن میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تباہ حال معیشت ملک کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آٹا، چینی، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کیا جائے۔

جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ پر حملوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ صدارتی نظام کے مذموم ارادے کو مسترد کرتے ہیں۔ سلیکٹڈ حکومت نے پارلیمان کو بے توقیر کرکے مفلوج کر دیا ہے۔ پارلیمان کی بالادستی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اے پی سی اجلاس میں ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت کو سقوط کشمیر کی ذمہ دار قرار جبکہ افغان پالیسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو رول بیک کرکے اس کا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حالیہ فرقہ وارانہ تناؤ میں حکومت کی مجرمانہ غفلت کی مذمت کرتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ تمام گرفتار صحافیوں کو رہا اور مقدمات خارج کیے جائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں غیر جانبدار ججز کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑنے پر شدید تشویش کا اظہار اور مذمت کی گئی۔ اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج کے بعد ربڑ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی تعاون نہیں کرے گی۔ میڈیکل کمیشن سمیت شہری آزادیوں کے خلاف قانون سازی کو واپس لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتی ہے۔ دسمبر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ جنوری 2021ء میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا۔

اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا میڈیا سے گفتگو کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں اتفاق رائے سے فیصلے کیے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ سوا 2 سال میں معیشت کا بیڑہ غرق کیا گیا۔ حکومت کا مزید قائم رہنا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ ڈیموکریٹک موومنٹ کل سے کام شروع کرے گی۔ ہم ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ سلیکٹڈ حکومت کیخلاف نکل رہے ہیں، امید ہے عوام ساتھ دیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پاکستان میں حقیقی جمہوریت لانا چاہتے ہیں۔ سلیکٹڈ حکومت کی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ اپوزیشن متحد، پوری طاقت کے ساتھ تحریک چلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی معاہدے سے پیچھے ہٹے، اس کا حساب لیا جائے۔ حکومت اور سہولت کاروں کیخلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد، استعفے اور احتجاج جمہوری آپشنز ہیں۔ ہم ملک میں شفاف الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مائنس ون کا ذکر خود کیا تھا۔ سلیکٹڈ کو کسی اور سلیکٹڈ سے تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 36 ارکان باغی نہیں ہیں۔ کچھ ارکان کے کورونا ٹیسٹ مثبت تھے۔ ارکان کا مشترکہ اجلاس میں نہ آنا سازش نہیں تھی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم قومی اسمبلی میں ارکان کی درست گنتی چاہتے تھے۔ اجلاس میں گنتی کے دوران شہزاد اکبر کو بھی گنا گیا۔ ہم نے ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کا جمہوری طریقوں سے مقابلہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  11171
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، پاکستان پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار
وزیر اطلاعات پنجاب شبلی فراز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سابق حکومتوں نے اداروں کو تباہ حال کر کے بے سمت کیا، عمران خان نے ملکی سمت درست کر کے ترقی کی راہ پر ڈال دیا، پاکستان کے عوام باشعور ہیں، ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے مزید بے وقوف نہیں بناسکتے
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلا وجہ کارروائی نے بے شمار زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ عمران خان نیب کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے لکھا کہ نیب میں کورونا
سینیٹ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اصل سوال ہے یہ ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ کا کورونا بحران میں کیا کام ہے؟ وزیراعظم ملک کا سب سے ذمے دار آدمی ہے، کیا وزیراعظم نے اپنی ذمےداری نبھائی؟ وزیراعظم نے ذمےداری نہیں

مزید خبریں
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

مقبول ترین
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھارتی ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی سے متعلق بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے معاملہ مسخ کرنے اور پاکستان کی فتح متنازعہ بنانے کی کوشش قرار دیدیا ہے۔
پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگر آباد میں مدرسے سے ملحقہ مسجد میں دھماکے میں 8 افراد جاں بحق اور 110 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈکلیئر اور ڈاکٹروں
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے اہم معاملے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں متفقہ قرار دادیں منظور کر لی گئیں۔ قراداد منظور ہونے کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کا ایوان نعرہ تکبیر اللہ اکبر سے گونج اٹھا۔ منظور کی گئی قرار داد کے مطابق یہ ایوان فرانس
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو اگلے سال 2021 تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور یوں بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی کوششیں ناکام ہوگئی۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان فی الحال ایف اے ٹی ایف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں