Monday, 10 May, 2021
’’ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو، مریم نواز شریف کا چیلنج‘‘

’’ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو، مریم نواز شریف  کا چیلنج‘‘

کراچی ۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ قریبی رشتوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی بجائے ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو۔ میڈیا کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے بعد عدالت پیشی کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا اہم اجلاس ہوا۔  اجلاس میں مریم نواز، اختر مینگل، میاں افتخار، اویس نورانی، راجہ پرویز اشرف، پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور راشد محمودسومرو سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔ اجلاس میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر بات چیت اور مشاورت کی گئی۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ  قائداعظم کےمزار پر ان کے فرمودات کو دہرانا کون سا گناہ ہے؟  قائداعظم کے مزار پر نوازشریف زندہ باد یا مریم زندہ باد کے نعرے نہیں لگے، بلکہ صرف ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے گئے، مزار قائد پر ہلڑ بازی پی ٹی آئی نے کی تھی، اور ہمارا مزار قائد پر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی گناہ بن گیا، جانتی ہوں ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے کون ڈرتا ہے، فاطمہ جناح سے نواز شریف سب کو غدار قرار دیا گیا، سب کو معلوم ہے کہ نامعلوم افراد کون ہیں، جو خلائی مخلوق سے زمینی مخلوق بن گئے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ حکومت نے ہمارا کام آسان کردیا اور ہمیں قوم کو بتانے کا موقع دیا کہ نواز شریف سچ کہتے ہیں  کہ ملک میں ریاست کے اندر ریاست نہیں بلکہ ریاست سے بالا ریاست ہے، قریبی رشتوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی بجائے ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم دھمکیوں سے مرعوب ہوجائیں گے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ کراچی میں صفدر کی گرفتاری کا مقصد پی پی اور ن لیگ میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش ہے، صفدر کو پہلے سے دھکیاں مل رہی تھیں کہ آپ کو نہیں چھوڑیں گے، کیپٹن صفدر کیخلاف کیس کا مدعی دہشتگردی کیس میں اشتہاری ہے، تمام مقدمات میں ایک جیسےمدعی کیوں ہوتےہیں۔

پی ڈی ایم قیادت نےکیپٹن (ر) صفدرکی گرفتاری پرتشویش کااظہارکیا، وزیراعلیٰ سندھ نےفون کرکےکہاکہ ہم شرمندہ ہیں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے فون پر کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری میرے لیے باعث صدمہ ہے، انہیں جس طرح گرفتار کیا گیا وہ سندھ کی روایات کے خلاف ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کے کیپٹن صفدر کو آج گرفتار کیا گیا اور انہیں ان کی اہلیہ کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا، رینجرز نے ان کے کمرے کا دروازہ توڑ کر گرفتار کیا، کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا عمل شرمناک ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے حوالے سے  بے خبر رکھا گیا، اور پولیس پر دباؤ ڈال کر کیپٹن صفدر کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا، آج جو حرکت کی گئی ہے وہ بدمعاشی ہے اور یہ تمام عمل پی ڈی ایم میں اختلاف پیدا کرنے کی سازش ہے، پی ڈی ایم کا مطالبہ ہے کہ کیپٹن صفدر کو فوری رہا کیا جائے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدرکی گرفتاری پر ہم سب دکھی ہیں، ان کی گرفتاری شرمناک حرکت ہے،جس کی جتنی مذمت کی جائےکم ہے، اس سارے عمل سے وزیراعلیٰ سندھ کو  بھی لاعلم رکھا گیا،  بلاول بھٹو اور  آصف زرداری نے بھی کیپٹن (ر) صفدرکی گرفتاری پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان بلاول ہاوس کے مطابق صدر پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں موجودہ ملکی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، اور دونوں رہنماؤں نے رکاوٹوں کے باوجود جمہوریت کے استحکام کی جدوجہد کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  42158
کوڈ
 
   
مقبول ترین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار
یران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور کے مرکزی دھرنے سمیت ملک بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں