Saturday, 16 November, 2019
شریف خاندان حاضری سے استثنیٰ کے باوجود عدالت میں پیش

شریف خاندان حاضری سے استثنیٰ کے باوجود عدالت میں پیش

اسلام آباد۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف ٗان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر حاضری سے استثنیٰ کے باوجود 3 نیب ریفرنسز کی سماعت کیلئے احتساب عدالت میں پیش ہوئے سماعت کے دور ان نواز شریف کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی ہوئی جس پر جج محمد بشیر نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

شریف خاندان کے خلاف دائر 3 نیب ریفرنسز کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی ۔سماعت کے دور ان سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز نے حاضری سے استثنیٰ کی مدت میں تبدیلی کی درخواست جمع کرائی ۔ درخواست میں مریم نواز نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حاضری سے استثنیٰ کی مدت 5 دسمبر سے 5 جنوری کی جائے۔

دوران سماعت نواز شریف کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی ہوئی اور تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ جج محمد بشیر کو یہ کہنا پڑگیا کہ کیا وہ سماعت ادھوری چھوڑ کر چلے جائیں۔ نیب کے گواہ پر جرح کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان کے گواہ کو کنفیوژ کیا جا رہا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر بے جا مداخلت کرتے ہیں اس پر مجھے اعتراض ہے ۔ جب تک گواہ نہ بولے یہ اسے کیوں لقمہ دیتے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا کہ ہم لقمہ دینے کیلئے ہی کھڑے ہیں ۔ کیا خواجہ صاحب گواہ سے کچھ بھی پوچھیں اور ہم خاموش رہیں؟ ۔ جج محمد بشیر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے لڑنا ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں اور یہ تو سادہ سا گواہ ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کیسز کی سماعت کے دوران نیب استغاثہ نے شریف خاندان کے خلاف آر آئی اے اے بارکر جیلٹ لاء فرم سے تعلق رکھنے والے دو نئے گواہان محمد رشید اور مظہر رضا خان بنگش کو احتساب عدالت میں پیش کیا ۔ دونوں گواہان نے ایونفیلڈ ریفرنس کے حوالے سے اپنے بیانات عدالت میں قلم بند کروائے جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہان سے جرح کی۔

اپنے بیان میں محمد رشید نے کہا کہ انہیں نیب لاہور سے 5 ستمبر کو خط موصول ہوا تھا جس کے بعد وہ نیب میں پیش ہوئے اور متعلقہ دستاویزات تفتیشی افسران کے حوالے کردیں۔نیب استغاثہ افضل قریشی نے گواہوں کو پریشان کرنے کا الزاملگایا بعد ازاں خواجہ حارث اور افضل قریشی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

دوسرے گواہ مظہر رضا خان بنگش نے عدالت کو بتایا کہ وہ نیب لاہور کے سامنے اس سے قبل 30 اگست کو پیش ہوچکے ہیں جس میں انہوں نے متعلقہ دستاویزات تفتیشی افسران کو جمع کرائے تھے جن کی حلفیہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کو جمع کرائی جانے والی دستاویزات انہیں ان کی کمپنی کی جانب سے دی گئی تھیں جس پر وہ اپنی رائے نہیں دے سکتے۔

خواجہ حارث نے جرح کے دوران مظہر خان بنگش سے سوال کیا کہ سچ بولنا تو بڑا آسان ہے لیکن جھوٹ بولنا الگ ہوتا ہے جس پر نیب استغاثہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے کسی گواہ کو جھوٹا قرار دینا انتہائی نا مناسب ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران نیب استغاثہ نے دو گواہان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جوائنٹ رجسٹرار صدرہ منصور اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے محکمہ ان لینڈ ریوینیو کے جہانگیر احمد کو پیش کیا تھا۔ ان دونوں افراد نے شریف خاندان کے خلاف عدالت میں اپنے بیانات قلم بند کروائے تھے۔

قبل ازیں سابق نواز شریف کے عدالت پہنچنے پر کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے ان کا استقبال کیا۔ نواز شریف کو عدالت کی جانب سے 7 روز کے لیے استثنیٰ حاصل تھا تاہم پروگرام میں تبدیلی کے باعث وہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استغاثہ کے چار گواہان کو طلب کررکھا ہے۔ 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37654
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ لوگوں میں صبر نہیں، ابھی 13 ماہ ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان۔ وزیراعظم عمران خان نے احساس سیلانی لنگر اسکیم کا افتتاح کردیا، اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر
برطانوی عدالت نے نظام آف حیدرآباد فنڈ کیس میں 2 مرکزی فریقین کے درمیان فیصلہ نظام آف حیدرآباد کے ورثاء کے حق میں سنا دیا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق برطانوی عدالت میں نظام آف حیدرآباد فنڈ کیس سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی

مقبول ترین
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار
وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے
بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس رنجن

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں